تیکھے تیور، میٹھے بول بات نکلی ہے تو کتنی دور تک جائے گی۔ دیکھنا ہے ؟
--روما محمود--
دوستوں کی محفل ہو یا دفتر کا سنجیدہ ماحول، بعض اوقات "شریفانہ" جملے بھی وہ کام کر جاتے ہیں جو بڑی بڑی گالیاں نہیں کر پاتیں۔
شہر کی فضا میں ابھی شام کی خنکی پوری طرح اتری بھی نہ تھی کہ مرزا صاحب کے ڈرائنگ روم میں "جملہ بازی" کی تپش محسوس ہونے لگی۔ وہاں بیٹھے چار دوست بظاہر قہقہے لگا رہے تھے، مگر ان قہقہوں کے پیچھے وہ باریک بینی چھپی تھی جو کسی بھی ہنستی کھیلتی محفل کو میدانِ جنگ میں بدلنے کا ہنر رکھتی ہے۔
دوستوں کا وہ خاص وار جو ہر جگہ کام کر جاتا ہے۔
منصور نے بڑے فخر سے اپنی نئی گھڑی کی چمک دکھائی، جس کے لیے اس نے مہینوں کی بچت کی تھی۔ زاہد نے گھڑی کو دیکھ کر ایک گہری سانس لی، چہرے پر ایسی ہمدردی طاری کی جیسے منصور کی کسی بڑی ناکامی پر افسوس کر رہا ہو، اور دھیمے سے بولا،
"گھڑی تو خوبصورت ہے منصور! پر سنا ہے اس برانڈ کی 'فرسٹ کاپی' مارکیٹ میں اتنی عام ہو گئی ہے کہ اب اصل اور نقل کی تمیز ہی ختم ہو گئی۔ خیر، تمہیں تو پتہ ہی ہو گا کہ تم نے کیا لیا ہے۔
منصور کے چہرے کی سرخی بتا رہی تھی کہ وار نشانے پر لگا ہے۔ زاہد نے ایک گھونٹ چائے بھری اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ دیوار کی طرف دیکھنے لگا۔ اسے معلوم تھا کہ "نقل" کا شک ڈال کر اس نے منصور کی خوشی کا گلا گھونٹ دیا ہے۔
اب ہم ایک کارپوریٹ دفتر کی کینٹین میں تھے جہاں اسلم صاحب اپنی ٹیم کی کامیابی کا جشن منانے کی تیاری میں تھے۔ تبھی ناصر صاحب تشریف لائے، جو آفس میں "خاموش قاتل" کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے اسلم کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ماتھے پر ہمدردی کی لکیریں سجاتے ہوئے کہا،
"بہت بہت مبارک ہو اسلم! باس تمہارے کام سے بہت متاثر ہیں۔ ویسے سچ کہوں تو خوش قسمت ہو تم۔ تمہارے پچھلے تین پروجیکٹس تو ناکام ہوئے تھے، پر اس بار لگتا ہے قسمت تمہاری 'نااہلی' پر غالب آ گئی۔"
اسلم کا ہاتھ نوالہ توڑتے ہوئے رک گیا۔ تعریف میں چھپی اس توہین نے اسے ایسا بھڑکایا کہ وہ جواب دینے کے لیے لفظ ڈھونڈتا رہ گیا، مگر ناصر صاحب تو بڑے سکون سے اپنا مگ اٹھائے "انجوائے" کہتے ہوئے آگے بڑھ چکے تھے۔
کہتے ہیں کہ زبان کے پاس ہڈی نہیں ہوتی، لیکن یہ ہڈیاں پسوانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ چاہے آپ اپنے کسی "پیارے" دوست کے ساتھ بیٹھے ہوں یا باس کی نظروں کے سامنے دفتر میں، بس تھوڑی سی 'تکنیکی تبدیلی' کر کے آپ کسی کا بھی پارہ ہائی کروا سکتے ہیں۔
دوستوں میں آگ لگانے کے لیے گالی گلوچ کی ضرورت نہیں، بس تھوڑا سا احساسِ کمتری جگانا کافی ہوتا ہے۔
کوئی دوست اپنی نئی گاڑی یا ترقی کی خبر سنائے تو فوراً کہیے: "مبارک ہو بھائی! ویسے سنا ہے اس ماڈل میں انجن کا بڑا مسئلہ چل رہا ہے، خیر تمہیں کیا، تم نے تو ویسے بھی قسطوں پر لی ہوگی۔"
جب کوئی اپنی پریشانی بتائے تو ہمدردی کے بجائے کہیے: "یار تمہارے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کیوں ہوتا ہے؟ کہیں تمہاری اپنی ہی تو کوئی غلطی نہیں؟"
پوری محفل ہنس رہی ہو تو آپ موبائل نکال کر ایسے دیکھنے لگیں جیسے وہاں موجود لوگ بہت "بور" اور "بچگانے" ہیں۔ جب کوئی پوچھے تو بس ایک ٹھنڈی آہ بھر کر کہیے: "تم لوگ بھی کن فضول باتوں پر خوش ہو جاتے ہو۔"
دفتر میں براہِ راست لڑائی کی گنجائش کم ہوتی ہے، اس لیے یہاں "پروفیشنل ازم" کا لبادہ اوڑھ کر وار کیا جاتا ہے۔
کسی کی غلطی پر اسے اکیلے میں بتانے کے بجائے پورے ڈپارٹمنٹ اور باس کو 'CC' میں رکھ کر لکھیں: "جیسا کہ میں نے پہلے بھی کئی بار رہنمائی کی تھی، شاید آپ کو سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے۔ امید ہے اب آپ سیکھ لیں گے۔"
میٹنگ میں جب کوئی آئیڈیا دے، تو فوراً کہیے: "بالکل! یہی بات میں نے پچھلے ہفتے سوچی تھی، اچھا ہوا آپ نے اسے تھوڑے 'سادہ' الفاظ میں دہرا دیا۔"
کسی ساتھی کے کام پر کہیے: "واہ! تم نے یہ رپورٹ اتنی جلدی بنا لی؟ تبھی میں کہوں کہ اس میں اتنی غلطیاں کیسے رہ گئیں۔"
کسی کو بھڑکانے کے لیے ضروری ہے کہ آپ خود بالکل "ٹھنڈے" رہیں۔ جتنا آپ کا لہجہ دھیما اور چہرے پر مسکراہٹ ہوگی، اگلا بندہ اتنا ہی زیادہ تلملائے گا۔
جہاں الفاظ نشتر بن کر لہو گرائے بغیر روح کو چھلنی کرتے ہیں۔
وہ آخری مکے (The Final Blows)
یہ لوگ جانتے ہیں کہ کسی کو آگ لگانے کے لیے چلا کر بولنا ضروری نہیں ہوتا۔ ان کے ترکش میں چند ایسے تیر ہمیشہ ہوتے ہیں جو خاموشی سے جگر کے پار ہو جاتے ہیں۔
موازنے کا خنجر، "تمہاری کوشش تو اچھی تھی، مگر کاش تم میں تھوڑی سی 'وہ' بات ہوتی جو تمہارے چھوٹے بھائی میں ہے۔"
خاموشی کا طنز، جب کوئی پوری جان لگا کر اپنی بات سمجھا رہا ہو، تو بس اتنا کہنا: "ہاں ٹھیک ہے، تمہارا اپنا ایک 'محدود' سا نظریہ ہے، میں بحث نہیں کروں گا۔"
عقل پر حملہ،"تمہارا قصور نہیں ہے، انسان کی سوچ اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس کی تعلیم اجازت دے۔"
محفل برخاست ہوئی، مگر دلوں میں گرہیں لگ چکی تھیں۔ وہ جملے جو دھیمے لہجے میں ادا کیے گئے تھے، اب رات بھر ان کے کانوں میں گونجنے تھے۔ جراح (سرجن) تو جسم کاٹتا ہے، مگر یہ "جملہ باز" شخصیت کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔
جب نشتر تیز ہوں تو ڈھال کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔ ان "لفظی شکاریوں" کا شکار ہونے کے بجائے، انہیں ان کے اپنے ہی جال میں الجھانے کا فن ایک الگ ہی انداز رکھتا ہے۔
جوابِ آں غزل" پلٹ کر وار اگر کر دیں تو جواب یہ ہونا چاہیے۔
اسی ڈرائنگ روم اور اسی کینٹین میں فضا بدلی ہوئی تھی۔ اب نشتر چلانے والوں کو اندازہ نہیں تھا کہ سامنے والا "زہر مہرہ" پی کر بیٹھا ہے۔
جب نقل کا شک لوٹ کر آیا
جب زاہد نے منصور کی نئی گھڑی کو "فرسٹ کاپی" کہہ کر اس کی خوشی کا گلا گھونٹنا چاہا، تو منصور نے غصے کے بجائے ایک لمبی، پرسکون مسکراہٹ اپنے لبوں پر سجائی۔ اس نے اپنی کلائی زاہد کی آنکھوں کے عین سامنے کی اور دھیمے سے بولا،
"زاہد میاں! تم ٹھیک کہتے ہو۔ جس نے زندگی بھر صرف 'نقل' ہی دیکھی ہو، اسے 'اصل' کی چمک ہمیشہ مشکوک ہی لگتی ہے۔ تمہاری نظر کا قصور نہیں، تمہارے تجربے کی کمی ہے۔
زاہد کی فاتحانہ مسکراہٹ وہیں منجمد ہو گئی۔ اب محفل کا رخ مڑ چکا تھا اور زاہد اپنی نظر کی صفائیاں دینے پر مجبور تھا۔
دفتر کا معرکہ قسمت کے طعنے کا توڑ
کینٹین میں جب ناصر صاحب نے اسلم کی کامیابی کو "نااہلی پر غالب آنے والی قسمت" قرار دیا، تو اسلم نے اپنا نوالہ بڑے اطمینان سے چبایا۔ اس نے ناصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بڑے مشفقانہ لہجے میں کہا،
"ناصر بھائی! آپ کی یہ بات سن کر دل کو بڑا سکون ملا۔ کم از کم آپ نے یہ تو تسلیم کیا کہ 'قسمت' مجھ پر مہربان ہے۔ اب جس سے خدا راضی ہو، اس سے بندوں کا جلنا تو بنتا ہی ہے۔ ویسے محنت تو آپ بھی بہت کرتے ہیں، بس دعا کریں اگلی بار قسمت آپ کا پتہ بھی ڈھونڈ لے۔
ناصر صاحب جو اسلم کو بھڑکتا دیکھنا چاہتے تھے، خود اپنے ہی طنز کے بوجھ تلے دب گئے۔ وہ وہاں سے ایسے کھسکے جیسے پیروں تلے زمین نکل گئی ہو۔
وہ جملے (Ultimate Comebacks) جو خاموش کر دیں۔
اگر کوئی آپ کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے، تو یہ چند جملے کسی ایٹمی وار سے کم نہیں۔
"تمہاری بات میں کوئی منطق نہیں۔"
"منطق سمجھنے کے لیے بھی ایک خاص سطح کی 'ذہانت' درکار ہوتی ہے، جو شاید ہر کسی کا مقدر نہیں۔"
"تمہارا تو کام ہی یہی ہے۔"
"جی بالکل! اور میرا کام اتنے کمال کا ہے کہ آپ کو نوٹس لیے بغیر چین نہیں آتا۔"
"میں تو تمہارے بھلے کے لیے کہہ رہا ہوں۔"
آپ کی ہمدردی کا بوجھ اٹھانے کے لیے میرے کندھے ابھی اتنے کمزور نہیں ہوئے۔ شکریہ!"
"تمہاری قسمت اچھی تھی۔"
جی ہاں! اور اللہ کا شکر ہے کہ میری قسمت میری محنت سے زیادہ تیز نکلی۔"
عقلمند کہتے ہیں کہ تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا نہیں۔
مگر میرا ماننا ہے کہ اگر آپ کے پاس "حاضر جوابی" کی ڈھال ہے، تو کوئی بھی نشتر آپ کو چھو کر بھی نہیں گزر سکتا۔ زندگی ایک اسٹیج ہے، جہاں کچھ لوگ آپ کو گرانے کے لیے سکرپٹ لکھ کر لاتے ہیں، آپ کو بس اتنا کرنا ہے کہ ان کے سکرپٹ میں اپنی مرضی کا 'کلائمکس' ڈال دیں۔


Comments