یومِ یکجہتیٔ کشمیر — خاموش دنیا، لہو لہان ضمیر

 

 


پانچ فروری ایک بار پھر عالمی ضمیر پر فردِ جرم عائد کرتا ہے۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی ایک پوری قوم اپنی شناخت، آزادی اور حقِ خودارادیت کے لیے قربانیاں دے رہی ہے، جبکہ دنیا طاقت، مفاد اور سفارتی مصلحتوں کے پیچھے چھپ کر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

 اس دن کو 1990 سے منانا شروع کیا ۔ جب کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ملک گیر سطح پر اس دن کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

عالمی برادری کو یہ یاد دلانا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ابھی باقی ہے۔

یہ دن اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم کے دل اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔

کشمیر کوئی داخلی مسئلہ نہیں، جیسا کہ بارہا ثابت کیا جا چکا ہے، بلکہ یہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے جس پر اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادیں موجود ہیں۔ ان قراردادوں کا کھلے عام مذاق اڑایا جا رہا ہے، مگر عالمی ادارے محض تشویش کے رسمی الفاظ تک محدود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر اقوامِ متحدہ اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کرا سکتی تو اس کے وجود کا جواز کیا رہ جاتا ہے؟

وقت کا پہیہ گھومتا رہتا ہے، کیلنڈر کی تاریخیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن کچھ درد ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں دھندلانے کے بجائے مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ 5 فروری کا دن بھی ایک ایسا ہی استعارہ ہے۔ یہ محض ایک سرکاری تعطیل یا جلسے جلوسوں کا دن نہیں، بلکہ یہ اس عہد کی تجدید ہے جو ہم نے برسوں پہلے اس وادی سے کیا تھا جسے قدرت نے "زمین پر جنت" بنایا، مگر انسانوں نے اپنی ہوسِ زر اور جبر سے اسے مقتل میں بدل دیا۔

​کشمیر کی کہانی صرف نقشوں اور سرحدوں کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ان ماؤں کی کہانی ہے جو اپنے جوان بیٹوں کی راہ تکتے تکتے بینائی کھو بیٹھیں، یہ ان بچوں کا نوحہ ہے جن کے خواب پیلٹ گنز کی چھروں نے چھین لیے، اور یہ اس بوڑھے باپ کی پکار ہے جس نے اپنے کندھوں پر اپنے خاندان کے مستقبل کے جنازے اٹھائے۔

وادیٔ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک کھلی جیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ طویل کرفیو، مواصلاتی بلیک آؤٹ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور پیلٹ گنز جیسے ہتھکنڈے انسانی تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اور ممالک اس ظلم پر یا تو خاموش ہیں یا پھر اسے نظر انداز کرنے میں سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔

عالمی برادری کا دوہرا معیار اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہا۔ جہاں مفاد ہو، وہاں انسانی حقوق جاگ جاتے ہیں، اور جہاں مفاد ٹکراتا ہو، وہاں انسانیت دم توڑ دیتی ہے۔ کشمیر اس منافقت کی بدترین مثال ہے۔ اگر یہی ظلم کسی اور خطے میں ہوتا تو شاید عالمی پابندیاں، کمیشن اور ہنگامی اجلاس اب تک منعقد ہو چکے ہوتے۔

پاکستان کا مؤقف واضح، اصولی اور دوٹوک ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام نے کرنا ہے، بندوق، قانون سازی یا آبادی کے تناسب کو بدلنے کے ذریعے نہیں۔ یومِ یکجہتیٔ کشمیر محض اظہارِ یکجہتی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے کہ یہ مسئلہ دبانے سے نہیں، حل کرنے سے ختم ہوگا۔

​دنیا جب انسانی حقوق کی بات کرتی ہے، جب جمہوریت کے گن گائے جاتے ہیں اور جب پرندوں کے حقوق پر لمبی چوڑی تقاریر ہوتی ہیں، تو حیرت ہوتی ہے کہ کشمیر کی خاموش وادی میں انسانیت کا لہو بہتے ہوئے کسی کو کیوں نظر نہیں آتا؟ کیا کشمیریوں کا لہو اتنا ارزاں ہے کہ عالمی طاقتوں کے معاشی مفادات کے سامنے اس کی کوئی قیمت نہیں؟

​اقوامِ متحدہ کی قراردادیں دھول چاٹ رہی ہیں، جبکہ وادی میں کرفیو اور پابندیوں کا پہرہ ہے۔ انٹرنیٹ بند کر دینے سے آوازیں تو دبائی جا سکتی ہیں، لیکن آزادی کی وہ تڑپ نہیں مٹائی جا سکتی جو کشمیریوں کے خون میں دوڑ رہی ہے۔

اب وقت آ چکا ہے کہ دنیا رسمی بیانات، تشویش کے اظہار اور سفارتی جملوں سے آگے بڑھے۔ اگر کشمیریوں کو انصاف نہ ملا تو یہ صرف ایک خطے کی ناکامی نہیں ہوگی، بلکہ عالمی انصاف کے پورے نظام کی شکست ہوگی۔ تاریخ خاموش رہنے والوں کو بھی اسی صف میں کھڑا کرے گی جہاں ظالم کھڑے ہوتے ہیں۔

یومِ یکجہتیٔ کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حق دب سکتا ہے، مٹایا نہیں جا سکتا — اور کشمیری عوام کی جدوجہد ایک دن ضرور رنگ لائے گی۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر ظلم کی حد پار ہوئی ہے، وہیں سے آزادی کا سورج طلوع ہوا ہے۔ جبر کی دیواریں کتنی ہی بلند کیوں نہ ہوں، حق کی ایک ننھی سی کرن انہیں پاش پاش کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ پاکستان کا بچہ بچہ کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے، اور یہ یکجہتی صرف جذباتی نہیں بلکہ نظریاتی اور انسانی بنیادوں پر استوار ہے

​ہمیں آج کے دن یہ سوچنا ہوگا کہ کیا صرف ایک دن کی ریلی اور چند تقریریں کافی ہیں؟ نہیں۔ ہمیں عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے جدید دور کے ہتھیار یعنی میڈیا، سفارت کاری اور معیشت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ کشمیر صرف پاکستان کی شہ رگ نہیں، بلکہ یہ انسانیت کا وہ زخم ہے جس کا علاج صرف اور صرف "انصاف" ہے۔

​وہ دن دور نہیں جب وادیِ چنار میں پھر سے امن کے گیت گائے جائیں گے اور کشمیری عوام اپنی مرضی سے اپنی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔ کیونکہ ظلم جب حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔