آرائین برادری اور میاں خاندان ۔
---روما محمود۔---
برصغیر میں آرائیں (Arain) قوم کی
تاریخ اور ان کا "آریائی" (Aryan) لفظ سے تعلق ایک دلچسپ بحث ہے۔ عوامی روایات اور تاریخی حقائق کے درمیان اس قوم کی جڑیں تلاش کرنا کافی اہمیت رکھتا ہے۔
آرائیں قوم کے بارے میں تین بڑے نظریات پائے جاتے ہیں:
عرب نژاد (محمد بن قاسم کے ساتھ آمد)
سب سے مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ آرائیں قوم کا تعلق عرب سے ہے۔
• القریص (Al-Araiss): کہا جاتا ہے کہ یہ لفظ شام کے ایک علاقے "ریحا" یا "ارحا" سے نکلا ہے۔
• تاریخی پس منظر: جب 712ء میں محمد بن قاسم نے سندھ فتح کیا، تو ان کے لشکر میں شام (Syria) کے کئی قبائل شامل تھے۔ یہ لوگ کاشتکاری کے ماہر تھے اور بعد میں پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں آباد ہو گئے۔
• نام کی تبدیلی: وقت کے ساتھ ساتھ "ارحائی" یا "القریص" بگڑ کر "آرائیں" بن گیا۔
کچھ لوگ لفظی مشابہت کی وجہ سے انہیں قدیم آریائی نسل سے جوڑتے ہیں جنہیں ہٹلر نے سب سے معتبر قوم کہا۔
• اس نظریے کے مطابق، آرائیں ان آریائی قبائل کی اولاد ہیں جو زراعت کے پیشے سے منسلک ہو گئے تھے۔
• تاہم، زیادہ تر مورخین اسے محض ایک لفظی مماثلت قرار دیتے ہیں اور عرب نژاد ہونے کی روایت کو زیادہ وزنی مانتے ہیں۔
آرائیں قوم اپنی محنت کشی اور جدید زراعت کی وجہ سے مشہور ہے۔
• باغبان: مغل دور میں آرائیں قوم کو "باغبان" بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ پھل اور سبزیاں اگانے میں مہارت رکھتے تھے۔
• مذہب: برصغیر کے تقریباً تمام آرائیں مسلمان ہیں، جو اس بات کی تقویت دیتا ہے کہ ان کا تعلق یا تو عرب فاتحین سے تھا یا انہوں نے ابتدائی صوفیائے کرام کے دور میں اسلام قبول کیا۔
برصغیر کی تاریخ میں آرائیں قوم نے کئی اہم کردار ادا کیے ہیں:
• سیاست: پاکستان کی تاریخ میں کئی اہم سیاسی شخصیات (جیسے ضیاء الحق، میاں افتخار الدین وغیرہ) کا تعلق اسی قوم سے رہا۔
• معیشت: پنجاب کی زرعی معیشت میں اس قوم کا ریڑھ کی ہڈی جیسا کردار ہے۔ یہ لوگ اپنی زمینوں سے گہری وابستگی اور محنت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
اگرچہ "آریا" اور "آرائیں" الفاظ سننے میں ایک جیسے لگتے ہیں، لیکن تاریخی طور پر آرائیں قوم اپنی شناخت عرب مسلمانوں اور شامی مہاجرین سے جوڑتی ہے جنہوں نے برصغیر کی زمین کو اپنی محنت سے گلزار بنایا۔
پاکستان میں آرائیں (Arain) ایک بہت بڑا اور بااثر خاندان ہے، جو خاص طور پر پنجاب میں آباد ہے۔ تاریخی طور پر یہ لوگ کاشتکاری، باغبانی اور زمین داری سے وابستہ رہے ہیں، لیکن آج یہ سیاست، بیوروکریسی اور کاروبار میں بھی نمایاں ہیں۔
آرائیں قوم کے اندر مزید کئی ذیلی شاخیں یا گوتیں (Clans) ہیں، جو مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے پہچانی جاتی ہیں۔ ذیل میں اہم خاندانوں اور شاخوں کی تفصیل ہے:
1. مشہور ذیلی شاخیں (Goths/Clans)
آرائیں قوم میں سینکڑوں گوتیں ہیں، لیکن چند مشہور یہ ہیں:
• بھٹہ (Bhutta): یہ آرائیں خاندان کی ایک بہت بڑی شاخ ہے (یاد رہے کہ بھٹہ راجپوت بھی ہوتے ہیں، لیکن آرائیں بھٹہ الگ پہچان رکھتے ہیں)۔
• رمضان (Ramday): یہ خاص طور پر لاہور اور گردونواح میں پائے جاتے ہیں۔
• منڈ (Mund): یہ بھی ایک معروف شاخ ہے۔
• کٹار (Katar): ان کا تعلق بھی آرائیں خاندان سے ہے۔
• گہلو (Gahlow): یہ وسطی پنجاب کے علاقوں میں آباد ہیں۔
• دھاریوال (Dhariwal): یہ بھی آرائیں برادری کا حصہ ہیں۔
تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کر کے آنے والے آرائیں خاندانوں کو اکثر ان کے آبائی علاقوں کے نام سے پکارا جاتا ہے:
• جالندھری آرائیں: جو انڈیا کے شہر جالندھر سے ہجرت کر کے فیصل آباد، لاہور اور ساہیوال میں آباد ہوئے۔ (مثلاً میاں برادری)۔
• ہوشیار پوری آرائیں: ان کا تعلق ہوشیار پور سے تھا اور یہ اب سیالکوٹ اور دیگر علاقوں میں ہیں۔
• لدھیانوی آرائیں: لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے خاندان۔
پاکستان میں آرائیں خاندان کے لوگ اپنے نام کے ساتھ مختلف القابات لگاتے ہیں:
• میاں (Mian): یہ آرائیں خاندان کا سب سے عام اور معزز لقب ہے۔ (جیسے میاں نواز شریف کا خاندان آرائیں نہیں بلکہ کشمیری ہے، لیکن بہت سے بڑے آرائیں سیاستدان "میاں" کہلاتے ہیں)۔
• چوہدری (Chaudhry): زمیندار ہونے کی وجہ سے بہت سے آرائیں خاندان چوہدری کا لقب استعمال کرتے ہیں۔
• مہر (Mehr): جنوبی پنجاب اور سندھ کے علاقوں میں آرائیں لوگ اکثر "مہر" لکھتے ہیں۔
پاکستان میں آرائیں برادری سب سے زیادہ ان شہروں میں آباد ہے:
• لاہور: (باغبانپورہ کا علاقہ ان کا تاریخی مرکز ہے)۔
• فیصل آباد: (لائل پور کی آبادکاری میں ان کا بڑا ہاتھ ہے)۔
• ملتان اور ساہیوال: (زرعی زمینوں کی وجہ سے)۔
• سندھ: (خاص طور پر میرپور خاص اور نواب شاہ کے اضلاع میں جہاں یہ قیامِ پاکستان کے وقت آباد ہوئے)۔
دلچسپ بات: آرائیں برادری اپنی برادری ازم اور ایک دوسرے کی مدد کرنے کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔
لاہور کا علاقہ باغبانپورہ (Baghbanpura) تاریخی طور پر آرائیں برادری کا سب سے مضبوط اور معزز گڑھ مانا جاتا ہے۔ یہاں کے آرائیں خاندانوں کی تاریخ مغل دور سے جڑی ہوئی ہے، اور انہیں "شعلہ مار باغ کے محافظ" کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
باغبانپورہ کے آرائیں خاندانوں کی چند اہم خصوصیات اور ان کا تاریخی پس منظر درج ذیل ہے:
1. شعلہ مار باغ /شالامار باغ اور مغلوں سے تعلق
جب مغل شہنشاہ شاہ جہاں نے 1641-42 میں لاہور میں شالامار باغ تعمیر کروایا، تو اس کی دیکھ بھال اور زراعت کے انتظام کے لیے ایک مقامی محنت کش اور ماہرِ زراعت خاندان کا انتخاب کیا گیا۔
• یہ خاندان باغبانپورہ کے آرائیں تھے جنہیں مغلوں نے "میراثِ باغبانی" کی ذمہ داری سونپی۔
• شاہ جہاں نے اس خاندان کے بزرگ میاں محمد یوسف (جو میاں مِہرا کے نام سے بھی مشہور تھے) کو شالامار باغ کی نگرانی کے عوض قریبی زمینیں عطا کیں اور انہیں "میاں" کا خطاب دیا، جو آج بھی اس برادری کا خاص لقب ہے۔
2. میاں خاندان (Mian Family of Baghbanpura)
باغبانپورہ کا "میاں خاندان" پاکستان کے قدیم ترین اور پڑھے لکھے سیاسی خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس خاندان نے تحریکِ پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا۔
• میاں محمد شفیع (Sir Mian Muhammad Shafi): وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے تھے اور علامہ اقبال کے قریبی ساتھی تھے۔
• بیگم جہاں آراء شاہ نواز: میاں محمد شفیع کی صاحبزادی، جنہوں نے خواتین کے حقوق اور قیامِ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر کام کیا۔
• میاں افتخار الدین: جو تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما اور پاکستان کے پہلے بڑے اخباری گروپ (Progressive Papers Limited) کے بانی تھے۔
3. لقب "میاں" کی اہمیت
اگرچہ پنجاب میں بہت سی برادریاں "میاں" کا لقب استعمال کرتی ہیں، لیکن باغبانپورہ کے آرائیں اس لقب کو اپنی مخصوص پہچان سمجھتے ہیں۔ یہ لقب انہیں مغل دربار سے ان کی دیانتداری اور زمین سے وابستگی کی بنا پر ملا تھا۔
4. علمی اور سیاسی مرکز
باغبانپورہ کے آرائیں صرف زمیندار ہی نہیں رہے بلکہ انہوں نے تعلیم پر بہت زور دیا۔
• اس خاندان نے لاہور میں کئی تعلیمی ادارے اور رفاہی کام کیے۔
• قیامِ پاکستان کے وقت لاہور کی اشرافیہ میں باغبانپورہ کے آرائیں خاندانوں کا ایک خاص مقام تھا کیونکہ وہ قدیم شہری روایات اور جدید تعلیم کا سنگم تھے۔
آج بھی باغبانپورہ میں آرائیں برادری کی بڑی تعداد آباد ہے، حالانکہ شہر پھیلنے کی وجہ سے بہت سے خاندان اسلام آباد ، گلبرگ اور ڈیفنس جیسے علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں۔ تاہم، جب بھی پنجاب کی تاریخ میں "باغبانپورہ کے میاں خاندان" کا ذکر آتا ہے، تو اس سے مراد وہی معزز آرائیں خاندان ہوتا ہے جس نے سیاست، قانون اور صحافت میں انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔
ایک دلچسب بات بتاوں آج بھی جب ہم نظر اتاتے ہیں تو مہر موحکم دین دی دیگاں تلے بلے کہتے ہیں ۔
جب میں دوسری جماعت میں تھی ہم سب ابو کے ساتھ دادا ابو سے ملنے ان کے گھر گے تھے اس وقت دادا ابو نے میرے سامنے وہ سارے گھروں کے دستاویز الماری سے نکال کر پہلے پڑھے اور پھر دوسرے کمرے میں جا کر ابو کو دیے ۔
اس وقت جو پیمان عہد ہوا وہ بعد میں پورا کیا گیا وقت 25 سال لگ گے مگر وعدہ نبھایا گیا۔
میرے دادا ابو نے سر میاں محمد شفیع سے مکان خریدا تھا اس کی دستاویز ہم نے اسلام آباد مونومنٹ میں ابو کے ساتھ جا کر خود دیں تھیں ۔ اسلام آباد مونومنٹ میں وہ سب دستاویز موجود ہیں۔

Comments