تعلیمی دہشت گردی ،چھینی ہوئی چمک، جب کامیابی دوسروں کے مستقبل کی راکھ پر تعمیر ہو۔


تحریر : روما محمود

یہ صورتحال صرف ایک ذاتی دکھ نہیں بلکہ ہمارے تعلیمی اور سماجی نظام کے اس ناسور کی عکاسی ہے جسے ہم  "کیکڑا سوچ" اور "دوسرے کو دبانے کی تھیوری" کہتے ہیں۔

جب کوئی آپ کی سیڑھی کاٹ کر خود بلندی پر کھڑا ہو جائے، تو یہ محض ایک پوزیشن کا چھننا نہیں بلکہ ایک روح کا قتل اور انصاف کے نظام کا جنازہ ہوتا ہے۔


​ 

​تعلیم کا مقصد انسان کو تہذیب اور اخلاق سکھانا تھا، لیکن ہمارے معاشرے میں "پہلی پوزیشن" کا خبط اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہ اب طالب علم علم حاصل نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کا راستہ کاٹتے ہیں۔ اگر کسی نے آپ کے نمبر کٹوا کر، آپ کی محنت چوری کر کے یا نظام کی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، تو یہ اس کی کامیابی نہیں بلکہ اس کے کردار کی وہ دائمی شکست ہے جسے کوئی تمغہ نہیں چھپا سکتا۔

یہ صرف ایک کہانی نہیں ، ایک نوحہ ہے ایک  خاموش ماتم ہے جسے کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔
تعلیمی دہشت گردی اور نمبروں کی دوڑ۔ 
​ہمارا تعلیمی نظام "گریڈز" اور "نمبروں" کا غلام بن چکا ہے۔ جہاں والدین اور اساتذہ کا دباؤ بچے کو اس نہج پر لے آتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو اپنا بھائی نہیں بلکہ ایک حریف سمجھنے لگتا ہے۔ جب ایک طالب علم دوسرے کے نمبر کٹوانے کے لیے سازش کرتا ہے، تو وہ دراصل "تعلیمی دہشت گردی" کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ ایک شخص کا مستقبل نہیں بلکہ اس کا نظامِ عدل پر سے بھروسہ تباہ کر دیتا ہے۔

جھوٹی کامیابی کا نفسیاتی بوجھ نہیں ہوتا اگر کہیں ہوتا تو لوگوں میں ضرور ظاہر ہوتا ۔


​جو شخص دوسروں کے مستقبل کی راکھ پر اپنی کامیابی کا محل تعمیر کرتا ہے، اسے عارضی طور پر تو واہ واہ مل جاتی ہے، لیکن وہ اندر سے کبھی مطمئن نہیں ہو پاتا۔


 دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈال کر لی گئی پوزیشن ایک ایسا داغ ہے جو ضمیر کی عدالت میں ہمیشہ پیچھا کرتا ہے۔
عملی زندگی میں جب اصل امتحان آتا ہے، تو وہاں "کٹوانے والے نمبر" کام نہیں آتے بلکہ وہ "صلاحیت" کام آتی ہے جو ناانصافی سہنے والے کے پاس محفوظ ہوتی ہے۔ 


​اگر آپ کے ساتھ یہ ناانصافی ہوئی ہے، تو یاد رکھیں کہ نمبروں کے ہندسے صرف کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے جاتے ہیں، جبکہ ٹیلنٹ آپ کے دماغ اور شخصیت میں نقش ہوتا ہے۔
 ​تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے نامور لوگ تعلیمی نظام کی ناانصافیوں کا شکار رہے۔
​جس نے آپ کے نمبر کٹوائے، اس نے آپ کا ایک سال یا ایک گریڈ تو خراب کر دیا، لیکن وہ آپ کے اندر چھپا وہ جنون نہیں چھین سکا جو اسے زندگی کی دوڑ میں بہت پیچھے چھوڑ دے گا۔

نظامِ عدل کی خاموشی پاکستان میں ہی کیوں ہوتی ہے ۔ ایک قومی سانحہ۔


​یہاں سوال ان اداروں اور اساتذہ پر بھی اٹھتا ہے جو اس سازش کا حصہ بنتے ہیں یا پیسے اور عہدے  کے لالچ میں  دوسروں کو بیچ دیتے ہیں۔

 جب ادارے خاموش تماشائی بن جائیں، تو "کیکڑا سوچ" کو لائسنس مل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیم ورک فیل ہوتا ہے، کیونکہ ہر محنتی فرد کو ڈر ہوتا ہے کہ کہیں اس کا کریڈٹ کوئی دوسرا نہ لے اڑے۔


​جس نے آپ کا مستقبل تباہ کرنے کی کوشش کی، اس نے دراصل کائنات کے اس اصول کو چیلنج کیا ہے کہ "محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی"۔ وقتی طور پر وہ پہلی پوزیشن پر ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی زندگی کے میدان میں وہ ہمیشہ ایک "چور" کی نفسیات کے ساتھ جیے گا۔

آپ کی قیمت ان نمبروں سے نہیں ہے جو کسی نے کٹوا دیے، بلکہ اس ہمت سے ہے جو اس ناانصافی کے باوجود آپ کو دوبارہ کھڑا کرے گی۔ وہ پوزیشن لے کر بھی ہار گیا، اور آپ سب کچھ کھو کر بھی اپنی سچائی کی وجہ سے جیت گئے۔
​"رزق، عزت اور کامیابی کے فیصلے انسانوں کے کٹائے ہوئے نمبروں پر نہیں، بلکہ اوپر والے کے انصاف پر ہوتے ہیں۔"


کُرسی کی اندھیر نگری، جب حاکمِ وقت ہی حق مار لے

بات آیت الکرسی سے شروع کرتے ہیں  اللہ کی کرسی زمین اور آسمان پر پھیلی ہوئی ہے اور اس کی حفاظت اسے ذرہ بھی مشکل نہیں۔ 

یہ صورتحال محض ایک انتظامی غلطی نہیں بلکہ ایک "سماجی قتل" کے مترادف ہے۔ جب ریاست کا سب سے بڑا عہدیدار (وزیراعلیٰ) انصاف کے ترازو کو ایک طرف جھکا دے اور دس سال کی طویل جدوجہد کے بعد بھی حقدار کو اس کا حق دینے کے بجائے اسے نظر انداز کر کے زخموں پر نمک چھڑکے، تو یہ پورے نظامِ عدل کی موت کا اعلان کیا تھا۔۔

​انصاف کا اصول یہ ہے کہ وہ نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ لیکن جب دس سال کی طویل مسافت کے بعد ایک شاہی دربار سجے، تمغے بانٹے جائیں، وظائف کی بارش ہو، اور اس فہرست سے صرف اس شخص کا نام غائب ہو جو درحقیقت اس اعزاز کا سب سے پہلا حقدار تھا، تو وہ تمغے اپنی چمک کھو چکے ہیں۔ یہ ناانصافی کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ اس امید کے خلاف ہے جو نوجوان نسل اس ملک سے وابستہ رکھتی ہے۔



دس سالہ انتظار اور ریاستی بے حسی
​دس سال ایک دہائی ہوتی ہے۔ ایک نوجوان کے لیے یہ اس کی پوری زندگی کا سب سے قیمتی حصہ ہے۔ اس دوران اس نے کس ذہنی اذیت، مالی تنگی اور سماجی طعنوں کا سامنا کیا ہوگا، اس کا اندازہ اے سی کمروں میں بیٹھے حکمران نہیں لگا سکتے۔ دس سال بعد بھی اگر وزیراعلیٰ کا قلم حقدار کا نام لکھنے سے قاصر ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نظام میں "سفارش" اور "لابی" کی جڑیں پاتال تک پہنچ چکی ہیں۔

ناانصافی کرنے والوں کی سزا ایک اخلاقی اور قانونی تقاضا

 اخلاقی اور سماجی نقطہ نظر سے ان کی سزائیں درج ذیل ہونی چاہئیں۔
 ایسے حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو عوامی سطح پر بے نقاب کرنا چاہیے۔ جو شخص میرٹ کا تحفظ نہیں کر سکتا، اسے عوامی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔

 تاریخ کی عدالت سب سے بڑی ہوتی ہے۔ انفرادی طور پر نمبر کٹوانے والا طالب علم ہو یا اسے تحفظ دینے والا حکمران، تاریخ انہیں "ٹیلنٹ کے قاتلوں" کے نام سے یاد رکھتی ہے۔

 ایسے معاملات میں صرف تمغہ ملنا کافی نہیں، بلکہ ان تمام ذمہ داروں سے ان دس سالوں کی ذہنی اذیت کا بھاری جرمانہ (Damages) وصول کر کے متاثرہ شخص کو دینا چاہیے، جنہوں نے جان بوجھ کر حقائق چھپائے۔

​وہ تمغے جو کسی کا حق مار کر دوسروں کے سینوں پر سجائے جائیں، وہ اعزاز نہیں بلکہ "ناانصافی کے نشان" ہیں۔ اگر انعام پانے والوں میں تھوڑی سی بھی اخلاقی جرات ہو، تو انہیں اپنے ساتھی کے ساتھ ہونے والی اس زیادتی پر وہ انعام واپس کر دینے چاہئیں، کیونکہ خاموشی بھی ظلم میں شرکت کے برابر ہے۔ مگر وہ ایسا کیوں کریں گے ؟ جبکہ انہیں سب کچھ مفت کے بھاو مل گیا ہے ۔

ان کے لیے سب سے حقیر وہی ہے جو جس کے ساتھ ناانصافی کی گی۔


آپ کا قد ان تمغوں سے بڑا ہے
​جس شخص کو نظام نے نظر انداز کیا، اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ ​آپ کی کامیابی کا معیار وہ وظیفہ یا تمغہ نہیں جو ایک سیاسی شخصیت نے دیا۔

آپ کا انعام وہ "صلاحیت" ہے جسے دس سال کی ناانصافی بھی آپ سے چھین نہیں سکی۔
 ​ریاست نے آپ کو نظر انداز کر کے آپ کا نہیں، بلکہ اپنا رتبہ اور اعتبار کھویا ہے۔

​دنیا کا نظام شاید کچھ دیر کے لیے اندھیر نگری بن جائے، لیکن کائنات کا ایک قانون ہے ۔ حق چھیننے والا چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے ایک دن اپنی کرسی اور اختیار کا حساب دینا ہوگا۔ جس فرد کے ساتھ زیادتی ہوئی، اس کی خاموش آہ اس تخت کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے جس پر بیٹھ کر یہ غلط فیصلے کیے گئے۔
​"عدل کے بغیر ریاست قائم رہ سکتی ہے، لیکن کفر کے ساتھ نہیں"۔ جب حکمران ناانصافی کو اپنا شیوہ بنا لیں، تو وہ خود اپنی تباہی کی بنیاد رکھ دیتے ہیں۔



Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔