اندھے کنویں کی چھلانگ پاکستانی معاشرہ اور ہم ۔
--روما محمود--
ایک چھوٹے سے گاؤں کے کنارے پر ایک پرانا اور بوسیدہ مکان تھا جہاں 'ارسلان' اپنے بوڑھے والدین اور تین چھوٹی بہنوں کے ساتھ رہتا تھا۔ گھر کے حالات اتنے ناگفتہ بہ تھے کہ اکثر دو وقت کی روٹی بھی میسر نہ ہوتی۔ ارسلان دن بھر مزدوری کرتا، لیکن مہنگائی کے اس دور میں اس کی قلیل آمدنی سمندر میں قطرے کے برابر تھی۔
گاؤں میں ایک قدیم روایت مشہور تھی کہ جنگل کے وسط میں ایک "اندھا کنواں" ہے جس کی گہرائی کا آج تک کوئی سراغ نہیں لگا سکا۔ بزرگ کہتے تھے کہ جو کوئی اس کنویں میں چھلانگ لگانے کی ہمت کرے گا اور زندہ بچ نکلے گا، اسے وہ خزانہ ملے گا جو اس کی نسلوں کی تقدیر بدل دے گا۔ لیکن آج تک جس نے بھی وہاں قدم رکھا، وہ کبھی لوٹ کر نہ آیا۔
ارسلان نے جب اپنی چھوٹی بہن کو بھوک سے بلکتے اور باپ کو دوائی کے بغیر کھانستے دیکھا، تو اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اس "اندھے کنویں" میں چھلانگ لگائے گا۔ اس کے لیے اب خاموش موت سے بہتر وہ خطرہ تھا جس میں شاید کامیابی کی کوئی کرن چھپی ہو۔
ایک سرد رات جب پورا گاؤں گہری نیند میں تھا، ارسلان ایک مضبوط رسی اور مشعل لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ٹوٹے ہوئے گھر کی چھت اور ماں کے آنسو تھے۔
جب وہ کنویں کے دہانے پر پہنچا تو وہاں کا سناٹا ہولناک تھا۔ کنویں سے اٹھنے والی ٹھنڈی ہوا اس کے حوصلے پست کر رہی تھی۔ اس نے کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہو کر نیچے جھانکا، وہاں سوائے گھپ اندھیرے کے کچھ نہ تھا۔
ارسلان نے سوچا، "اگر میں یہاں سے پیچھے مڑ گیا تو کل پھر وہی بھوک اور وہی ذلت میرا مقدر ہوگی۔" اس نے اللہ کا نام لیا، آنکھیں بند کیں اور اس گہرے اندھیرے میں چھلانگ لگا دی۔
ہوا کے دوش پر گرتے ہوئے اسے لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ لیکن چند سیکنڈز کے بعد وہ کسی سخت سطح کے بجائے ٹھنڈے پانی میں گرا۔ وہ ایک ماہر تیراک تھا، اس نے فوری طور پر سطح پر آنے کی کوشش کی۔ جب اس نے مشعل روشن کی (جو اس نے واٹر پروف تھیلے میں رکھی تھی)، تو اسے معلوم ہوا کہ وہ کوئی معمولی کنواں نہیں بلکہ ایک قدیم زیرِ زمین غار کا راستہ تھا۔
اس غار کی دیواریں قیمتی پتھروں سے نہیں، بلکہ قدیم کتابوں اور زراعت کے ایسے طریقوں سے بھری تھیں جو صدیوں پہلے دفن ہو چکے تھے۔ وہاں سونے کے سکے بھی تھے، لیکن ارسلان کی نظر ایک تختی پر پڑی جس پر لکھا تھا۔
حقیقی خزانہ ہمت ہے، اور کامیابی کا راستہ اندھیروں سے گزر کر ہی ملتا ہے۔
ارسلان کو وہاں سے اتنے سونے کے سکے ملے جو اس کے گھر کے حالات بدلنے کے لیے کافی تھے، لیکن اس سے بھی بڑی چیز وہ 'ہمت' تھی جو اس نے اس خوفناک کنویں میں کود کر حاصل کی تھی۔
ارسلان جب واپس لوٹا تو وہ پہلے والا ڈرا ہوا نوجوان نہیں تھا۔ اس نے نہ صرف اپنے گھر کی حالت بدلی، بلکہ اس غار سے ملنے والے علم کی بدولت گاؤں کی بنجر زمینوں کو سونا اگلنے والے کھیتوں میں بدل دیا۔
آج وہ اندھا کنواں اب خوف کی علامت نہیں بلکہ ہمت کی مثال بن چکا تھا۔ گاؤں والے سمجھ گئے تھے کہ حالات تب تک نہیں بدلتے جب تک انسان خود اپنے خوف کے کنویں میں چھلانگ لگا کر اس کے پار جانے کی ہمت نہ کرے۔
زندگی میں بڑی تبدیلی لانے کے لیے اکثر ہمیں اپنے خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مشکل فیصلے لینے پڑتے ہیں۔
آج کے پاکستان میں اگر آپ کسی بھی متوسط طبقے کے نوجوان سے ملیں، تو اس کی آنکھوں میں آپ کو ایک عجیب سی تھکن اور اضطراب ملے گا۔ یہ وہ تھکن نہیں جو دن بھر کی مشقت سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ وہ تھکن ہے جو خوابوں کے ٹوٹنے اور مستقبل کے دھندلا جانے سے جنم لیتی ہے۔ "گھر کے حالات بدلنے کے لیے اندھے کنویں میں چھلانگ لگانا" اب محض ایک محاورہ نہیں رہا، بلکہ یہ ہمارے ہر دوسرے نوجوان کی زندگی کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔
پاکستان کا معاشی بحران، مہنگائی کا طوفان اور بے روزگاری کے سائے اتنے گہرے ہو چکے ہیں کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان بھی اب خود کو اس دیومالائی کہانی کے 'ارسلان' کی جگہ محسوس کرتا ہے، جس کے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہے: "خطرہ مول لینا"۔
آج کے پاکستانی نوجوان کے لیے وہ "اندھا کنواں" وہ غیر قانونی بحری جہاز ہیں جو اسے یونان کے ساحلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ وہ اندھا کنواں وہ 'ڈونکی' (Illegal Immigration) ہے جس کے ذریعے وہ یورپ پہنچنے کے خواب دیکھتا ہے۔ وہ اندھا کنواں وہ کڑی محنت اور فری لانسنگ کی دنیا ہے جہاں وہ کئی کئی راتیں جاگ کر ڈالر کمانے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اپنی بوڑھی ماں کا علاج کروا سکے اور بہنوں کے ہاتھ پیلے کر سکے۔
کہانیوں میں تو کنویں میں چھلانگ لگانا 'ہمت' کہلاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ 'مجبوری' کا نام ہے۔ جب ریاست آپ کی ڈگری کو ردی کا کاغذ بنا دے، جب میرٹ کی جگہ سفارش لے لے اور جب بجلی کا بل ایک عام آدمی کی پوری تنخواہ کو چاٹ جائے، تو وہ نوجوان کیا کرے؟ وہ یا تو مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے یا پھر کسی ایسے راستے کا انتخاب کرتا ہے جس کا انجام اسے معلوم نہیں ہوتا۔
حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ کیسے سینکڑوں پاکستانی نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں سمندر برد ہو گئے۔ وہ جانتے تھے کہ جس کشتی میں وہ سوار ہو رہے ہیں وہ ایک 'اندھا کنواں' ہے، لیکن گھر کے حالات نے انہیں اس کنویں میں کودنے پر مجبور کر دیا۔ ان کے لیے پیچھے مڑنے کا راستہ اس موت سے بھی زیادہ خوفناک تھا جو سمندر کی لہروں میں ان کا انتظار کر رہی تھی۔
ارسلان کی کہانی میں تو اسے کنویں کے نیچے سے علم اور زراعت کے طریقے مل گئے، لیکن ہمارے نوجوان کو اس ڈیجیٹل دور میں 'ہنر' (Skills) کی تلاش کرنی ہوگی۔ آج کا اندھا کنواں "ٹیکنالوجی" اور "جدت" بھی ہے۔ اگر ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے جدید ہنر سکھا دیں، تو شاید انہیں جان جوکھوں میں ڈال کر سمندر پار نہ جانا پڑے۔
کبھی کبھی زندگی ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں ہمارے سامنے دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو حالات کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں، یا پھر آنکھیں بند کر کے اس "اندھے کنویں" میں چھلانگ لگا دیں جسے دنیا 'خطرہ' اور ہم 'آخری امید' کہتے ہیں۔ آج میں اور آپ، ہم دونوں اسی منڈیر پر کھڑے ہیں۔
جب گھر کے حالات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہو جائے، جب بوڑھے باپ کی لاٹھی بننے کی عمر میں ہم خود سہارے ڈھونڈ رہے ہوں، تو پھر وہ اندھا کنواں ہمیں خوفناک نہیں لگتا، بلکہ وہ ایک موقع نظر آتا ہے۔
آپ کی طرح میرا بھی یہی ماننا ہے کہ گھر کی تقدیر بدلنے کے لیے صرف دعائیں کافی نہیں ہوتیں، بلکہ پاؤں میں چھالے ڈالنے پڑتے ہیں۔ وہ اندھا کنواں کچھ بھی ہو سکتا ہے؛ وہ کوئی نیا کاروبار ہو سکتا ہے جس میں ڈوبنے کا ڈر ہو، وہ پردیس کی اجنبی گلیاں ہو سکتی ہیں جہاں ہم اپنوں سے دور تنہائی کا زہر پیتے ہیں، یا پھر وہ کوئی ایسا ہنر سیکھنے کی تگ و دو ہو سکتی ہے جس کا نتیجہ ہمیں معلوم نہیں۔
میں اور آپ جب اس کنویں میں چھلانگ لگانے کا سوچتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں صرف اپنی ذات نہیں ہوتی۔ ہمارے کندھوں پر بہنوں کی شادیوں کا بوجھ ہے، ماں کی دعاؤں کا قرض ہے اور چھوٹے بھائیوں کے روشن مستقبل کی ذمہ داری ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس کنویں کی گہرائی میں کیا ہے، شاید کچھ بھی نہیں، اور شاید سب کچھ! لیکن "کچھ نہ کرنے" سے "کچھ کرنا" بہرحال بہتر ہے۔
ارسلان کی اس پرانی کہانی میں تو اسے غار مل گیا تھا، لیکن آج کے دور میں ہمارا غار ہماری 'مہارت' (Skills) اور ہمارا 'عزم' ہے۔ ہم نے طے کر لیا ہے کہ ہم اب حالات کا رونا نہیں روئیں گے۔ اگر کنواں اندھا ہے، تو ہم اپنی محنت سے اس میں چراغ جلائیں گے۔
لوگ کہتے ہیں کہ حالات بدلنے میں وقت لگتا ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ حالات تب بدلتے ہیں جب انسان خود بدلنے کا فیصلہ کر لے
پاکستان کے حالات تب تک نہیں بدلیں گے جب تک ہم اپنے نوجوانوں کو اس 'اندھے کنویں' کی منڈیر پر تنہا چھوڑتے رہیں گے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ ان نوجوانوں کے لیے کنویں کی گہرائی میں سیڑھیاں لگائے، انہیں امید کی مشعل دے اور میرٹ کا وہ راستہ دکھائے جو انہیں کسی غار میں گم ہونے کے بجائے کامیابی کی شاہراہ پر لے جائے۔
ورنہ یاد رکھیے، جب کسی قوم کا نوجوان مایوس ہو کر اندھے کنویں میں چھلانگ لگاتا ہے، تو صرف وہ نوجوان نہیں گرتا، بلکہ اس قوم کا مستقبل بھی اس گہرائی میں دفن ہو جاتا ہے۔

Comments