"صبح کا اخبار اور ہاکر کا 'شاہانہ' مزاج"۔ ​

 




​ تحریر: (روما محمود)

ایک زمانہ تھا کون سا اخبار میگزین ہمارے گھر نہیں آتا تھا ۔

اخبار جہاں، پاکیزہ ، کرن ، ریڈر ڈائجسٹ ، خواتین ڈائجسٹ  ، ٹائم ، نیوز ویک ، جنگ ، نونہال ، تعلیم و تربیت ، بچوں کی دنیا وغیرہ وغیرہ۔

اب یہ حال ہو گیا ہے کہ ایک اخبار آتا تھا وہ بھی اخبار کے ہاکر کی نظر ہو گیا ہے ۔

اخبار کے ہاکر کی بدمعاشی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ ایک ایسا سماجی مسئلہ ہے جس پر عام طور پر بات نہیں کی جاتی، لیکن یہ روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کے لیے ذہنی کوفت کا باعث بنتا ہے۔


​وہ زمانہ  گزر گیا جب علی الصبح دروازے کی گھنٹی بجتی تھی یا صحن میں اخبار گرنے کی مخصوص چاپ سنائی دیتی تھی، تو دل خوش ہو جاتا تھا کہ تازہ دم خبریں دہلیز پر آ گئی ہیں۔ اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ اخبار کا انتظار کسی 'روٹھے ہوئے دوست ' کے انتظار سے کم نہیں ہوتا۔

آج کل اخبار کے ہاکر کی "بدمعاشی" اور من مانیاں اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ اخبار لینے والا خود کو گاہک نہیں بلکہ کسی 'مفت خورے' کی صف میں کھڑا محسوس کرتا ہے۔

​پہلے تو ہاکر صاحب کا کوئی وقت مقرر نہیں۔ کبھی اخبار فجر کے وقت صحن کی زینت بنتا ہے تو کبھی اس وقت تشریف لاتا ہے جب بندہ دفتر جانے کے لیے گاڑی اسٹارٹ کر چکا ہوتا ہے یا دوپہر کی ہانڈی چڑھا چکا ہوتا ہے ۔
   کسی بھی مہذب معاشرے میں اخبار کی اہمیت ایک تازہ دم ناشتے جیسی ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں اخبار کے تقسیم کاروں (ہاکرز) نے اس اہم ضرورت کو اپنی انا اور بدمعاشی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ جب سورج سر پر آ جائے، کام کاج کا آدھا دن بیت جائے اور آپ کے گھر کی دہلیز پر باسی خبروں کا پلندہ دوپہر 12 بجے پھینکا جائے، تو یہ محض تاخیر نہیں بلکہ اخبار کا انتظار کرنے والےکی تذلیل ہے۔

اگر آپ نے غلطی سے اسے وقت کی پابندی کا احساس دلانے کی کوشش کی، تو جواب میں "کل سے اخبار نہیں آئے گا" جیسی دھمکی ایسے دی جاتی ہے جیسے وہ اخبار نہیں، کوئی نایاب نسخہ کیمیا مفت بانٹ رہا ہو۔

​صرف وقت کی بات نہیں، ہاکر کی "بدمعاشی" کے کئی رنگ ہیں:
کبھی اخبار گیلا ہوتا ہے تو کبھی اس پر پاؤں کے نشانات ہوتے ہیں۔
مہینے کے آخر میں بل بناتے وقت وہ رسالے بھی شامل کر دیے جاتے ہیں جن کا آپ نے کبھی آرڈر ہی نہیں دیا تھا۔
کسی بھی تہوار پر اخبار دو دن بند ہوتا ہے، لیکن ہاکر صاحب اپنی مرضی سے ہفتہ بھر کی "عید" مناتے ہیں، مگر بل پورے مہینے کا وصول کیا جاتا ہے۔

​ستم ظریفی یہ ہے کہ اگر آپ اخبار کے دفتر میں شکایت کریں، تو وہاں سے بھی اکثر یہی جواب ملتا ہے کہ "ہاکر ہمارا ملازم نہیں، وہ آزاد ٹھیکیدار ہے"۔ اسی آزادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہاکر نے اپنی ایک ایسی اجارہ داری قائم کر لی ہے جہاں اخبار خریدنے والے بے بس نظر آتے ہیں۔

کسی مخصوص علاقے میں ایک ہی ہاکر کا راج ہوتا ہے، اگر آپ ایک سے ہٹ کر دوسرے سے اخبار لگوانا چاہیں تو وہ "علاقائی غیرت" کے نام پر دوسرے کو آنے نہیں دیتے۔

کل کے ہاکر نے خود کو ایک آزاد سروس فراہم کنندہ کے بجائے ایک "مختارِ کل" سمجھ لیا ہے۔ آپ اسے ماہانہ معاوضہ دیتے ہیں، اس کا بل ایک دن کی رعایت کے بغیر ادا کرتے ہیں، لیکن بدلے میں آپ کو کیا ملتا ہے؟

بدتمیزی، غیر ذمہ داری اور من مانی۔ اگر آپ ہمت کر کے ان سے پوچھ لیں کہ "بھائی! اخبار ہے یا دوپہر کا مینیو؟" تو آگے سے جواب کسی اخبار خریدنے والے  کو نہیں بلکہ کسی دشمن کو دیا جاتا ہے۔

​ہاکرز نے شہروں کو اپنی "ریاستوں" میں بانٹ رکھا ہے۔ ایک علاقے کا ہاکر دوسرے کو وہاں اخبار بانٹنے نہیں دیتا۔ یہ سراسر ایک مافیا کا طرزِ عمل ہے جہاں مقابلے کی فضا ختم کر کے اخبار خریدنے والے کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

آپ چاہ کر بھی اپنا ہاکر تبدیل نہیں کر سکتے کیونکہ دوسرا "علاقائی غیرت" اور "یونین کے قانون" کے خوف سے آپ کے گھر نہیں آئے گا۔ اسی اجارہ داری نے ان کے مزاج میں وہ فرعونیت پیدا کر دی ہے جس کا خمیازہ ایک عام پڑھا لکھا شہری بھگت رہا ہے۔

سب سے بڑا المیہ اخبار کے مالکان اور سرکولیشن ڈپارٹمنٹس کی خاموشی ہے۔ وہ یہ بھول رہے ہیں کہ ایک بندہ جب صبح کی چائے کے ساتھ اخبار نہیں پاتا، تو اس کا تعلق اس ادارے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ ہاکر کی یہ بدمعاشی براہِ راست صحافت کے زوال کا سبب بن رہی ہے۔ 12 بجے اخبار پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اخبار پڑھنے والے  کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ "ہمیں تمہارے وقت کی کوئی قدر نہیں"۔

​یہ بدمعاشی اب ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ اگر ہاکرز نے اپنی اصلاح نہ کی اور اداروں نے ان کی لگام نہ کھینچی، تو پرنٹ میڈیا کا تابوت تیار سمجھیں۔ لوگ اب اتنا بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ اپنے ہی پیسوں سے اپنی تذلیل خریدیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان "سفید پوش غنڈوں" کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور انہیں باور کرایا جائے کہ وہ ایک پیشہ ورانہ سروس کے پابند ہیں، کسی کی مرضی کے مالک نہیں۔

اخبارات کے مالکان اور انتظامیہ کے نام اپیل
​میں اس کالم کی وساطت سے اخباری صنعت کے بڑوں سے یہ سوال کرتی ہوں کہ کیا وہ اپنی برسوں کی محنت اور ساکھ کو ان چند غیر ذمہ دار عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ چکے ہیں؟

ہاکر کی بدمعاشی صرف اخبار پڑھنے والے  کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ براہِ راست اخبار کی سرکولیشن پر حملہ ہے۔ جب  دوپہر 12 بجے اخبار ملے گا، تو وہ کل سے اخبار بند کروا کر موبائل فون پر خبریں دیکھنے کو ترجیح دے گا۔

​کچھ تجاویز اور مطالبات درج ذیل ہیں:
• ​شکایتی سیل کا قیام: ہر بڑے اخبار کو اپنے ہاکرز کی مانیٹرنگ کے لیے ایک فعال ہیلپ لائن بنانی چاہیے جہاں وقت کی خلاف ورزی کرنے والے ہاکرز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔
• ​اجارہ داری کا خاتمہ: "علاقائی بدمعاشی" کے اس تصور کو ختم کیا جائے کہ ایک علاقے میں صرف ایک ہی ہاکر سپلائی دے سکتا ہے۔ مقابلے کی فضا پیدا کی جائے تاکہ بہتر سروس دینے والا آگے آئے۔
• ​ڈیجیٹل ڈلیوری کا متبادل: اگر ہاکر کا رویہ درست نہیں ہوتا، تو اخبارات کو چاہیے کہ وہ براہِ راست اپنی ڈلیوری ٹیمیں تشکیل دیں یا کوریئر کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کریں تاکہ قاری کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
ہاکرز کے نام پیغام: "وقت بدل رہا ہے"
​ہاکر  کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں، اسے اپنے ہی رویے کی آری سے کاٹ رہے ہیں۔

آپ کوئی مفت خدمت انجام نہیں دے رہے، آپ اس کام کا معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ دوپہر 12 بجے اخبار پہنچانا خدمت نہیں، گاہک کے ساتھ دھوکہ دہی ہے۔
یاد رکھیں! قاری آپ کا محتاج نہیں ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک کلک پر دنیا بھر کی خبریں دستیاب ہیں۔ اگر آپ کا رویہ یہی رہا، تو آپ کا پیشہ تاریخ کا حصہ بن جائے گا اور اس بے روزگاری کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔

اپنی یونین کو غنڈہ گردی اور اجارہ داری کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سروس کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں۔

اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو اخبار کی صنعت کا سورج بھی اسی طرح غروب ہو جائے گا جیسے ہاکر کے نزدیک اخبار پہنچانے کا وقت "طلوع" ہوتا ہے۔ اخبار پڑھنے والے کی خاموشی کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے، یہ اس کے ٹوٹتے ہوئے صبر کی علامت ہے۔

فرانس میں پاکستانی نژاد ہاکر کو ملنے والا 'لائف اچیومنٹ ایوارڈ' دراصل ہمارے مقامی ہاکرز کے منہ پر ایک تمانچہ ہے کہ محنت اور اخلاق کیا ہوتا ہے۔

"فرانس کا ہاکر بھی پاکستانی ہے!"
​حیرت تو اس بات پر ہے کہ جس مٹی نے فرانس کو وہ عظیم پاکستانی ہاکر دیا جسے اس کی دہائیوں پر محیط دیانت اور فرض شناسی پر 'لائف اچیومنٹ ایوارڈ' سے نوازا گیا، اسی مٹی کے سپوت یہاں اپنے ہی بھائیوں کے لیے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں۔
​فرانس کا وہ پاکستانی ہاکر برفانی راتوں میں بھی اس لیے نہیں رکا کہ اسے اپنے وطن کا نام روشن کرنا تھا، اسے معلوم تھا کہ وقت کی پابندی ہی اصل کامیابی ہے۔ وہاں کا پاکستانی ہاکر صبح 5 بجے اخبار پہنچا کر ملک کا وقار بلند کرتا ہے، جبکہ یہاں کا ہاکر دن کے 12 بجے اخبار پھینک کر اپنی قوم کی سستی کا تماشہ بناتا ہے۔
خون اور مٹی ایک ہی ہے، بس نیت اور پروفیشنل ازم کا فرق ہے۔ اگر پیرس کی گلیوں میں ایک پاکستانی ہاکر اپنی دیانت سے ایوارڈ جیت سکتا ہے، تو لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے ہاکرز ہمیں ذلیل کیوں کر رہے ہیں؟

​اخبار علم اور آگاہی کا ذریعہ ہے، لیکن اس کے تقسیم کاروں کا یہ تلخ رویہ قارئین کو ڈیجیٹل میڈیا کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اگر اخبارات کے مالکان اور ہاکر یونینز نے اس بدمعاشی کا نوٹس نہ لیا، تو وہ دن دور نہیں جب لوگ کاغذ کے اس ٹکڑے کا انتظار کرنا چھوڑ دیں گے۔ ہاکر کو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ ایک خدمت گار ہے، کوئی "علاقائی ڈان" نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔