سچ کا سفر پانچ ک کے ساتھ ۔

 




--روما محمود--


​شہر کی آلودہ فضاؤں میں جب شام کی سیاہی گھلنے لگی تھی، میں اپنے استادِ محترم کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ، جن کی انگلیاں ٹائپ رائٹر کی کیز (Keys) پر رقص کرتے کرتے اب تھک کر لرزنے لگی تھیں، لیکن ان کی آنکھوں کی چمک آج بھی سچ کی تلاش میں ویسی ہی تیز تھی۔ انہوں نے اپنی عینک ناک پر ٹکائی اور ایک گہرا کش لے کر بولے

"بیٹی! خبر لکھنا کاغذ کالے کرنا نہیں، بلکہ اندھیرے میں چراغ جلانا ہے۔ لیکن یاد رکھنا، اس چراغ کی پانچ لویں ہوتی ہیں، جنہیں ہم 'پانچ ک' کہتے ہیں۔ اگر ایک بھی لو بجھ جائے، تو خبر کا چہرہ دھندلا جاتا ہے۔



پہلا چراغ: 'کیا' (وہ حادثہ جو گزر گیا)
​استاد نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا، "سب سے پہلے یہ دیکھو کہ کیا ہوا۔ کیا کوئی کلی مرجھا گئی یا کوئی برج الٹ گیا؟ کیا کسی غریب کی جھونپڑی جلی یا کسی محل میں جشن بپا ہوا؟ 'کیا' خبر کا جسم ہے، اس کے بغیر تمھارا قلم بے جان لکڑی کا ٹکڑا ہے۔"

دوسرا چراغ: 'کون' (وہ چہرے جو مٹ گئے)

ان کے لہجے میں تھوڑی سی تلخی آئی، "پھر پوچھو کہ وہ کون تھا؟ کیا وہ محض ایک عدد (Number) تھا یا کسی ماں کا لختِ جگر؟ خبر کے پیچھے چھپے چہروں کو پہچانو۔ جب تک تم یہ نہیں بتاؤ گے کہ اس کہانی کا ہیرو یا ولن کون ہے، قاری کا دل نہیں دھڑکے گا۔"

تیسرا چراغ: 'کب' (وقت کی بے رحم لکیر)

انہوں نے دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی طرف اشارہ کیا، "وقت یعنی کب۔ صحافت میں وقت ہی سب کچھ ہے۔ جو سورج ڈھل گیا، اس کی خبر باسی ہو گئی۔ قاری کو یہ بتانا کہ یہ واقعہ کس پہر، کس گھڑی پیش آیا، اسے اس لمحے کا حصہ بنا دیتا ہے۔ وقت کی گواہی کے بغیر سچ ادھورا ہے۔"

چوتھا چراغ: 'کہاں' (مقام کی قید)

پھر باری آتی ہے مقام کی، یعنی کہاں؟" استاد نے میز پر پڑے نقشے پر انگلی رکھی۔ "کیا یہ واقعہ تمھارے پڑوس میں ہوا یا سات سمندر پار؟ مقام صرف ایک پتہ نہیں ہوتا، یہ اس واقعے کی تاثیر بدل دیتا ہے۔ زمین کا ٹکڑا ہی خبر کو حقیقت کا رنگ دیتا ہے۔

​سب سے آخر میں انہوں نے میری آنکھوں میں جھانکا اور دھیمے لہجے میں کہا، "اور سب سے اہم سوال ہے کیوں؟ یہ خبر کی روح ہے۔ اگر تم نے یہ نہیں جانا کہ ظلم کیوں ہوا یا فتح کیوں ملی، تو تم نے صرف سطح کو چھوا، گہرائی میں نہیں اترے۔ 'کیوں' وہ کھڑکی ہے جس سے سچائی کی اصل صورت نظر آتی ہے۔

​استاد خاموش ہو گئے، لیکن ان کے کہے ہوئے لفظ کمرے میں گونج رہے تھے۔ مجھے احساس ہوا کہ صحافت صرف الفاظ کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ ان پانچ سوالوں کے ذریعے کائنات کی ترتیب کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ اگر ایک صحافی ان پانچ 'ک' کی امانت داری کر لے، تو قلم حق گوئی کی وہ تلوار بن جاتا ہے جس کے سامنے مصلحت کے پہاڑ بھی ریت کے ڈھیر ثابت ہوتے ہیں۔

​اس شام استاد کے کمرے میں دھوپ کی آخری کرنیں دیوار پر لٹکی پرانی تصویروں سے الوداعی مصافحہ کر رہی تھیں۔ میں نے ایک گہرا سانس لیا اور وہ سوال کر ڈالا جو مدتوں سے میرے سینے میں ایک نوکیلے کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا۔

آپ نے 'پانچ ک' کے چراغ تو دکھا دیے، لیکن یہ تو بتائیے کہ اس چراغ کو روشن رکھنے کے لیے جو تیل جلتا ہے، اس کی قیمت کیا ہے؟ آخر سچ کی قیمت کیا ہے؟

​استاد کے لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔ انہوں نے اپنی لرزتی ہوئی انگلیوں سے میز پر پڑا ہوا ایک خالی کاغذ اٹھایا اور اسے روشنی کے سامنے کر کے بولے۔

​"بیٹی! سچ کی پہلی قیمت 'تنہائی' ہے۔ جب تم سچ لکھنا شروع کرو گی، تو تمہارے دوستوں کی فہرست مختصر ہوتی جائے گی۔ سچ وہ کڑوی شراب ہے جسے پینے والے تو بہت ہیں، لیکن بانٹنے والا اکیلا رہ جاتا ہے۔ لوگ تمہارے قلم کی تعظیم تو کریں گے، مگر تمہارے ساتھ کھڑے ہونے سے کترائیں گے، کیونکہ سچ کی لو بہت تیز ہوتی ہے اور ہر کسی میں اسے سہنے کا حوصلہ نہیں ہوتا۔

​انہوں نے ایک آہ بھری اور جاری رکھا، "دوسری قیمت وہ 'خسارہ' ہے جو تم مصلحت کی منڈی میں اٹھاؤ گی۔ یہاں جھوٹ ریشم کے لبادے میں بکتا ہے اور سچ برہنہ پاؤں کانٹوں پر چلتا ہے۔ تم دیکھو گی کہ تمہارے جونیئر، جو طاقتور کے تلوے چاٹنا جانتے تھے، ایوانوں کی زینت بن گئے، اور تم اسی پرانے ٹائپ رائٹر پر سچ کی گرد صاف کر رہی ہو۔ سچ بولنے والا کبھی مالدار نہیں ہوتا، وہ صرف 'امیرِ ضمیر' ہوتا ہے۔

​"تیسری قیمت 'سکونِ قلب' کی قربانی ہے۔ سچ کا مسافر کبھی چین سے نہیں سوتا۔ اسے ہر آہٹ پر گمان ہوتا ہے کہ کوئی سچ کا گلا گھونٹنے آ رہا ہے۔ اسے اپنی ذات کی نہیں، بلکہ اس 'حرفِ حق' کی فکر ہوتی ہے جو اس نے کاغذ پر رقم کیا ہے۔ ڈر اور دھمکی سچ کے سائے کی طرح ساتھ چلتے ہیں۔

​استاد کی آواز کچھ بھرا گئی، "سب سے بھاری قیمت تب ادا کرنی پڑتی ہے جب تمہارے اپنے تم سے سوال کرتے ہیں کہ 'تمہیں ہی سچ کا ٹھیکہ کیوں ملا ہے؟' جب گھر کی ضروریات اور تمہارے اصولوں کے درمیان جنگ چھڑتی ہے، تو وہ لمحہ سچ کی قیمت کا سب سے کٹھن امتحان ہوتا ہے۔

​میں خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھی۔ کمرے میں اندھیرا پھیل چکا تھا۔

استاد نےدھیمے لہجے میں کہا۔

لیکن یاد رکھنا! اتنی بھاری قیمت چکانے کے بعد جو 'سکون' ملتا ہے، وہ کائنات کی کسی تجوری میں نہیں ملے گا۔ جب تم آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکو گی،

تو تمہیں احساس ہوگا کہ سچ کی قیمت چاہے کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو، یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ کیونکہ جھوٹ کا محل ریت پر کھڑا ہوتا ہے اور سچ کی بنیادیں خدا کے عرش سے جڑی ہوتی ہیں۔

​میں اٹھی اور باہر نکل آئی۔ اب مجھے معلوم تھا کہ میرے قلم کی سیاہی دراصل وہ لہو ہے جو قیمت کے طور پر مانگا جائے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔