خوشبو کا سفر شاہی محفل سے شام کے سلیقے تک
--روما محمود--
میرے سامنے میز پر
چائے کی پیالی رکھی تھی ۔
اس میں سے اڑتا دھواں بتا رہا تھا کہ چائے ابھی گرم ہے ۔
ذہن بھکتا ہوا برطانیہ جا پہنچا۔
برطانیہ کی بھی کیا خوب روایات ہیں ان میں سے ایک آفٹر نون ٹی ہے ۔ جب اس کی بات کریں تو پتہ چلتا ہے کہ
برطانوی "آفٹر نون ٹی" (Afternoon Tea) محض چائے پینے کا وقفہ نہیں، بلکہ ایک شاہانہ تہذیب، نفاست کی انتہا اور برطانوی اشرافیہ کے طرزِ زندگی کا وہ باب ہے جو وقت کی گرد کے باوجود آج بھی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قائم ہے۔
اس کی ابتدا کسی افسانے کے سحر سے کم نہیں ہے ۔
اس روایت کا آغاز 1840ء کے آس پاس ہوا۔ اس دور میں انگلستان میں صرف دو وقت کا کھانا کھایا جاتا تھا۔ ایک صبح کا ناشتہ اور دوسرا رات کا کھانا (جو رات آٹھ بجے پیش کیا جاتا)۔
لیڈی انا، جو ملکہ وکٹوریہ کی قریبی دوست تھیں، شام کے چار بجتے ہی ایک عجیب سا خالی پن اور نقاہت محسوس کرتیں۔
انہوں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اپنے کمرے میں چھپ کر چائے کے ساتھ کچھ ہلکے پھلکے سنیک اور کیک منگوانا شروع کر دیے۔ جلد ہی انہوں نے اپنی سہیلیوں کو بھی اس "خفیہ محفل" میں مدعو کرنا شروع کیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ ایک ایسی سماجی ضرورت بن گئی جس نے پورے برطانیہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
میز کی سجاوٹ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ چاندی اور چینی کے برتن سے سجی ٹیبل ایک مخصوص ہی کیفیت رکھتی ہے۔
آفٹر نون ٹی کی جان اس کی پیشکش (Presentation) ہے۔
یہ کوئی عام مگ نہیں ہوتا، بلکہ
بون چائنا (Fine Bone China) باریک اور نقش و نگار والے نازک پیالے۔
تھری ٹیر اسٹینڈ (Three-tier Stand) ایک تین منزلہ اسٹینڈ جس پر کھانے کی اشیاء ترتیب سے رکھی جاتی ہیں۔
سلور ٹی پاٹ چاندی کا وہ چائے دان جس کی چمک میز کی رونق دوبالا کر دیتی ہے۔
کھانے کی ترتیب، نیچے سے اوپر کا سفر بھی بے حد دلچسپ ہے۔
اس چائے کی میز پر کھانے کا ایک خاص قاعدہ ہے، جو ذائقوں کے ایک سفر کی طرح ہے۔
نیچلی منزل (Savoury)۔ یہاں چھوٹے چھوٹے "فنگر سینڈوچز" ہوتے ہیں۔ خاص طور پر کھیرے والے سینڈوچ (Cucumber Sandwiches) جن کے کنارے نفاست سے کاٹ دیے جاتے ہیں۔
درمیانی منزل (Scones): یہ گرم گرم برطانوی اسکنز (Scones) کا درجہ ہے۔ انہیں "کلوٹڈ کریم" اور جام (اکثر اسٹرابیری) کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
اوپری منزل (Sweet)۔ سب سے اوپر چھوٹے پیسٹریز، میکارونز اور کیک ہوتے ہیں، جو اس ضیافت کا میٹھا اختتام کرتے ہیں۔
آدابِ محفل نفاست کا تقاضا کیا ہے۔
آفٹر نون ٹی کے اپنے سخت آداب (Etiquettes) ہیں۔ مثلاً
•چمچ کو پیالی میں ہلاتے وقت کنارے سے ٹکرانے کی آواز نہیں آنی چاہیے۔
•چائے پیتے وقت چھوٹی انگلی (Pinky finger) کو فضا میں بلند کرنا، جو کبھی اشرافیہ کی پہچان سمجھا جاتا تھا، اب ایک قدیم کلیشہ بن چکا ہے (جدید آداب میں اسے ضروری نہیں سمجھا جاتا)۔
•پہلے سینڈوچ، پھر اسکنز اور آخر میں میٹھا کھایا جاتا ہے۔
یہ ایک زندہ روایت ہے ۔
آج بھی لندن کے مشہور ہوٹلوں (جیسے دی رٹز یا کلیم فورڈ) میں آفٹر نون ٹی کے لیے مہینوں پہلے بکنگ کرانی پڑتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گھڑیاں رک جاتی ہیں، سلیقہ بولتا ہے اور چائے کی بھاپ میں برطانوی تاریخ کی مہک محسوس ہوتی ہے۔
جہاں انا اپنی سیہلوں کو آفٹر نون ٹی پر مدعو کر کے ان کی خاطر مدارت کر رہی ہوتی ہے ۔

Comments