​پاکستان کے حالات اور پھنے صاحب کا آفاقی فارمولا

 



--روما محمود --


​آج کل پاکستان کے حالات اور پھنے خان کی منطق میں ایک عجیب مشابہت پیدا ہو گئی ہے۔ دونوں ہی سمجھ سے باہر ہیں، لیکن دونوں ہی دعویٰ کرتے ہیں کہ "سب ٹھیک ہو جائے گا، بس ذرا صبر کرو"۔
​پچھلے ہفتے جب ڈالر نے ایک اور لمبی چھلانگ لگائی، تو میں نے پریشانی میں محلے کے مستند ارسطو، یعنی پھنے خان سے رجوع کیا۔ وہ اس وقت ایک ٹوٹے ہوئے پنکھے کو ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے، مگر ان کی گفتگو کا محور 'عالمی اسٹیبلشمنٹ' تھی۔



آئی ایم ایف اور پھنے خان کی ٹیکنیک اثر رکھتی ہے۔

​میں نے پوچھا، "پھنے صاحب! یہ آئی ایم اف (IMF) والے ہماری جان کیوں نہیں چھوڑ رہے؟"
پھنے خان نے پیچ کس کان کے پیچھے اڑسا اور بولے:
​میاں!تم بھی کیا بات کرتے ہو ۔
یہ سب تمہاری خام خیالی ہے۔ اصل میں آئی ایم ایف والے ہم سے قرضہ لینے کے بہانے یہاں آتے ہیں تاکہ ہماری ذہانت چرا سکیں۔ وہ ڈرتے ہیں کہ اگر پاکستان نے اپنی عقل استعمال کر لی تو امریکہ میں لوگ ریڑھیاں لگانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

​یہ سن کر مجھے لگا کہ شاید مہنگائی سے میرا دماغ بھی پھنے خان جتنا "روشن" ہو گیا ہے۔ ان کے نزدیک ملک کے معاشی مسائل کا حل اتنا ہی سادہ ہے جتنا کہ چائے میں بسکٹ ڈبونا۔ ان کا مشورہ تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ سب کے قرضے معاف کر دے اور بدلے میں انہیں اپنی 'دعائیں' دے دے، آخرکار دعا میں بڑی طاقت ہوتی ہے!

​پاکستان کے موجودہ حالات میں سب سے بڑا ولن 'بجلی کا بل' ہے۔ لیکن پھنے خان کے پاس اس کا بھی علاج ہے۔
وہ کہتے ہیں:
"بھئی! ہم ایٹمی طاقت ہیں، ہمیں تاروں کے ذریعے بجلی بھیجنے کی کیا ضرورت ہے؟ بس ہر گھر کو ایک چھوٹا سا ایٹم بم دے دیں، وہ اپنے صحن میں دبائیں اور تا قیامت مفت اے سی چلائیں۔" ایسی سائنسی ترقی کے بعد تو شاید آئن سٹائن بھی قبر میں کروٹیں لیتا ہو کہ یہ فارمولا اسے کیوں نہ سوجھا۔

​سیاست پر بات چھڑی تو پھنے خان نے انکشاف کیا کہ تمام سیاسی لیڈر اصل میں ان کے شاگرد رہے ہیں، بس وہ نالائق نکلے اس لیے پھنے صاحب نے انہیں فیل کر کے سیاست میں بھیج دیا۔
ان کے نزدیک جمہوریت وہ ہے جس میں صرف ان کی بات مانی جائے۔
اور آمریت وہ ہے جس میں انہیں بولنے سے روکا جائے۔
​ پاکستان کے موجودہ حالات میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ 'پھنے خان' ہیں جو خود تو ٹریفک سگنل توڑنا اپنا حق سمجھتے ہیں، لیکن چاہتے ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی سویڈن جیسی ہو۔

ہم اس وقت ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں سونا مہنگا ہے اور مشورہ مفت، مرنا آسان ہے علاج مہنگا اور بدقسمتی سے یہاں مشورہ دینے والے سب کے سب 'پھنے خان' ہیں۔ اگر ہم اپنی 'پھنے خانی' چھوڑ کر تھوڑی سی عقلِ سلیم استعمال کر لیں، تو شاید حالات اتنے بھی برے نہ رہیں جتنے ہمیں لگتے ہیں۔


 پاکستان کے موجودہ حالات اور پھنے خان کی "عالمگیر دانش" کو ایک ایسی مثال سے سمجھتے ہیں ۔

​فرض کریں پاکستان کی معیشت ایک ایسی پرانی مہران کار ہے جس کے چاروں ٹائر پنکچر ہیں، انجن سے دھواں نکل رہا ہے، اور ٹینک میں پٹرول کے نام پر صرف امید باقی ہے۔
​اب اس گاڑی کے گرد تین کردار کھڑے ہیں ۔ایک مکینک (ماہرِ معاشیات)، ایک ٹریفک پولیس والا (قانون)، اور ہمارا ہیرو پھنے خان۔
​پھنے خان کا معاشی جگاڑ
​جب ماہرِ معاشیات کہتا ہے کہ بھئی، انجن اوور ہال کرنا پڑے گا اور نئے ٹائر ڈالنے ہوں گے (یعنی سخت اصلاحات)، تو پھنے خان فورا آگے بڑھ کر کار کے بونٹ پر ایک زوردار مکا مارتے ہیں اور کہتے ہیں۔

اوئے چھڈو جی! انجن ونجن کچھ نہیں ہوتا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اس گاڑی کو 'نظر' لگ گئی ہے۔ تم بس اس کے پیچھے ایک کالا جوتا لٹکا دو اور تھوڑا سا مٹی کا تیل ڈالو، یہ جہاز بن جائے گی۔

​ آئی ایم ایف کہتا ہے ٹیکس لگاؤ، ماہرین کہتے ہیں زراعت ٹھیک کرو، لیکن ہمارے پھنے خان ٹاک شوز میں بیٹھ کر کہتے ہیں کہ بس سمندر سے تیل نکلنے والا ہے یا اوپر سے فرشتے آئیں گے اور سب ٹھیک کر دیں ۔

​پھنے خان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے پورے محلے کا ادھار دینا ہے، لیکن جب دکاندار پیسے مانگنے آتا ہے تو وہ اسے کہتا ہے۔
دیکھو بھائی، تم مجھ سے پیسے مانگ کر اپنی عاقبت خراب کر رہے ہو۔ میں تو تمہارا امتحان لے رہا تھا کہ تم میں کتنا صبر ہے۔ جاؤ، کل آنا، میں تمہیں ایک'اسکیم بتاؤں گا کہ تم بل گیٹس کو نوکر رکھ لو گے۔

​ہم قرض لے کر قرض اتار رہے ہیں اور پھنے خان نما دانشور عوام کو بتا رہے ہیں کہ ہم "عالمی طاقت" بننے کے بالکل قریب ہیں، بس ذرا یہ بجلی کا بل بھر دیں!
​ڈیجیٹل پھنے خان (سوشل میڈیا)
​آج کل کا پھنے خان ہاتھ میں آئی فون پکڑے، وائی فائی چوری کا استعمال کرتے ہوئے ٹویٹر (X) پر لکھتا ہے۔
"اگر مجھے صرف 10 منٹ کے لیے ملک کا کنٹرول مل جائے، تو میں ڈالر کی قیمت 10 روپے کر دوں گا۔ طریقہ میں نہیں بتاؤں گا کیونکہ دشمن ملک میری حکمتِ عملی چوری کر لے گا۔


 پیشِ خدمت ہے پھنے خان کا واپڈا کے دفتر پر وہ تاریخی حملہ جہاں وہ ایٹمی طبیعیات اور بجلی کے بلوں کا ایک ایسا ملغوبہ پیش کرتے ہیں کہ نیوٹن بھی اپنی قبر میں تلملا اٹھے۔

​پچھلے مہینے جب بجلی کا بل آیا تو محلے کے غریبوں کا تو تراہ نکل گیا، مگر ہمارے پھنے خان نے اسے ایک سنہری موقع سمجھا۔ انہوں نے پرانی واسکٹ پہنی، ہاتھ میں بل کا پلندہ تھاما اور محلے کے چار لڑکوں کو ساتھ لے کر واپڈا کے دفتر جا دھمکے۔
​ایس ڈی او (SDO) صاحب ابھی چائے کی پیالی لبوں سے لگانے ہی والے تھے کہ پھنے خان نے میز پر دھپ سے بل مارا اور بولے
​اوئے شاہ جی! یہ ایٹمی ملک میں یونٹ کا کیا چکر چلا رکھا ہے؟ تم لوگ عوام کو جاہل سمجھتے ہو؟

​ایس ڈی او نے ہکا بکا ہو کر پوچھا، صاحب، بل میں کیا غلطی ہے؟
پھنے خان نے عینک ناک پر ٹکائی اور ایک ماہرِ طبیعیات کے لہجے میں گرجے۔
​غلطی تمہاری نیت میں ہے! دیکھو میاں، تم کہتے ہو کہ ہم نے 500 یونٹ جلائے ہیں۔ اب مجھے یہ بتاؤ کہ الیکٹران تو کبھی ختم نہیں ہوتا، وہ تو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے۔ جب تاروں سے بجلی میرے گھر آئی اور پنکھا چلا کر واپس تمہارے گرڈ اسٹیشن چلی گئی، تو خرچہ کس بات کا؟ میں نے تمہارے الیکٹران کھائے تو نہیں نا؟ وہ تو تمہارے پاس واپس پہنچ گئے!

​دفتر میں موجود کلرکوں کے قلم رک گئے۔ ایس ڈی او نے سر پکڑ لیا، مگر پھنے خان کہاں رکنے والے تھے، وہ اب کوانٹم فزکس پر اتر آئے تھے۔

​ صاحب نے میز پر جھک کر رازداری سے کہا،

​اصل میں بات یہ ہے کہ تمہارے میٹر سست ہیں۔ اگر تم تاروں کو تھوڑا سا سرک' لگا دو تو رگڑ (Friction) کم ہو جائے گی اور بجلی تیزی سے گزرے گی۔ جب بجلی تیزی سے گزرے گی تو میٹر اسے گن ہی نہیں پائے گا، اور یوں بل صفر آئے گا۔ یہ وہ فارمولا ہے جو میں نے نوبل پرائز کمیٹی کو بھیجا تھا، مگر وہ گورے میری ذہانت سے ڈر گئے!


​جب ایس ڈی او نے دھیمے سے کہا کہ  صاحب، فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز بھی تو ہیں، تو پھنے خان کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا:
​فیول ایڈجسٹمنٹ؟ میاں! سورج مفت نکلتا ہے، ہوائیں مفت چلتی ہیں، اور تم کہتے ہو کہ سورج کی روشنی کو تاروں میں ڈالنے کا فیول لگتا ہے؟ تم لوگ اصل میں آئی ایم ایف کے ایجنٹ ہو جو سورج کی روشنی پر بھی ٹیکس لگانا چاہتے ہو!

​واپڈا کے دفتر سے نکلتے ہوئے پھنے خان فاتحانہ انداز میں مڑے اور اپنے ساتھیوں سے کہا دیکھا! بندہ لاوجک (Logic) سے بات کرے تو بڑے بڑے افسر بھی گونگے ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ملک کا المیہ یہی ہے کہ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے، تو ہم سڑک پر نکل کر 'پھنے خان' بن جاتے ہیں۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ بجلی چوری کیوں ہو رہی ہے یا لائن لاسز کیوں ہیں، ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ
قانون سب کے لیے ہو، مگر میرے لیے "رعایت" ہو۔
ٹیکس سب دیں، مگر میری باری ملکی مفاد آڑے آ جائے۔
بجلی مفت ہو، چاہے ہم ایٹمی ری ایکٹر میں لکڑیاں ہی کیوں نہ جھونک رہے ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔