روز ویلٹ ہوٹل: زوال سے نئی امید تک
--روما محمود--
نیویارک کے مین ہٹن میں واقع روز ویلٹ ہوٹل محض ایک عمارت نہیں بلکہ پاکستان کی قومی ایئر لائن (PIA) اور ملک کی وقار کی علامت رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اس ہوٹل کی لیز اور جوائنٹ وینچر کی خبروں نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
اس ہوٹل کا ایک شاندار ماضی تھا۔
موجودہ ڈیل تک کے سفر کا جائزہ اگر لیں ۔
روز ویلٹ ہوٹل: ایک تاریخی سفر
تعمیر اور ابتدائی دور (1924)
روز ویلٹ ہوٹل کا سنگ بنیاد 1924 میں رکھا گیا اور اس کا نام امریکی صدر تھیوڈور روز ویلٹ کے اعزاز میں رکھا گیا۔ اپنی تعمیر کے وقت یہ نیویارک کے پرتعیش ترین ہوٹلوں میں شمار ہوتا تھا، جہاں بڑے بڑے عالمی لیڈر اور فنکار قیام کرتے تھے۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (PIA) نے 1979 میں اس ہوٹل کو ایک سعودی شہزادے کے ساتھ مل کر لیز پر لیا تھا۔ بعد ازاں، 2005 میں پاکستان نے 36.5 ملین ڈالر ادا کر کے اس کے مکمل مالکانہ حقوق حاصل کر لیے۔ اس وقت یہ پاکستان کا بیرون ملک سب سے مہنگا اور قیمتی اثاثہ بن گیا۔
نیویارک کے قلب (Manhattan) میں واقع روز ویلٹ ہوٹل اپنی وسعت اور محلِ وقوع کے اعتبار سے ایک "عمارت" نہیں بلکہ ایک "شہر" کی مانند ہے۔ اس کی جگہ اور گنجائش کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔
کمروں کی تعداد (Capacity)
روز ویلٹ ہوٹل نیویارک کے بڑے ہوٹلوں میں شمار ہوتا ہے:
کل کمرے: اس میں تقریباً 1,015 کمرے ہیں۔
سویٹس (Suites): ان میں 52 پرتعیش سویٹس شامل ہیں، جن میں مشہور "پریزیڈنشل سویٹ" بھی ہے جہاں کئی عالمی سربراہان قیام کر چکے ہیں۔
رقبہ اور بلندی (Space & Height)
کل رقبہ: یہ ہوٹل تقریباً 43,331 مربع فٹ (تقریباً 1.4 ایکڑ) زمین پر محیط ہے۔
منزلیں: یہ عمارت 19 منزلہ بلند ہے۔
محلِ وقوع: یہ زمین دنیا کے مہنگے ترین علاقے میڈیسن ایونیو اور 45 ویں اسٹریٹ کے کونے پر واقع ہے، جو گرینڈ سینٹرل ٹرمینل کے بالکل قریب ہے۔
اس کی اندرونی جگہ کو مختلف مقاصد کے لیے تقسیم کیا گیا ہے:
میٹنگ رومز: یہاں 30,000 مربع فٹ سے زیادہ جگہ صرف میٹنگز اور تقریبات کے لیے مخصوص ہے۔
بال رومز: ہوٹل میں 3 بڑے بال رومز ہیں، جن میں "گرینڈ بال روم" اپنی خوبصورتی اور وسعت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں بیک وقت سینکڑوں افراد کی گنجائش ہے۔
ڈائننگ ایریا: یہاں کئی مشہور ریستوراں، کیفے اور ایک چھت پر واقع (Rooftop) لاؤنج بھی موجود ہے۔
روز ویلٹ ہوٹل کی سب سے بڑی طاقت اس کی زمین (Real Estate) ہے۔ نیویارک کے اس مہنگے ترین زون میں اتنی بڑی جگہ (43,313 مربع فٹ) کا مالک ہونا ہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر اس کی مالیت اربوں ڈالرز میں لگائی جاتی ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہوٹل کی عمارت پرانی ہوتی گئی اور اسے بڑے پیمانے پر مرمت کی ضرورت تھی۔ 2020 میں کورونا وائرس کی وبا نے سیاحت کو بری طرح متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ہوٹل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور بالآخر اسے اکتوبر 2020 میں بند کر دیا گیا۔
حکومتِ پاکستان نے ہوٹل کو فروخت کرنے کے بجائے اس کی زمین کو استعمال میں لا کر ریونیو پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے اہم پیش رفت درج ذیل ہے:
نیویارک سٹی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ: 2023 میں ایک اہم ڈیل کے تحت روز ویلٹ ہوٹل کو نیویارک سٹی کو تین سال کے لیے لیز پر دیا گیا ہے۔ اس وقت یہ ہوٹل پناہ گزینوں (Migrants) کے لیے ہاؤسنگ سینٹر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔
اس ڈیل سے پاکستان کو ماہانہ لاکھوں ڈالرز کی آمدن ہو رہی ہے، جس سے پی آئی اے کے کچھ قرضے اتارنے میں مدد مل رہی ہے۔
حکومت اس زمین پر ایک کثیر المنزلہ (Mixed-use) عمارت بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں اپارٹمنٹس، دفاتر اور ایک چھوٹا ہوٹل شامل ہوگا۔ اس کے لیے عالمی فرمز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
پاکستان میں اس ڈیل پر ہمیشہ سے دو طرح کی آراء رہی ہیں، ان کا ماننا ہے کہ بند ہوٹل پر روزانہ کے اخراجات دینے سے بہتر ہے کہ اسے لیز پر دے کر پیسہ کمایا جائے۔
بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس تاریخی عمارت کو اس کی اصل حالت میں بحال ہونا چاہیے تھا اور اسے پناہ گزینوں کے لیے دینا اس کی عالمی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے۔
حکومتِ پاکستان نے بارہا یہ واضح کیا ہے کہ وہ اس ہوٹل کی ملکیت فروخت نہیں کر رہی، بلکہ صرف اسے معاشی طور پر فعال بنانے کے لیے پارٹنرشپ کر رہی ہے۔
روز ویلٹ ہوٹل کی کہانی عروج، زوال اور اب بقا کی کوششوں پر مبنی ہے۔ ایک ایسی عمارت جو کبھی نیویارک کی اشرافیہ کا مرکز تھی، آج پاکستان کی معاشی مجبوریوں اور حکمتِ عملی کے درمیان کھڑی ہے۔ مستقبل میں اس کی جگہ بننے والی نئی بلند و بالا عمارت شاید اس کی پرانی پہچان بدل دے، لیکن اس کی اہمیت پاکستانیوں کے لیے ہمیشہ برقرار رہے گی۔
بالکل درست، آپ نے حالیہ اور اہم ترین پیش رفت کی نشاندہی کی ہے۔ 19 فروری 2026 کو پاکستان اور امریکہ کے درمیان روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے ایک تاریخی اسٹریٹجک معاہدہ طے پایا ہے، جس میں وزارتِ دفاع (Ministry of Defence) کا کردار بھی اہم رہا ہے۔
اس حالیہ ڈیل کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں۔
یہ معاہدہ نیویارک کے اس تاریخی اثاثے کو دوبارہ سے فعال بنانے اور اس کی معاشی قدر (Value) کو بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے اس معاہدے کی منظوری دی جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے وزارتِ دفاع کو یہ اختیار دیا کہ وہ امریکی ادارے GSA کے ساتھ اس غیر پابند مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کرے۔
وزارتِ دفاع کو اس عمل میں شامل کرنے کا مقصد اسے ایک اسٹریٹجک معاشی اقدام کے طور پر آگے بڑھانا اور دوطرفہ تعلقات میں اعتماد پیدا کرنا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے دستخط کیے (وزیراعظم شہباز شریف کی موجودگی میں)۔ امریکی ادارے General Services Administration (GSA) کے ایڈمنسٹریٹر ایڈورڈ سی فورسٹ نے دستخط کیے۔
یہ ڈیل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو ویٹکوف (Steve Witkoff) کی نگرانی میں مذاکرات کے بعد ممکن ہوئی۔
"ری ڈویلپمنٹ"
اس معاہدے کا مطلب ہوٹل کو بیچنا نہیں ہے، بلکہ اسے ازسرِ نو تعمیر (Redevelop) کرنا ہے۔
ہوٹل کی دیکھ بھال اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے مشترکہ جائزہ لیا جائے گا۔
ایک مخصوص وقت کے اندر ہوٹل کی زمین کے بہترین استعمال (جیسے کہ کمرشل بلڈنگ، لگژری اپارٹمنٹس یا نیا ہوٹل) کا فیصلہ کیا جائے گا۔
نیویارک کے پیچیدہ بلدیاتی قوانین اور زوننگ کے معاملات میں امریکی ادارہ GSA پاکستان کی مدد کرے گا تاکہ کسی بھی قانونی رکاوٹ کو دور کیا جا سکے۔
اس ڈیل کی اہمیت کیوں ہے ؟ارب ڈالر سے زائد کی مالیت: ماہرین کا اندازہ ہے کہ اس ری ڈویلپمنٹ کے بعد اس اثاثے کی مالیت ایک ارب ڈالر سے بڑھ جائے گی۔
اسے پاک-امریکہ اقتصادی تعلقات میں ایک نئی روح پھونکنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ ڈیل پاکستان کے اس اثاثہ جات کی تنظیمِ نو (Asset Restructuring) کے پروگرام کا حصہ ہے جو آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق ہے۔
فروری 2026 کی یہ ڈیل روز ویلٹ ہوٹل کے لیے ایک نیا جنم ثابت ہو سکتی ہے۔ جہاں پہلے یہ ہوٹل صرف اخراجات کا باعث بن رہا تھا، اب اسے امریکی تعاون سے ایک منافع بخش تجارتی منصوبے میں بدلنے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔

Comments