تھکا ہوا ذہئن ۔ عارضی تسکین کا ذریعہ اور سسکتا ہوا آج اور کل"

 




--روما محمود--

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب و غریب نفسیاتی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے: "دوسروں کو زخم دے کر اپنے زخم بھرنے کی کوشش"۔ سڑک پر چلتے ہوئے کسی کو بلاوجہ برا بھلا کہنا ہو، سوشل میڈیا پر کسی کی پگڑی اچھالنی ہو، یا دفتروں اور گھروں میں دوسروں کی تذلیل کرنی ہو۔

ہمیں بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے ہمارے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی کو نیچا دکھا کر حاصل ہونے والا یہ "سکون" واقعی حقیقی ہے؟ یا یہ ایک ایسا سراب ہے جو ہمیں انسانیت کی معراج سے گرا کر پستی کی طرف لے جا رہا ہے؟

​نفسیاتی طور پر جب ایک معاشرہ مجموعی طور پر بے بسی، معاشی دباؤ اور ناانصافی کا شکار ہوتا ہے، تو اس کے افراد اپنی محرومیوں کا غصہ اپنے سے کمزور طبقے پر نکالنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسے عمرانیات کی زبان میں "سماجی منتقلیِ غصہ" کہا جاتا ہے۔ جب ایک شخص اپنے باس یا نظام کے سامنے نہیں بول پاتا، تو وہ گھر آ کر بچوں پر چیختا ہے یا گلی میں کسی اجنبی کو برا بھلا کہہ کر اپنی "طاقت" کا اظہار کرتا ہے۔ یہ سکون نہیں، بلکہ اپنی کمزوری کو چھپانے کا ایک ناکام طریقہ ہے۔

​آج کے دور میں سوشل میڈیا نے اس منفی رجحان کو ایک نئی جہت دے دی ہے۔ کسی کی پوسٹ پر زہریلا کمنٹ کر کے یا کسی کی نجی زندگی کا مذاق اڑا کر ہم چند "لائیکس" تو سمیٹ لیتے ہیں، لیکن اس عمل کے دوران ہم اپنے اندر موجود ہمدردی کے جوہر کو قتل کر دیتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ لفظوں کے زخم تلوار کے زخموں سے گہرے ہوتے ہیں اور وہ زخم ہم ساری زندگی چاٹتے رہتے ہیں۔

​معاشرہ ایک زنجیر کی مانند ہے؛ جب ہم ایک کڑی کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو پوری زنجیر کمزور ہو جاتی ہے۔ دوسروں کو نقصان پہنچا کر سکون پانے کی یہ "تھیوری" دراصل ایک خود کش حملہ ہے۔
جب ہم دوسروں کو تکلیف دیتے ہیں، تو لاشعوری طور پر ہم خود بھی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں کہ کل کوئی دوسرا ہمیں بھی اسی طرح نقصان پہنچا سکتا ہے۔
یہ رویہ معاشرے میں برداشت کو ختم کر دیتا ہے، جس کا نتیجہ گالی گلوچ سے شروع ہو کر پرتشدد تصادم تک نکلتا ہے۔

​سماجی سکون کا متبادل ماڈل "تخلیق" اور "تعمیر" میں ہے۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ جو انسان دوسروں کی مدد کرتا ہے، اس کے دماغ میں 'آکسیٹوسن' (Oxytocin) نامی ہارمون پیدا ہوتا ہے جو حقیقی خوشی اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ اس کے برعکس، دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے پیدا ہونے والا سکون محض ایک "شیطانی لہر" ہے جو بہت جلد پچھتاوے یا مزید نفرت میں بدل جاتی ہے۔

​ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی کی شمع بجھانے سے ہمارے اپنے گھر میں روشنی نہیں ہو سکتی۔ معاشرہ تب ہی پرسکون ہو سکتا ہے جب ہم دوسروں کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا شروع کریں۔ دوسروں کو برا بھلا کہہ کر ملنے والا سکون ایک نشہ ہے جو لمحاتی لذت تو دیتا ہے مگر روح کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ حقیقی ذہنی سکون کا راستہ زبان کی مٹھاس، ہاتھ کی خیر اور دل کی وسعت میں پوشیدہ ہے۔

گھر کی چار دیواری میں اپنوں کی زندگی اجیرن کر کے "سکون" حاصل کرنے کی نفسیات دراصل ایک گہرا سماجی المیہ ہے۔ اسے ہم "منتقلیِ اذیت کی تھیوری" (Theory of Displaced Aggression) کہہ سکتے ہیں۔

​ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ ایک شخص باہر کی دنیا میں نہایت مہذب، بااخلاق اور دھیما دکھائی دیتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ اپنے گھر کی دہلیز پار کرتا ہے، اس کا لہجہ زہریلا اور رویہ جابرانہ ہو جاتا ہے۔ گھر والوں کی زندگی اجیرن کر کے وہ ایک خاص قسم کی تسکین پاتا ہے۔ یہ تضاد صرف ایک اخلاقی برائی نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ نفسیاتی الجھن ہے جسے سمجھنا معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔

بے بسی کا بدلہ (The Compensation of Powerlessness)

​گھر سے باہر کی دنیا—دفتر، سڑک، یا سماجی نظام—اکثر انسان کو بے بس کر دیتی ہے۔ جب ایک شخص اپنے باس کی ڈانٹ سہتا ہے، ٹریفک میں ذلیل ہوتا ہے یا معاشی تنگی کے سامنے گھٹنے ٹیکتا ہے، تو اس کی انا (Ego) بری طرح زخمی ہوتی ہے۔ وہ باہر تو کچھ نہیں کہہ پاتا، لیکن گھر آتے ہی وہ اپنی اس "بے بسی" کا بدلہ ان لوگوں سے لیتا ہے جو اس پر منحصر ہیں یا اس سے محبت کرتے ہیں۔ یہاں اسے "طاقتور" ہونے کا وہ وہم ملتا ہے جو باہر کی دنیا نے اس سے چھین لیا ہوتا ہے۔

"محفوظ نشانہ" (The Safe Target)
​گھر والوں کو نشانہ بنانا اس لیے آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ "محفوظ" ہوتے ہیں۔ باہر کسی اجنبی کو برا کہنے پر تھپڑ پڑنے یا نوکری جانے کا ڈر ہوتا ہے، لیکن گھر والوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ پلٹ کر وار نہیں کریں گے یا معاف کر دیں گے۔ یہ بزدلی کی انتہا ہے جسے ہم اکثر "گھر کا رعب" سمجھ بیٹھتے ہیں۔

جذباتی کچرا کنڈی (Emotional Dumping Ground)
​کئی لوگ اپنے گھر کو سکون کی جگہ سمجھنے کے بجائے ایک ایسی "کچرا کنڈی" سمجھ لیتے ہیں جہاں وہ دن بھر کی تمام تلخیاں، غصہ اور ناکامیاں لاکر انڈیل دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ گھر والوں کو برا بھلا کہہ کر ان کا اپنا "پریشر ککر" ٹھنڈا ہو رہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں دیکھ پاتے کہ اس عمل میں وہ اس انسان  کو گرا رہے ہیں جو ان کا ساتھ دیتا  ہے۔

کیا ایک زہریلی نسل کی آبیاری جاری اور ساری ہے۔
​جب گھر کا سربراہ یا کوئی فرد دوسروں کی زندگی اجیرن کرتا ہے، تو وہ صرف لمحاتی سکون نہیں پا رہا ہوتا بلکہ ایک "خوف کی ثقافت" کو جنم دے رہا ہوتا ہے۔
ایسے گھروں میں پلنے والے بچے یا تو باغی ہو جاتے ہیں یا شدید احساسِ کمتری کا شکار، جو آگے چل کر خود بھی اسی تشدد پسند نفسیات کو اپناتے ہیں۔
جب گھر میں سکون کے بجائے سہم چھا جائے، تو وہاں سے برکت اور خوشحالی رخصت ہو جاتی ہے۔

​گھر والوں پر چیخنا، انہیں ذہنی اذیت دینا یا ان کی زندگی مشکل بنانا کسی مردانگی یا طاقت کی علامت نہیں، بلکہ یہ ایک نفسیاتی دیوالیہ پن ہے۔ حقیقی سکون وہ ہے جو باہر کے طوفانوں کے بعد گھر میں داخل ہوتے ہی محسوس ہو۔ جو شخص اپنے اپنوں کو سکون نہیں دے سکتا، وہ کائنات کے کسی کونے میں بھی حقیقی اطمینان نہیں پا سکتا۔
​ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ گھر "غصہ نکالنے" کی جگہ نہیں بلکہ "تھکن مٹانے" کی جگہ ہے۔ دوسروں کی زندگی اجیرن کر کے حاصل ہونے والا سکون دراصل وہ دھواں ہے جو بالآخر آپ کو خود ساختہ اذیت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔