کرکٹ اب کھیل نہیں، کاروبار ہے اور کھلاڑی مالِ تجارت.

 





پاکستان اور انڈیا کھیلے گا یا نہیں ؟

ائی سی سی میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان شرکت کر رہا ہے ۔

مگر پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان میچ پوائنٹ کھو دے گا اور بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل جائیں گے۔


جب بھارت کو جیت کے پوائنٹس مل رہے ہیں تو  پھر بھی بھارت سے چیخوں کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں آئی سی سی کی منتیں بھی کیوں کر رہا ہے۔

پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ بھی کر سکتا تھا کیونکہ بنگلہ دیش پہلے ہی ائی سی سی ورلڈ کپ سے نکال چکا ہے اس کے بعد اگر پاکستان بھی ورلڈ کپ کھیلنے سے  انکار کر دیتا تو یقینا ورلڈ کپ اپنی ساکھ کھو دیتا۔

کرکٹ میں سیاست بھارت لے کے آیا ہے اور کرکٹ ڈپلومیسی فیل ہو گئی ہے پہلے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دیا اس کے بعد کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار ، اس کے بعد پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار۔

ایک دفعہ ایک بھارتی سفارت سکار سے پوچھا گیا کہ بھارتےے پاکستان کے ساتھ ہاکی کھیلنے کو تیار ہے فٹبال کھیلنے کو تیار  ہے ۔ سب کچھ کھیلنے کو تیار ہے صرف کرکٹ نہ کھیلنے کی وجہ کیا ہے ؟

تو بھارتی سفارت کار نے آسان جواب دیا کرکٹ اب کھیل نہیں رہا اور اس میں بہت پیسہ ہے پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے اس لیے کرکٹ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہے۔

بھارت کی ڈپلومیسی یہ ہے کہ اگر کرکٹ نہیں ہوگا تو تجارت بھی نہیں ہوگی ۔

جنگ تو ہو سکتی ہے ، مگر جھکنا منظور نہیں۔

پاکستان نے جو بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا ہے بھارت اس کا بھارت کو کیا نقصان ہوگا؟

 اس وقت کرکٹ پہ بھارت کے براڈ کاسٹرز کی بالادستی ہے آج بھی ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ پاک بھارت میچ ہی ہوتا ہے ۔

ایک سروے کے مطابق صرف پاک بھارت میچ سارے ورلڈ کپ کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ ہے اگر ایک میچ نہیں ہوتا تو بھارتی براڈ کاسٹرز کو 60 فیصد سے زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔

 اس سے ائی سی سی کو بھی نقصان ہوگا اسی وجہ سے بھارت کرکٹ ڈپلومیسی کو ختم کرنے کے باوجود پریشان ہے۔

 یہ کھیل نہیں رہا، منڈی بن چکا ہے۔ میدان میں بلے اور گیند کے ساتھ اب ریٹنگز، اسپانسرشپس اور براڈکاسٹنگ ڈیلز بھی کھیلتی ہیں۔


 کھلاڑیوں کی قدر ان کے رنز یا وکٹ سے کم، اور ان کی مارکیٹ ویلیو سے زیادہ لگائی جاتی ہے۔ کرکٹ کا چہرہ بدلا نہیں، بگڑ گیا ہے۔

آئی پی ایل ہو یا پی ایس ایل یہ لیگز کھیل کم اور کارپوریٹ سرکس زیادہ بنتی جا رہی ہیں۔ ڈرافٹس اور نیلامیاں ایسے ہوتی ہیں جیسے انسان نہیں، مال بکتا ہو۔ 

کیمرے کی آنکھ جس کھلاڑی کو پسند کر لے، وہ “اسٹار” بن جاتا ہے—چاہے اس کی کارکردگی زیرو ہو۔ جو خاموشی سے محنت کرے، مگر مارکیٹ ایبل نہ ہو، وہ بنچ پر سڑتا رہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی بات کریں تو یہاں فیصلے کھیل کی بہتری کے لیے نہیں، کنٹریکٹس اور مفادات کے لیے ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ سیریز کا شیڈول ہو یا کھلاڑیوں پر میچوں کا بے رحم بوجھ—ہر قدم کے پیچھے براڈکاسٹر کی خوشنودی نظر آتی ہے۔ نتیجہ؟ تھکے ہارے کھلاڑی، زخمی جسم، اور خالی ذہن۔ کارکردگی گرتی ہے تو الزام بھی کھلاڑی پر، مگر مشین بنانے والے محفوظ رہتے ہیں۔

پی ایس ایل کو قوم کے لیے “امید کی کرن” کہا گیا—یہ بات جزوی طور پر درست ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ لیگ مقامی کرکٹ کو واقعی مضبوط کر رہی ہے یا صرف چند فرنچائزز اور اسپانسرز کی تجوریاں بھر رہی ہے؟ اسٹیڈیم کی چمک دمک کے پیچھے گراس روٹس کرکٹ کی حالت دیکھیے: نچلی سطح پر سہولتیں نہ ہونے کے برابر، کوچنگ سسٹم کمزور، اور ٹیلنٹ سفارش کے شکنجے میں پھنسا ہوا۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ شائقین کو بھی اب “مداح” نہیں، صارف سمجھا جاتا ہے۔ ہر اوور کے بعد اشتہار، ہر بریک میں سیل—جذبات بیچے جا رہے ہیں۔ کرکٹ اب دل سے نہیں، ڈیٹا اور ریٹنگ سے چلتی ہے۔ اس کاروبار میں سچ، میرٹ اور دیانت سب سے سستا مال ہیں۔

یہ کہنا بے جا نہیں کہ اگر یہی روش چلتی رہی تو کرکٹ میں ٹیلنٹ پیدا کم ہوگا، برانڈ ایمبیسڈر زیادہ۔ ہم میدانوں میں تماشے تو دیکھیں گے، مگر وہ کرکٹ نہیں جس نے قوموں کو جوڑا تھا۔

سوال یہ نہیں کہ تجارت ہونی چاہیے یا نہیں—سوال یہ ہے کہ کیا کھیل تجارت کا غلام بن چکا ہے؟

اگر جواب “ہاں” ہے، تو پھر یاد رکھیں: غلامی میں جیت بھی جیت نہیں ہوتی—وہ صرف اچھی طرح پیک کی ہوئی ہار ہوتی ہے۔


اگر کھلاڑی کو بغیر کھیلے پیسہ وہ بھی کڑوڑوں میں مل رہا ہے تو اسے کرکٹ کھیلنے کی ضرورت کیا ہے ؟ 


یہ تو اسی طرح ہے کہ بغیر پڑھے ہی فرسٹ پوزیشن لے لی جائے اور مفت کے بیرون ملک دورے کئے جائیں اور کھیلا بلکل بھی نہ جائے۔

 

آم کے آم گھٹلیوں کے دام ۔

روما محمود۔ 


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔