ٹرمپ پیس آف بورڈ اور عالمی امن کا خواب ۔
--روما محمود --
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نومنتخب "بورڈ آف پیس" (Board of Peace) کا پہلا باضابطہ اور تاریخی اجلاس کل 19 فروری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس کی صدارت خود صدر ٹرمپ نے کی، جس میں دنیا بھر سے 40 سے زائد ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سفارت کاروں نے شرکت کی۔
اس اجلاس کی مکمل تفصیلات درج ذیل ہیں۔
اجلاس کا بنیادی مقصد اور ایجنڈا
اس بورڈ کا قیام صدر ٹرمپ کے "غزہ امن منصوبے" (20-point peace plan) کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ کل کے اجلاس کا مرکز غزہ کی تعمیرِ نو، سیکیورٹی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی تھا۔
بڑے مالیاتی اعلانات
صدر ٹرمپ نے اجلاس کے دوران غزہ کے لیے خطیر رقم کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ بورڈ آف پیس کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔
بورڈ کے دیگر رکن ممالک (جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی اور انڈونیشیا شامل ہیں) نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر سے زائد کے فنڈز دینے کا عہد کیا۔
بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا قیام
اجلاس میں ایک اہم پیش رفت "انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس" کی تشکیل پر ہوئی۔
اس فورس کا مقصد غزہ میں امن برقرار رکھنا اور تعمیرِ نو کے کاموں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
البانیہ، انڈونیشیا، قازقستان، کوسوو اور مراکش جیسے ممالک نے اس فورس میں اپنے فوجی اہلکار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اجلاس میں شرکت کی، تاہم پاکستان نے واضح کیا کہ وہ صرف امن مشن اور تعمیرِ نو کا حصہ بنے گا، کسی عسکری کارروائی یا غیر مسلح کرنے (Demilitarization) کے عمل میں شامل نہیں ہوگا۔
بورڈ کی ساخت اور اختیارات
چیئرمین: صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بورڈ کے مستقل چیئرمین ہیں۔
اقوامِ متحدہ پر فوقیت: ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ بورڈ ایک طرح سے اقوامِ متحدہ (UN) کے کاموں کی نگرانی کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ فنڈز صحیح جگہ استعمال ہو رہے ہیں۔
رکنیت: 26 ممالک اس کے بانی اراکین بن چکے ہیں، جبکہ فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک نے بطور "مبصر" (Observers) شرکت کی۔
تقریباً 17 ارب ڈالر (10 ارب امریکہ + 7 ارب دیگر ممالک)
شریک ممالک
40 سے زائد ممالک (بشمول پاکستان، بھارت، اسرائیل، سعودی عرب)
مقام
ڈونلڈ جے ٹرمپ انسٹی ٹیوٹ آف پیس (سابقہ USIP)، واشنگٹن
اس کا ٹارگٹ
غزہ کی مکمل تعمیرِ نو اور حماس کی غیر مسلح سازی ہے۔
مبصرین اس بورڈ کو اقوامِ متحدہ کے متبادل ایک نئے عالمی نظام کی شروعات قرار دے رہے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ براہِ راست عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیرِ صدارت "بورڈ آف پیس" (Board of Peace) کے کل ہونے والے اجلاس میں شریک 40 ممالک اور پاکستان کے مخصوص کردار کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔
شریک ممالک (40 اہم ممالک)
اگرچہ بورڈ میں 26 مستقل ارکان ہیں، لیکن کل کے اجلاس میں 40 سے زائد ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان میں اہم نام یہ ہیں۔
میزبان: امریکہ
مشرقِ وسطیٰ: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر، بحرین، اردن، مصر، کویت، عمان، اور اسرائیل۔
ایشیا: پاکستان، بھارت، انڈونیشیا، ملائیشیا، قازقستان، ازبکستان، ترکی، اور جنوبی کوریا۔
یورپ (بشمول مبصرین): برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، البانیہ، کوسوو، اور پولینڈ۔
افریقہ: مراکش، سوڈان، نائیجیریا، اور ایتھوپیا۔
کینیڈا، آسٹریلیا، ارجنٹائن، اور برازیل۔
(نوٹ: روس اور چین نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی، جسے مبصرین نے ٹرمپ کی یکطرفہ سفارت کاری سے تعبیر کیا ہے)۔
پاکستان کا کردار (Pakistan's Role) اس میں کیا ہے ۔
پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم شہباز شریف نے کی، اور پاکستان کا موقف درج ذیل نکات پر مبنی رہا:
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کرنا۔
پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے طبی ٹیمیں، انجینئرز اور امدادی سامان بھیجے گا۔ پاکستان نے "پیس فنڈ" میں اپنی استطاعت کے مطابق حصہ ڈالنے کا بھی عزم ظاہر کیا۔
انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) میں شمولیت۔
پاکستان نے اس فورس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن ایک شرط کے ساتھ
پاکستانی افواج صرف امن برقرار رکھنے (Peacekeeping) اور تعمیرِ نو کے کاموں میں حصہ لیں گی۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی عسکری جارحیت یا مقامی آبادی کے خلاف آپریشن کا حصہ نہیں بنے گا۔
دو ریاستی حل (Two-State Solution)۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہو جس کا دارالحکومت القدس (یروشلم) ہو۔
اقتصادی راہداری کھول دی جائے۔
پاکستان نے تجویز دی کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبوں کو علاقائی تجارتی رابطوں سے جوڑا جائے تاکہ وہاں کے نوجوانوں کو روزگار مل سکے اور انتہاپسندی کا خاتمہ ہو۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے "اسلامی دنیا کا ایک اہم ستون" قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان کی شمولیت سے بورڈ آف پیس کو مسلم ممالک میں قبولیت ملے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا "بورڈ آف پیس" (Board of Peace) محض ایک مشاورتی کمیٹی نہیں ہے بلکہ اسے اقوامِ متحدہ کے متوازی ایک طاقتور بین الاقوامی ادارے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کل کے اجلاس کی روشنی میں اس کے کاموں اور پاکستان کے کردار کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے۔
بورڈ آف پیس "کرے گا کیا؟" (بنیادی مقاصد)
اس بورڈ کا مشن "امن بذریعہ طاقت اور سرمایہ کاری" ہے۔ اس کے اہم ترین کام یہ ہوں گے۔
غزہ کی مکمل نگرانی: یہ بورڈ غزہ میں جنگ کے بعد کی عبوری حکومت (NCAG) کی نگرانی کرے گا۔ جب تک فلسطینی اتھارٹی اصلاحات مکمل نہیں کر لیتی، تمام انتظامی فیصلے یہی بورڈ کرے گا۔
تعمیرِ نو کا "ماسٹر پلان": غزہ کو ایک تجارتی مرکز (Mediterranean Riviera) بنانا، جس میں 100,000 نئے گھر، 200 ہوٹل، جدید اسپتال اور مصنوعی جزیرے تعمیر کرنا شامل ہے۔
فنڈز کی تقسیم: 17 ارب ڈالر سے زائد کے ابتدائی فنڈز کی تقسیم اور اس بات کو یقینی بنانا کہ یہ رقم کسی عسکری مقصد کے لیے استعمال نہ ہو۔
سیکیورٹی کنٹرول: ایک 20,000 رکنی "انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس" (ISF) کے ذریعے امن برقرار رکھنا اور حماس یا دیگر گروپوں کو مکمل طور پر غیر مسلح (Demilitarize) کرنا۔
عالمی تنازعات کا حل ڈھنڈ لیا۔
ٹرمپ کا ارادہ ہے کہ غزہ کے بعد اس ماڈل کو یوکرین اور دیگر عالمی "ہاٹ اسپاٹس" پر بھی لاگو کیا جائے۔
شریک 40 ممالک کے اہم نام یہ ہیں۔
بورڈ کے کل 26 بانی ارکان ہیں، لیکن مجموعی طور پر 40 سے زائد ممالک نے کل کے اجلاس میں شرکت کی۔ بڑے نام یہ ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ: سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن، مصر، کویت، اور اسرائیل۔
ایشیا: پاکستان، انڈونیشیا، ملائیشیا، بھارت، قازقستان، اور ازبکستان۔
یورپ و دیگر: البانیہ، کوسوو، مراکش، ارجنٹائن، کینیڈا، اور آسٹریلیا۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، اور اٹلی (جنہوں نے ابھی مکمل رکنیت نہیں لی لیکن عمل میں شامل ہیں)۔
پاکستان کا کردار: "امن کا ضامن ہے جنگ کا نہیں۔
"
پاکستان نے اس بورڈ میں بہت متوازن اور سٹریٹجک کردار اپنایا ہے۔
پاکستان نے اپنی انجینئرنگ کور اور طبی ٹیمیں غزہ بھیجنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ ملبہ ہٹانے اور اسپتال چلانے میں مدد دی جا سکے۔
پاکستان نے ISF (سیکیورٹی فورس) میں اپنے دستے بھیجنے پر اصولی آمادگی ظاہر کی ہے، لیکن واضح کیا ہے کہ وہ صرف امن بحالی (Peacekeeping) اور پبلک سیکیورٹی کے لیے ہوں گے، کسی عسکری تنازع کا حصہ نہیں بنیں گے۔
تربیتی کردار: پاکستان مصر اور اردن کے ساتھ مل کر فلسطینی پولیس فورس (تقریباً 12,000 اہلکار) کو تربیت دینے میں بھی مدد کر سکتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں زور دیا کہ پاکستان کی شمولیت کا مقصد ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا ہے، نہ کہ صرف عارضی انتظام۔
دلچسپ حقیقت: اس بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ٹرمپ نے 1 ارب ڈالر کی فیس (Contribution) رکھی ہے، لیکن پاکستان جیسے اہم تزویراتی (Strategic) شراکت داروں کے لیے شرائط میں نرمی یا متبادل طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔

Comments