میونخ کانفرنس اور ہٹلر کی شخصیت ،جارحیت اور خوشامد کی پالیسی اور موجودہ دور
تحریر؛ روما محمود
ایڈولف ہٹلر (Adolf Hitler) بیسویں صدی کی تاریخ کی ایک ایسی شخصیت ہے جس کے اقدامات نے پوری دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ وہ ایک جرمن سیاست دان اور نازی پارٹی کا لیڈر تھا، جو 1933 سے 1945 تک جرمنی کا چانسلر اور "فیوہرر" (پیشوا) رہا۔
عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ہٹلر پیدائشی جرمن تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایڈولف ہٹلر آسٹریا (Austria) میں پیدا ہوا تھا۔
وہ 20 اپریل 1889 کو آسٹریا کے ایک قصبے "براؤناؤ ایم اِن" (Braunau am Inn) میں پیدا ہوا۔
وہ اپنی جوانی میں (1913 میں) جرمنی کے شہر میونخ منتقل ہوا تاکہ آسٹریا کی فوج میں بھرتی ہونے سے بچ سکے، کیونکہ اسے آسٹریا کی کثیر القومی ریاست سے نفرت تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہٹلر کئی سالوں تک جرمنی میں بغیر شہریت کے رہا۔ اسے 1932 میں جرمن شہریت ملی، جس کے فوراً بعد اس نے صدارتی انتخاب لڑا۔
ہٹلر کے بارے میں چند اہم پہلو
اقتدار تک رسائی
پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی شدید معاشی بحران اور ذلت کا شکار تھا۔ ہٹلر نے اپنی شعلہ بیانی اور قوم پرستی کے نعروں سے عوام کو متاثر کیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ جرمنی کو دوبارہ ایک عظیم قوت بنائے گا، جس کے نتیجے میں وہ جمہوری طریقے سے اقتدار میں آیا اور پھر جلد ہی ایک آمر بن گیا۔
دوسری جنگ عظیم
ہٹلر کی جارحانہ خارجہ پالیسی اور دوسرے ممالک (خاص طور پر پولینڈ) پر قبضے کی خواہش دوسری جنگ عظیم (1939-1945) کا سبب بنی۔ اس جنگ میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے اور دنیا دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہوگئی۔
ہولوکاسٹ (Holocaust)
ہٹلر کے دور کا سب سے سیاہ باب اس کی نسل پرستانہ پالیسیاں تھیں۔ اس نے "آریائی نسل" کو برتر قرار دیا اور یہودیوں، معذوروں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم مہم چلائی۔ اس قتلِ عام (Holocaust) میں لاکھوں انسانوں کو عقوبت خانوں (Concentration Camps) میں بے دردی سے ہلاک کیا گیا۔
جب 1945 میں اتحادی افواج (Allied Forces) نے برلن کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور جرمنی کی شکست یقینی ہو گئی، تو ہٹلر نے 30 اپریل 1945 کو اپنے زیرِ زمین بنکر میں خودکشی کر لی۔
ہٹلر کی شخصیت کے چند نمایاں پہلو یہ ہیں۔
وہ ایک انتہائی بااثر مقرر تھا جو مجمع کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔
اس نے اپنے وزیرِ اطلاعات جوزف گوئبلز کے ذریعے میڈیا اور پروپیگنڈا کا بھرپور استعمال کیا۔
اس کا نظریہ "فاشزم" اور انتہا پسندانہ قوم پرستی پر مبنی تھا، جس میں اختلافِ رائے کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔
تاریخ ہٹلر کو ایک ایسے ظالم آمر کے طور پر یاد کرتی ہے جس کی طاقت کی ہوس نے انسانیت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔
اس نے "آریائی نسل" کو برتر کیوں کہا؟
ہٹلر کا یہ نظریہ کسی سائنسی حقیقت پر نہیں بلکہ اس کی اپنی تعصب بھری سوچ اور اس وقت کے کچھ غلط سماجی نظریات پر مبنی تھا۔ اس کی چند بڑی وجوہات یہ تھیں:
الف) "ماسٹر ریس" (Master Race) کا تصور:
ہٹلر کا ماننا تھا کہ انسانیت مختلف نسلوں میں بٹی ہوئی ہے اور ان میں درجہ بندی ہے۔ اس کے نزدیک "نورڈک آریائی" (Nordic Aryans) جن کی پہچان لمبا قد، نیلی آنکھیں اور سنہرے بال تھے ۔
دنیا کی سب سے اعلیٰ اور خالص نسل تھی۔ اس کا خیال تھا کہ دنیا کی تمام تر تہذیب، سائنس اور فن صرف اسی نسل کی مرہونِ منت ہے۔
ب) سماجی ڈارون ازم(Social Darwinism)
اس نے چارلس ڈاروین کے "بقا برائے طاقتور" (Survival of the Fittest) کے نظریے کو غلط رنگ دے کر انسانوں پر لاگو کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ صرف طاقتور نسلوں کو جینے کا حق ہے اور کمزور نسلوں کو مٹ جانا چاہیے تاکہ انسانیت "خالص" رہ سکے۔
پہلی جنگِ عظیم میں شکست کے بعد جرمن قوم کا مورال گر چکا تھا۔ ہٹلر نے انہیں یہ احساس دلانے کے لیے کہ وہ "اعلیٰ نسل" سے ہیں، آریائی برتری کا ڈھونگ رچایا تاکہ ان میں فخر اور اتحاد پیدا کرے اور انہیں دوبارہ جنگ کے لیے تیار کر سکے۔
یہودیوں اور دیگر سے نفرت:
وہ یہودیوں کو آریائی نسل کا سب سے بڑا دشمن سمجھتا تھا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ دوسری نسلیں آریائی خون میں "ملاوٹ" کر کے اسے کمزور کر رہی ہیں۔ اسی بنیاد پر اس نے لاکھوں بے گناہ لوگوں کا قتلِ عام کیا۔
ایک اہم حقیقت: تاریخی اور سائنسی طور پر "آریائی" کوئی نسل نہیں بلکہ ایک لسانی گروہ (Language Group) تھا، لیکن ہٹلر نے اسے ایک حیاتیاتی برتری کے طور پر استعمال کیا جو سراسر غلط ثابت ہوا۔
میونخ سیکیورٹی کانفرنس، ہٹلر اور نازی دور کی تاریخ سے ایک گہرا اور علامتی تعلق ہے، لیکن یہ تعلق "تسلسل" کا نہیں بلکہ "توبہ" اور "سبق" کا ہے۔
اس تعلق کو ہم دو اہم زاویوں سے سمجھ سکتے ہیں:
میونخ معاہدہ (1938) - ایک تاریخی عبرت
موجودہ کانفرنس کا سب سے بڑا تعلق 1938 کے اس بدنامِ زمانہ "میونخ معاہدے" سے ہے جو اسی شہر میں ہوا تھا۔
ہٹلر نے چیکوسلوواکیہ کے ایک حصے (سودیتن لینڈ) پر قبضے کا مطالبہ کیا۔
خوشامد کی پالیسی (Appeasement): برطانیہ اور فرانس کے وزرائے اعظم نے جنگ سے بچنے کے لیے ہٹلر کی شرط مان لی اور معاہدے پر دستخط کر دیے۔
ہٹلر نے اس معاہدے کو کمزوری سمجھا اور کچھ ہی عرصے بعد دوسری جنگِ عظیم شروع کر دی۔
آج کی میونخ کانفرنس میں عالمی لیڈر اکثر اس واقعے کا ذکر کرتے ہیں تاکہ یہ یاد دلایا جا سکے کہ "کسی جارح مزاج آمر کو خوش کر کے یا اسے چھوٹ دے کر امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔"
کانفرنس کا قیام (1963) اور مقصد
موجودہ میونخ سکیورٹی کانفرنس کا آغاز دوسری جنگِ عظیم کے خاتمے کے تقریباً 18 سال بعد ہوا۔
یہ کانفرنس اسی شہر (میونخ) میں رکھی گئی جو کبھی نازی پارٹی کا گڑھ اور ہٹلر کی سیاست کا مرکز رہا تھا۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ جرمنی اور باقی دنیا مل کر بیٹھیں اور ایسے مکالمے کا آغاز کریں جس سے دوبارہ کبھی ہٹلر جیسا کوئی آمر پیدا نہ ہو سکے اور نہ ہی عالمی جنگ جیسی صورتحال بنے۔
موجودہ دور میں اس کی اہمیت
آج جب بھی میونخ میں عالمی لیڈرز جمع ہوتے ہیں (جیسے حال ہی میں یوکرین جنگ یا دیگر عالمی تنازعات پر بات ہوئی)، تو پسِ منظر میں وہی "ہٹلر والا سبق" موجود ہوتا ہے:
طاقت کا توازن: کیا ہم کسی ملک کو دوسرے پر چڑھائی کرنے سے روک پا رہے ہیں؟
جمہوریت کا تحفظ: نازی ازم جیسی انتہا پسند سوچ کو دوبارہ پنپنے سے کیسے روکا جائے؟
موجودہ میونخ کانفرنس دراصل ہٹلر کی میراث کے تضاد (Antithesis) کے طور پر کام کرتی ہے۔ جہاں ہٹلر نے میونخ کو جنگ اور نفرت کے لیے استعمال کیا، وہیں آج یہ شہر عالمی امن اور سکیورٹی پر بحث کا سب سے بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے۔

Comments