بنگلہ دیش، انتقام کی سیاست سے استحکام کی جستجو تک

 




تحریر: روما محمود


5 اگست 2024 کی وہ صبح ڈھاکہ کی تاریخ کی عام صبحوں جیسی ہرگز نہ تھی۔ فضا میں حبس تھا، لیکن یہ حبس موسم کا نہیں بلکہ اس خاموشی کا تھا جو کسی بڑے طوفان سے پہلے سینہ تان کر کھڑی ہو جاتی ہے۔
​ڈھاکہ کی گلیوں میں کرفیو کا پہرہ تھا، مگر دیواروں پر لکھے نعرے پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ اب آہنی سلاخیں ان جذبوں کو قید نہیں کر پائیں گی۔ گانوبھون (وزیراعظم ہاؤس) کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے بظاہر سکون تھا، لیکن اندر کچن کی چمنی سے اٹھتا دھواں کسی آخری ضیافت کی خبر دے رہا تھا۔
وہ گھڑی جب وقت تھم گیا
صبح کے دس بج رہے تھے۔ شیخ حسینہ واجد اپنے کمرے میں اکیلی بیٹھی شاید ان یادوں کو سمیٹ رہی تھیں جو تین دہائیوں پر محیط تھیں۔ باہر سے آنے والی چیخ و پکار کی آوازیں اب دھیرے دھیرے گونج میں بدل رہی تھیں۔ وہ طلبہ، جنہیں کل تک 'رجا کار' کہہ کر پکارا گیا تھا، آج ڈھاکہ کی سڑکوں پر تاریخ کے نئے معمار بن کر ابھرے تھے۔
​فوجی قیادت کے ساتھ ہونے والی اس آخری ملاقات میں جب جنرل نے نظریں جھکا کر کہا، "میڈم! اب ہم آپ کو مزید تحفظ نہیں دے سکتے،" تو شاید حسینہ واجد کو احساس ہوا کہ اقتدار کا ہما اب ان کے سر سے اڑ چکا ہے۔ وہ اقتدار، جو کبھی ان کی شناخت تھا، اب ان کے لیے بوجھ بن گیا تھا۔
فرار اور عوامی سمندر
پھر وہ منظر آیا جسے دنیا نے حیرت سے دیکھا۔ ایک فوجی ہیلی کاپٹر گانوبھون کے صحن سے اڑا۔ نیچے ڈھاکہ کی سڑکوں پر لاکھوں کا وہ سمندر تھا جو اب کسی بند توڑنے والے سیلاب کی طرح وزیراعظم ہاؤس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جیسے ہی ہیلی کاپٹر کی گڑگڑاہٹ فضا میں بلند ہوئی، نیچے سے اٹھنے والے نعروں نے آسمان ہلا دیا۔
​لوگ گانوبھون میں داخل ہو رہے تھے۔ کوئی وہاں کی کرسیوں پر بیٹھ کر اپنی جیت کا جشن منا رہا تھا، تو کوئی ان راہداریوں میں دوڑ رہا تھا جہاں کبھی عام انسان کا سایہ بھی نہیں پڑ سکتا تھا۔ وہ دیواریں جو طاقت کی علامت تھیں، اب عوامی غیظ و غضب کا اشتہار بن چکی تھیں۔
شام کا دھندلکا اور ایک نیا سورج
جب سورج ڈھل رہا تھا، تو حسینہ واجد سرحد پار بھارت کی سرزمین پر قدم رکھ چکی تھیں۔ پیچھے بنگلہ دیش میں ایک دور کا سورج ڈوب چکا تھا اور ایک نئی، غیر یقینی مگر پرامید صبح کا آغاز ہو رہا تھا۔ ڈھاکہ کی ہواؤں میں اب آنسو گیس کی بو نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب سی مہک تھی—وہ مہک جو پندرہ سال بعد ملنے والی آزادی کی ہوتی ہے۔
​لوگوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے، آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر ایک ہی سوال: "اب آگے کیا؟" وہ صبح جو کرفیو کی خاموشی میں شروع ہوئی تھی، ایک ایسے جشن پر ختم ہوئی جس نے بنگلہ دیش کا جغرافیہ تو نہیں، لیکن تاریخ ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ وہ 5 اگست کی صبح تھی، جس نے ثابت کیا کہ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں، تو تخت و تاج محض لکڑی اور کپڑے کے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔

​بنگلہ دیش کی تاریخ میں 5 اگست 2024 کا دن ایک ایسی لکیر کھینچ گیا ہے جس نے نہ صرف 15 سالہ طویل اقتدار کا خاتمہ کیا بلکہ ملک کے سیاسی ڈھانچے کو جڑوں سے ہلا کر رکھ دیا۔ شیخ حسینہ واجد، جو کبھی بنگلہ دیش کی سیاست کا ناقابلِ تسخیر چہرہ سمجھی جاتی تھیں، ایک عوامی انقلاب (جسے 'مون سون انقلاب' بھی کہا جاتا ہے) کے نتیجے میں اقتدار چھوڑ کر بھارت پناہ لینے پر مجبور ہوئیں۔ آج بنگلہ دیش اپنے مستقبل کے لیے ایک نئے امتحان کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں فروری 2026 کے انتخابات ملک کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔

​بنگلہ دیش کی سیاست میں پہلی بار دو بڑی شخصیات، شیخ حسینہ اور خالدہ ضیاء، عملی طور پر منظر نامے سے باہر ہیں۔ حسینہ واجد جلاوطن ہیں اور ان کی جماعت 'عوامی لیگ' پر حالیہ کریک ڈاؤن کی وجہ سے الیکشن لڑنے پر پابندی عائد ہے، جبکہ بی این پی کی سربراہ خالدہ ضیاء کی وفات کے بعد اب قیادت ان کے بیٹے طارق رحمان کے ہاتھ میں ہے۔
​حالیہ سیاسی منظر نامے میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کو سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سروے رپورٹس کے مطابق 60 فیصد سے زائد عوام بی این پی کی حمایت کر رہے ہیں۔ تاہم، اس بار مقابلہ روایتی نہیں ہے۔ جماعتِ اسلامی ایک بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے، جس نے حالیہ مہینوں میں اپنی عوامی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 2024 کے احتجاج سے جنم لینے والی نئی نوجوان قیادت اور 'نیشنل سٹیزن پارٹی' (NCP) جیسے نئے گروہ بھی پرانے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔

​نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے محض الیکشن کروانا ہی اپنا مقصد نہیں سمجھا، بلکہ وہ نظام کی جراحی (Surgery) میں مصروف ہیں۔ "جولائی چارٹر" کے نام سے متعارف کرائی گئی اصلاحات کے ذریعے آئین میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز دی گئی ہے، جن میں:
• ​وزیراعظم کے لیے دو مدت (Term limits) کی پابندی۔
• ​عدلیہ کی مکمل آزادی اور الیکشن کمیشن کی تشکیلِ نو۔
• ​ایک ایسے نظام کی تشکیل جہاں کوئی بھی جماعت دوبارہ آمریت قائم نہ کر سکے۔
​تاہم، طویل عرصے تک اقتدار سے باہر رہنے والی بی این پی جلد انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ عبوری حکومت کا موقف ہے کہ اصلاحات کے بغیر انتخابات دوبارہ اسی پرانے سیاسی بحران کو جنم دیں گے۔

​بنگلہ دیش جو کبھی جنوبی ایشیا کا معاشی ٹائیگر کہلاتا تھا، اس وقت شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ مہنگائی کی شرح 11 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آئی ہے۔ گارمنٹس کی صنعت، جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، سیاسی بے یقینی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔ مستقبل کی حکومت کے لیے اصل چیلنج سیاسی انتقام نہیں بلکہ بیروزگار نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کرنا اور گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا ہوگا۔

​حسینہ واجد کے دور میں بنگلہ دیش کا جھکاؤ واضح طور پر بھارت کی طرف تھا، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ نئی دہلی کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پیدا ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، ترکیہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں، خصوصاً امریکہ اور چین، بھی بنگلہ دیش کے اس عبوری دور پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ خلیجِ بنگال کی جیو پولیٹیکل اہمیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

​بنگلہ دیش کا مستقبل اب 12 فروری 2026 کے انتخابات اور اس سے قبل ہونے والے آئینی ریفرنڈم سے وابستہ ہے۔ اگر یہ انتخابات شفاف اور پرامن ہوئے تو بنگلہ دیش ایک حقیقی جمہوری دور میں داخل ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان ٹکراؤ بڑھا اور معاشی حالات نہ سنبھلے، تو ملک دوبارہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
​آج کا بنگلہ دیشی نوجوان صرف ووٹ کا حق نہیں چاہتا، وہ ایک ایسا نظام چاہتا ہے جہاں انصاف ہو اور معاشی مواقع سب کے لیے برابر ہوں۔ بنگلہ دیش کی تاریخ کا یہ نیا باب یا تو اسے ایک مستحکم جمہوریت بنا دے گا یا پھر اسے ایک نئی سیاسی خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گا۔ فیصلہ اب بنگلہ دیشی عوام اور ان کے نئے سیاسی معماروں کے ہاتھ میں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔