عمران خان کی آنکھوں کا بحران ایک طبی، سیاسی اور اخلاقی امتحان
بانی عمران خان کی صحت کا معاملہ، خاص طور پر ان کی دائیں آنکھ میں شدید بینائی کی کمی، آج کل پاکستان کی سیاست اور عوامی گفتگو کا مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ یہ نہ صرف ایک طبی بحران ہے بلکہ ایک سیاسی اور اخلاقی امتحان بھی، جہاں انسانی ہمدردی، عدالتی احکامات اور سیاسی مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔
طبی صورتحال: مرکزی ریٹینل وین occlusion (CRVO) کا سنگین مرض
عمران خان کی دائیں آنکھ میں central retinal vein occlusion (CRVO) نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، جو ریٹینا کی مرکزی رگ میں خون کے لوتھڑے (کلاٹ) کی وجہ سے ہوتی ہے۔ یہ مرض عام طور پر بوڑھے افراد میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول یا دل کے مسائل کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔
اکتوبر 2025 تک ان کی بینائی نارمل (6/6) تھی۔
تین سے چار ماہ میں دھندلاہٹ شروع ہوئی، شکایات کے باوجود جیل حکام نے فوری ایکشن نہیں لیا۔
جنوری 2026 کے آخر میں اچانک شدید نقصان ہوا، PIMS ہسپتال میں انجیکشن اور دیگر علاج کے باوجود دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی (یعنی 85 فیصد نقصان)۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور مناسب علاج نہ ہو تو دوسری آنکھ کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اور بینائی کا مکمل نقصان بھی ممکن ہے۔
فرینڈ آف دی کورٹ سلمان صفدر کی سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ میں یہ تفصیلات سامنے آئیں، جس میں عمران خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا اور جیل میں تاخیر سے علاج کی وجہ سے ناقابل تلافی نقصان کی بات کی۔
سپریم کورٹ کا کردار اور احکامات
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں عدالت نے فوری نوٹس لیا۔
16 فروری 2026 سے پہلے ماہرین امراض چشم کی ٹیم سے معائنہ کرانے کا حکم۔
عمران خان کو ان کے بیٹوں (قاسم اور سلمان خان، جو برطانیہ میں ہیں) سے فون پر بات کرنے کی سہولت (جو تقریباً 20 منٹ تک ہوئی)۔
طبی بورڈ تشکیل اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت۔
عدالت نے زور دیا کہ "صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے" اور "مداخلت کی ضرورت ہے"۔
یہ احکامات انسانی حقوق اور قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
حکومتی ردعمل: اقدامات اور دفاع
وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عمل کرتے ہوئے کئی اقدامات کیے
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اعلان کیا کہ علاج کا سلسلہ جاری ہے، مزید معائنہ اور علاج خصوصی طبی ادارے میں ماہرین امراض چشم کریں گے، اور رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہو گی۔
وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے تصدیق کی کہ صحت کے پیش نظر جیل سے ہسپتال منتقلی اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے (جس میں الشفا آئی ہسپتال کے ماہرین شامل ہو سکتے ہیں)۔
حکومت کا موقف ہے کہ وہ "انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں" کو مقدم رکھ رہی ہے، صحت جیسے حساس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، اور قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ جنوری میں ہی PIMS میں ابتدائی علاج ہو چکا ہے، اور اب تسلسل میں مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی، خاندان اور حامیوں کا موقف
بانی پی ٹی آئی کے خاندان، پارٹی اور حامیوں کا ردعمل سخت ہے:
علیمہ خان نے کہا کہ "عدالتی نظام دفن ہو چکا ہے"، چھپ کر علاج قبول نہیں، ذاتی معالجین اور خاندان کی موجودگی لازمی ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈاکٹروں کو "مجرم" قرار دیا۔
پی ٹی آئی کا مطالبہ: فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال یا معتبر نجی ہسپتال میں منتقلی، ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں علاج، خاندان کی موجودگی، اور طبی بنیادوں پر سزا معطلی یا ضمانت۔
پارٹی نے ملک بھر میں احتجاج، دھرنے اور "سڑکوں پر آؤ" کی کال دی ہے، الزام ہے کہ صحت کو دباؤ کا ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔
کئی رہنما اور کارکنان کا کہنا ہے کہ "جو صحت کارڈ پر لاکھوں کی آنکھیں ٹھیک کرتا تھا، آج خود محروم ہے"۔
سیاسی اور اخلاقی پہلو
یہ معاملہ محض طبی نہیں رہا۔ ایک طرف الزام ہے کہ تاخیر سیاسی انتقام کی وجہ سے ہوئی، دوسری طرف کچھ حلقے اسے "بڑھا چڑھا کر پیش کرنے" کی کوشش قرار دیتے ہیں (جیسے نواز شریف کے طبی ریلیف کی مثال)۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ 73 سالہ سابق وزیراعظم کی بینائی کا 85 فیصد نقصان ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔ اگر بروقت علاج نہ ملا تو یہ نہ صرف ایک فرد کا نقصان ہے بلکہ قومی سطح پر عدل و انصاف اور انسانی حقوق کے نظام پر سوال اٹھاتا ہے۔
حکومت اور عدلیہ کو چاہیے کہ شفافیت، فوری علاج اور خاندان کی اطمینان بخش شرکت یقینی بنائے۔ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ احتجاج کے ساتھ ساتھ قانونی اور طبی ماہرین کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے، مگر انتشار سے بچے۔
آخر میں، صحت اور بینائی جیسے بنیادی انسانی حقوق سیاست سے بالاتر ہیں۔ امید ہے کہ عمران خان کو مناسب علاج ملے گا، اور یہ بحران ایک مثبت سبق دے گا کہ قیدی بھی انسان ہیں، اور ان کے حقوق کی پاسداری ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Comments