"ایک دانہ: تجوری،  یا مٹی؟"سونا یا راکھ۔

 




--'روما محمود ۔---




جب آپ کا پیسہ آپ کے لیے کام کرنا چھوڑ دے

​معاشی اصطلاح میں ’ڈیڈ انویسٹمنٹ‘ کہلاتی ہے ۔

(Dead Investment) سے مراد ایسی سرمایہ کاری ہے جو نہ تو آپ کو ماہانہ بنیادوں پر کوئی منافع دے اور نہ ہی وقت کے ساتھ اس کی اصل قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو۔ سادہ الفاظ میں، یہ وہ پیسہ ہے جو کسی ایسی جگہ ’پھنس‘ گیا ہے جہاں سے واپسی کی امید کم ہو یا وہ وہاں پڑے پڑے اپنی قدر کھو رہا ہو۔

​پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں، جہاں مالیاتی شعور کی کمی ہے، لوگ اکثر اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایسی جگہوں پر لگا دیتے ہیں جو سرمایہ کاری نہیں بلکہ ’مالیاتی بوجھ‘ بن جاتی ہیں۔

​ڈیڈ انویسٹمنٹ کی عام مثالیں یہ ہیں ۔
غیر ترقی یافتہ پلاٹ: فائلیں یا ایسے پلاٹ خریدنا جہاں اگلے 10 سے 15 سال تک آبادی یا ترقیاتی کاموں کا کوئی امکان نہ ہو۔ ایسی زمین پر لگا پیسہ برسوں تک منجمد رہتا ہے۔
تعیشات پر خرچ: مہنگی گاڑیاں یا الیکٹرانکس خریدنا اس نیت سے کہ یہ سرمایہ کاری ہے، ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ گاڑی کی قیمت شوروم سے نکلتے ہی کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
گھر میں پڑا سونا یا نقدی: الماری میں رکھی نقدی افراطِ زر (Inflation) کی وجہ سے ہر گزرتے دن اپنی قوتِ خرید کھو رہی ہے۔ اگر پیسہ گردش میں نہیں ہے، تو وہ ’ڈیڈ‘ ہے۔
ناکارہ کاروبار: ایسا بزنس جس میں آپ مسلسل پیسہ ڈال رہے ہوں لیکن وہ منافع دینے کے بجائے صرف نقصان پورا کر رہا ہو، ایک کلاسک ڈیڈ انویسٹمنٹ ہے۔

​سوال ہے یہ خطرناک کیوں ہے؟
​سرمایہ کاری کا اصل مقصد ’کمپاؤنڈنگ‘ ہوتا ہے، یعنی پیسے سے پیسہ بننا۔ جب آپ کا سرمایہ کسی ڈیڈ انویسٹمنٹ میں پھنس جاتا ہے، تو آپ دوہرا نقصان اٹھاتے ہیں:
• ​افراطِ زر کا وار: اگر مہنگائی 20% ہے اور آپ کا سرمایہ 0% ترقی کر رہا ہے، تو حقیقت میں آپ ہر سال اپنی دولت کا پانچواں حصہ کھو رہے ہیں۔
• ​مواقع کا نقصان (Opportunity Cost): وہ پیسہ جو کسی ڈیڈ انویسٹمنٹ میں پڑا ہے، اگر کسی اسٹاک مارکیٹ، میوچل فنڈ یا منافع بخش کاروبار میں ہوتا تو اب تک دوگنا ہو چکا ہوتا۔

ڈیڈ انویسٹمنٹ سے کیسے بچیں؟
​سرمایہ کاری کرنے سے پہلے خود سے تین سوال ضرور پوچھیں:
• ​کیا یہ اثاثہ مجھے باقاعدہ آمدنی (Rental or Dividend) دے گا؟
• ​کیا اس کی قیمت بڑھنے کی شرح مہنگائی کی شرح سے زیادہ ہے؟
• ​ضرورت پڑنے پر کیا میں اسے فوری نقد رقم میں تبدیل (Liquidity) کر سکتا ہوں؟

پیسہ ایک بہتے ہوئے دریا کی طرح ہونا چاہیے جو معیشت کے کھیتوں کو سیراب کرے۔ اگر اسے کسی گڑھے میں جمع کر دیا جائے تو وہ جوہڑ بن جاتا ہے۔ اپنی سرمایہ کاری کا جائزہ لیں؛ اگر آپ کا پیسہ آپ کے لیے کام نہیں کر رہا، تو یاد رکھیں کہ آپ اس پیسے کے لیے سخت مشقت کر رہے ہیں۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ ’مردہ‘ سرمایہ کاری سے جان چھڑائیں اور اسے ’زندہ‘ اثاثوں میں منتقل کریں۔

میں آپ کو گندم کی مثال دیتی ہوں۔
گندم کا دانہ دراصل کائنات کا وہ چھوٹا سا 'یونٹ' ہے جو ہمیں سرمایہ کاری، تعلیم اور مذہب کے تمام فلسفوں کو ایک اکائی میں سمجھا دیتا ہے۔
گندم کا دانہ: ڈیڈ انویسٹمنٹ سے لامتناہی نفع تک کیسے پہنچے گا۔

​ایک گندم کا دانہ اپنی ذات میں دو راستے رکھتا ہے؛ یا تو وہ ’ڈیڈ‘ ہو جائے یا وہ ’نمو‘ پا کر ایک پوری نسل کی خوراک بن جائے۔

مٹی میں دفن ہونا یا گودام میں سڑنا (پیسہ اور ڈگری)
​اگر گندم کا ایک دانہ خوبصورت ریشمی کپڑے میں لپیٹ کر کسی تجوری میں رکھ دیا جائے، تو بظاہر وہ محفوظ ہے، لیکن حقیقت میں وہ ’ڈیڈ انویسٹمنٹ‘ ہے۔
پیسہ اگر تجوری میں بند ہے تو وہ افراطِ زر کی دیمک کا شکار ہو جائے گا۔
ڈگری اگر صرف دیوار پر سجی ہے اور عمل کے میدان میں نہیں اتری، تو وہ بھی اسی ’بند دانے‘ کی طرح ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ اپنی افادیت کھو دے گا۔

مٹی کی آغوش اور خود کو مٹانا (مذہب اور روحانیت)
​گندم کا دانہ جب تک مٹی میں جا کر خود کو مٹاتا نہیں، وہ بالی (سٹا) نہیں بن سکتا۔ مذہب ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ نفع تب شروع ہوتا ہے جب آپ اپنی ’انا‘ کو مٹا کر مخلوق کی خدمت میں لگ جاتے ہیں۔

قرآن کہتا ہے: "ان لوگوں کی مثال جو اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، ایسی ہے جیسے ایک دانہ، جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں" (البقرة: 261)۔

​یہ وہ ROI (Return on Investment) ہے جو دنیا کا کوئی بینک نہیں دے سکتا۔ ایک دانہ (نیکی/خلوص) سات سو گنا نفع دے رہا ہے۔

صحیح وقت اور صحیح زمین (حکمتِ عملی)
​گندم کا دانہ اگر بنجر زمین پر پھینک دیا جائے یا بے وقت بویا جائے، تو وہ کبھی نہیں اگے گا۔
یہی حال ہماری تعلیم کا ہے؛ اگر ہم غلط شعبے (بنجر زمین) میں محنت کر رہے ہیں، تو نتیجہ صفر ہوگا۔
یہی حال سرمایہ کاری کا ہے؛ اگر مارکیٹ کے تقاضوں کو سمجھے بغیر پیسہ لگایا، تو وہ دانہ زمین میں ہی گل سڑ جائے گا۔
دانے سے زندگی تک کا سفر
​گندم کا دانہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:
جمود موت ہے۔
دانے کا رکا رہنا اسے ختم کر دیتا ہے، حرکت اسے زندگی دیتی ہے۔
قربانی ضروری ہے۔
کچھ پانے کے لیے (فصل)، کچھ کھونا (دانہ بونا) پڑتا ہے۔
تقسیم میں برکت ہے: ایک دانہ جب خود کو بانٹتا ہے، تو سینکڑوں دانے پیدا کرتا ہے۔

کیا ہم اپنی زندگی کے ’دانے‘ (وقت، صلاحیت اور مال) کو کسی محفوظ تجوری میں رکھ کر ضائع کر رہے ہیں، یا ہم نے انہیں کسی ایسی زمین میں بویا ہے جہاں سے کل کو ایک بھرپور فصل کی امید ہے؟
​آپ کے خیال میں ہمارے معاشرے میں وہ 'بنجر زمین' کون سی ہے جہاں ہم سب سے زیادہ دانے ضائع کر رہے ہیں؟

بہت ہی گہرا اور بروقت نکتہ ہے! جب ہم 'ڈیڈ انویسٹمنٹ' کی بات کرتے ہیں، تو ہمارا ذہن صرف زمین یا سونے کی طرف جاتا ہے، جبکہ عصرِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ ’تعلیمی ڈیڈ انویسٹمنٹ‘ ہے۔
​ایسی ڈگریاں جو وقت، پیسہ اور توانائی لینے کے باوجود عملی زندگی میں کوئی فائدہ نہ دیں، وہ بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔

تعلیمی ڈگری: سرمایہ کاری یا محض کاغذ کا ٹکڑا؟
​جس طرح غیر منافع بخش زمین میں لگایا گیا پیسہ 'ڈیڈ' ہو جاتا ہے، اسی طرح ایسی ڈگری پر لگائے گئے لاکھوں روپے اور زندگی کے قیمتی چار پانچ سال بھی 'ڈیڈ انویسٹمنٹ' بن سکتے ہیں اگر وہ آپ کو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تیار نہ کریں۔

​آج بھی ہمارے کئی تعلیمی ادارے وہ نصاب پڑھا رہے ہیں جو بیس سال پہلے متروک ہو چکا ہے۔ جب ایک طالب علم لاکھوں روپے خرچ کر کے ایسی ڈگری لیتا ہے جس کی صنعت (Industry) میں کوئی طلب نہیں، تو یہ اس کے والدین کے خون پسینے کی کمائی کی 'ڈیڈ انویسٹمنٹ' ہے۔

​اگر آپ کے پاس کمپیوٹر سائنس کی ڈگری ہے لیکن آپ کوڈنگ نہیں جانتے، یا بزنس کی ڈگری ہے مگر آپ مارکیٹ کی حرکیات سے ناواقف ہیں، تو وہ ڈگری محض ایک فریم شدہ کاغذ ہے۔
حقیقت: سرمایہ کاری وہ ہے جو 'پروڈکٹو' ہو۔ اگر ڈگری آپ کی 'ارننگ کپیسٹی' (کمانے کی صلاحیت) نہیں بڑھا رہی، تو یہ مالیاتی اور وقت کا زیاں ہے۔

​ہمارے ہاں اکثر والدین بچوں کو صرف 'نام' کے لیے ایسی مہنگی یونیورسٹیوں میں داخل کروا دیتے ہیں جن کا آؤٹ پٹ صفر ہے۔ ڈگری کے نام پر لیا گیا تعلیمی قرضہ (Education Loan) یا جمع پونجی کا استعمال اس وقت بوجھ بن جاتا ہے جب ڈگری ہولڈر بیروزگاروں کی صف میں کھڑا ہو۔
تعلیمی سرمایہ کاری کو 'زندہ' کیسے رکھیں؟
​تعلیم کو ڈیڈ انویسٹمنٹ بننے سے بچانے کے لیے چند مشورے حاضر ہیں۔
• ​آر او آئی (Return on Investment) کا تخمینہ: کسی بھی ڈگری میں داخلے سے پہلے دیکھیں کہ اس پر آنے والی لاگت (Fees) اور اس کے بعد ملنے والی اوسط تنخواہ میں کیا تناسب ہے۔
ہائبرڈ اپروچ: صرف ڈگری پر تکیہ نہ کریں۔ ڈگری کے ساتھ ایسے سرٹیفیکیشنز اور ہنر سیکھیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔
وقت کی قدر: وہ چار سال جو آپ ڈگری کو دے رہے ہیں، وہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔ اسے صرف رٹا لگانے میں نہیں بلکہ نیٹ ورکنگ اور تجربے (Internships) میں لگائیں۔
​ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ڈگری منزل نہیں، بلکہ راستہ ہے۔ اگر راستہ بند گلی کی طرف جاتا ہو، تو اس پر سفر کرنا دانشمندی نہیں۔ تعلیمی اداروں کو اپنی 'پروڈکٹ' (نصاب) کو بہتر بنانا ہوگا اور طلبا کو 'خریدار' کے طور پر یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ جو خرید رہے ہیں، کیا وہ مستقبل میں انہیں منافع دے گا یا نہیں؟

​ہم روزانہ کئی ایسے 'دانے' (مواقع، وقت اور پیسہ) ضائع کرتے ہیں جو ایک پوری فصل بن سکتے تھے۔

وقت کی ڈیڈ انویسٹمنٹ (سوشل میڈیا کا کٹورا)
​فرض کریں آپ کے ہاتھ میں گندم کے چند دانے ہیں جنہیں آپ نے مٹی میں بونا تھا۔ لیکن آپ نے وہ دانے پرندوں کو ڈالنے کے بجائے نالی میں پھینک دیے۔
روزانہ 3 سے 4 گھنٹے فیس بک یا ٹک ٹاک پر 'اسکرولنگ' کرنا وقت کی وہ ڈیڈ انویسٹمنٹ ہے جس کا کوئی ریٹرن نہیں۔ یہ وقت اگر کسی چھوٹے سے ہنر (Skill) یا گھر کے کسی ادھورے کام پر لگتا، تو وہ 'دانہ' کل کو پھل دیتا۔
وہ جوتا یا کپڑا جو آپ نے سیل دیکھ کر خیز لیا لیکن پچھلے دو سال سے پہنا نہیں، وہ آپ کے پیسے کا 'مردہ دانہ' ہے۔
• ​روزمرہ مثال: ہم اکثر سیل کے چکر میں وہ چیزیں خرید لاتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ پیسہ الماری میں بند ہو کر اپنی قدر کھو دیتا ہے۔ اگر وہی پیسہ کسی کی ضرورت پوری کرتا یا کسی چھوٹی بچت اسکیم میں ہوتا، تو وہ 'زندہ' رہتا۔

​گندم کا دانہ زمین سے رشتہ جوڑتا ہے تو اگتا ہے۔ ہم انسانوں سے رشتہ تو جوڑتے ہیں لیکن 'مطلب' کی بنیاد پر۔
روزمرہ مثال: پڑوسی سے صرف اس وقت ملنا جب کام ہو، یہ ایک بنجر تعلق ہے۔ لیکن اگر آپ روزانہ تھوڑا سا وقت (دانہ) نکال کر اس کا حال پوچھ لیں، تو مشکل وقت میں وہی تعلق ایک تناور درخت بن کر آپ کو سایہ دے گا۔ یہ 'تعلقات کی انویسٹمنٹ' ہے۔

​ہم دسترخوان پر کتنا رزق ضائع کرتے ہیں؟ گندم کا وہ ایک دانہ جو ہم پلیٹ میں چھوڑ دیتے ہیں، وہ کسان کی مہینوں کی محنت اور قدرت کا معجزہ تھا۔

بچا ہوا کھانا پھینکنا ڈیڈ انویسٹمنٹ کی بدترین شکل ہے۔ اگر وہی کھانا کسی مستحق کو جائے (مذہبی انویسٹمنٹ) یا اسے صحیح طریقے سے ری سائیکل کیا جائے، تو وہ رزق ضائع ہونے کے بجائے برکت کا باعث بنتا ہے۔

​آج رات سونے سے پہلے ذرا سوچیں کہ آج آپ نے گندم کے کون سے 'دانے' کہاں لگائے؟
• ​کیا وہ دانے مٹی میں گئے؟ (یعنی کیا آپ نے کچھ نیا سیکھا یا کسی کی مدد کی؟)
• ​کیا وہ دانے تجوری میں رہے؟ (یعنی کیا آپ نے صرف خوف کی وجہ سے اپنی صلاحیتیں چھپا کر رکھیں؟)
• ​یا وہ دانے نالی میں بہہ گئے؟ (یعنی کیا آپ نے وقت فضول بحث یا بیکار کاموں میں ضائع کر دیا؟)
 روزمرہ زندگی میں 'بچت' کا مطلب صرف پیسہ بچانا نہیں، بلکہ ضیاع کو روکنا ہے۔ جب آپ ایک دانے کی قدر کرنا سیکھ جاتے ہیں، تو کائنات آپ کو پوری فصل کا مالک بنا دیتی ہے۔
​آپ کے خیال میں آپ کی روزمرہ زندگی کا وہ کون سا کام ہے جو سب سے زیادہ 'ڈیڈ انویسٹمنٹ' ثابت ہو رہا ہے؟ شاید وہ کوئی عادت ہو یا کوئی خاص خرچہ؟

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔