پاٹے خان کی جاگیر اور "ایشیائی ٹائیگر" کا خواب
تحریر: روما محمود
قصہ مختصر کچھ یوں ہے کہ ہمارے محلے میں ایک صاحب ہوا کرتے تھے، جنہیں دنیا "پاٹے خان" کے نام سے پکارتی تھی۔ صاحب کا حلیہ کچھ ایسا تھا کہ پاؤں کی چپل ایک طرف سے گھسی ہوئی، واسکٹ کے بٹن غائب، اور سر پر ایک ایسی تڑی ہوئی ٹوپی جو شاید قیامِ پاکستان کے وقت بھی پرانی رہی ہوگی۔ لیکن کمال یہ تھا کہ پاٹے صاحب کی باتیں سن کر لگتا تھا جیسے وائٹ ہاؤس کے فیصلے ان کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوتے۔
وہ ٹوٹے ہوئے چھپر کے نیچے بیٹھ کر ایسی ڈھینگیں مارتے کہ مغل شہنشاہ بھی قبروں میں تڑپ اٹھتے ہوں گے۔ ان کا مشہور جملہ تھا: "او میاں! یہ جو تم میرے ہاتھ میں سوکھی روٹی دیکھ رہے ہو، یہ دراصل میری ڈائٹ کا حصہ ہے، ورنہ تم جانتے نہیں کہ دبئی کے شیخوں نے مجھے لنچ پر بلایا ہوا ہے، بس ذرا پاسپورٹ کا مسئلہ چل رہا ہے۔"
"پاٹے خان" محض ایک نام نہیں بلکہ ایک پوری نفسیات کا نام ہے۔ یہ وہ کردار ہے جس کی جیب خالی ہوتی ہے لیکن زبان سے وہ ریاستیں خریدنے کی باتیں کرتا ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو ایک ٹوٹی ہوئی سائیکل پر بیٹھ کر خود کو ہفت اقلیم کا مالک تصور کرتا ہے۔ سماج میں جب بھی کوئی فرد اپنی اوقات سے بڑھ کر دعوے کرتا ہے یا کھوکھلی انا کا سہارا لے کر دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے "پاٹے خان" کے لقب سے نوازا جاتا ہے۔
پاٹے خان کی سب سے بڑی طاقت اس کی "غلط فہمی" ہوتی ہے۔ وہ اس وہم میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے بغیر نظام نہیں چل سکتا، حالانکہ وہ خود نظام کا سب سے کمزور مہرہ ہوتا ہے۔ وہ ماضی کی فرضی داستانوں میں رہتا ہے اور مستقبل کے ایسے خواب بنتا ہے جن کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔
ہماری قومی "پاٹے خانی" سیاست کا نقطہ نظر۔
اگر ہم آج کے پاکستان پر نظر ڈالیں تو محسوس ہوتا ہے کہ "پاٹے خان" محض ایک فرد نہیں تھا، بلکہ ایک پوری وراثت تھی جو اس نے ہماری قیادت کو سونپ دی ہے۔
پاٹے خان کی سب سے بڑی نشانی یہ تھی کہ وہ مانگنے والے سے بھی ادھار مانگ لیتا تھا لیکن اپنی "ٹور" میں کمی نہیں آنے دیتا تھا۔ آج ہمارا ملک بھی اسی نہج پر ہے۔ ہم آئی ایم اف (IMF) کے دفتر کے باہر لائن میں لگے ہوتے ہیں، لیکن ہماری شاہ خرچیاں ایسی ہیں کہ جیسے سارا تیل ہمارے ہی ملک سے نکل رہا ہو۔
پاٹے خان کا گھر نیلام ہو رہا ہوتا تھا مگر وہ محلے میں مٹھائی بانٹتا تھا کہ "میں نے گھر بیچ کر نئی سلطنت لینے کا ارادہ کر لیا ہے"۔ ہماری حکومتیں بھی قرضہ لے کر اسے "کامیابی" قرار دیتی ہیں۔
"سب اچھا ہے" کی بانسری بجائی جا رہی ہے ۔
ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے، غریب کی ہنڈیا خالی ہے اور پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں، لیکن ٹی وی کھولیں تو "پاٹے خان کے وارث" اعداد و شمار کی ایسی جادوگری دکھاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جائے۔
• حقیقت: آٹا 800 روپے کلو ہونے کو ہے، مگر بیان آتا ہے کہ "عوام کی قوتِ خرید بڑھ گئی ہے"۔
• پاٹے خانی منطق: "میاں! بھوک تو صرف ایک احساس ہے، اصل چیز تو وہ شاہانہ خواب ہیں جو میں تمہیں دکھا رہا ہوں!"
دشمنوں کی "عالمی سازش" ہی ہے نہ۔
پاٹے خان سے جب پوچھا جاتا کہ " صاحب! آپ کے پاس تو پہننے کو جوتا نہیں، آپ بادشاہ کیسے بنیں گے؟" تو وہ فورا جواب دیتے، "یہ سب پڑوسی گاؤں والوں کی سازش ہے، وہ میرے ٹیلنٹ سے ڈرتے ہیں، اس لیے میری چپل چوری کر لیتے ہیں۔"
آج ہمارے ملک میں بھی ہر ناکامی، ہر دھماکے اور ہر معاشی بحران کے پیچھے ایک "بیرونی ہاتھ" تلاش کر لیا جاتا ہے تاکہ اپنی نااہلی پر پردہ ڈالا جا سکے۔
انجامِ گلستاں کیا ہوگا؟
پاٹے خان کا انجام یہ ہوا کہ وہ ایک دن اسی ٹوٹے ہوئے چھپر کے نیچے دب کر رہ گیا، اور اس کے پاسپورٹ کے خانے میں صرف خالی کاغذ نکلے۔ ہم بھی ایک ایسی ہی نہج پر کھڑے ہیں۔ اگر ہم نے "پاٹے خانی" بیانیے، کھوکھلی انا اور جھوٹے اعداد و شمار کی پناہ گاہوں سے باہر نکل کر زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا، تو تاریخ کے صفحات ہمیں کسی بہادر قوم کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھیں گے جو بھوکی پیاسی تو تھی، مگر اپنی "ٹور" پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھی۔
وقت آگیا ہے کہ ہم کلف لگے گریبانوں سے باہر جھانکیں اور دیکھیں کہ پاؤں میں جوتے ہیں بھی یا نہیں۔
ننگے پاوں اور دکھی سنسار
سن وقت کی پکار۔
پاٹے خان کی کہانی کا انجام اکثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہی بنائی ہوئی خیالی دنیا میں گم ہو کر مٹ جاتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت "پاٹے خانی" سیاست کی نہیں، بلکہ سچائی اور کڑوی حقیقتوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پیوند لگی قمیض کو چھپانے کے بجائے اسے سینے کی ضرورت ہے، یعنی ہمیں اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے ہوں گے۔
اگر ہم اب بھی نہ جاگے اور "سب اچھا ہے" کے راگ الاپتے رہے، تو تاریخ ہمیں بھی کسی قصے کا "پاٹے خان" بنا کر چھوڑ دے گی۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے ارد گرد موجود "پاٹے خان" ہمیں کبھی حقیقت کا سامنا کرنے دیں گے؟
کیا ہم خوش فہمیوں کا شکار ہو کر مر کھپ جائیں گے ۔
پاٹے خان آج بھی ہم میں موجود ہے ۔
میرے اندر، تیرے اندر ، اردگرد کا ہر شخص ایک بےکار کے خبط میں مبتلا ہے ۔
انجام۔سب کا مٹی کی ڈھیری ہے ۔

Comments