ارے! کیا ہوا؟ کہیں نظر تو نہیں لگ گئی؟"

 


تحریر: روما محمود


لالہ بیگم کے اکلوتے بیٹے  نے جب اسکول کے سالانہ فنکشن میں 'بیسٹ ڈیبیٹر' کی ٹرافی جیتی، تو گھر میں جشن کا سماں تھا۔ ہر زبان پر اس کی ذہانت کے چرچے تھے کہ اچانک وہ نڈھال ہو کر صوفے پر گر پڑا اور اسے تیز بخار نے آ لیا۔ بڑی آپا نے فوراً کچن کی طرف دوڑ لگائی اور سرخ مرچیں اٹھا لائیں۔ بیٹے کے سر سے سات بار مرچیں وارتے ہوئے وہ بڑبڑائیں، "میرا بچہ چاند جیسا چمک رہا تھا، حاسدوں کی نظر کھا گئی اسے۔"

​یہ منظر صرف ایک گھر کا نہیں، بلکہ ہمارے پورے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جہاں خوشی کی دستک کے ساتھ ہی "نظرِ بد" کا خوف دبے قدموں داخل ہو جاتا ہے۔

نمائش کا دور اور حاسدانہ نظر کا وار ایک عام سی بات ہے۔

​آج کا دور نمائش کا دور ہے۔ سوشل میڈیا نے نظرِ بد کے لیے شاہراہیں کھول دی ہیں۔ ہم اپنی زندگی کا ہر خوشگوار لمحہ—خواہ وہ دسترخوان پر سجی لذیذ ڈش ہو، نئی گاڑی ہو یا بچوں کی مسکراہٹ—دنیا کے سامنے پیش کر دیتے ہیں۔ جب ہزاروں آنکھیں ایک نعمت کو دیکھتی ہیں، تو ان میں ستائش کم اور یہ کسک زیادہ ہوتی ہے کہ "یہ میرے پاس کیوں نہیں؟" یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی آنکھ سے نکلنے والی منفی توانائی یا 'حسد کی تپش' سامنے والے کی خوشی کو جھلسا دیتی ہے۔

نظر اتارنے کے طریقے: روایت اور روحانیت دونوں ضروری ہیں۔

​ہمارے معاشرے میں نظر اتارنے کے لیے کئی قدیم اور مذہبی طریقے رائج ہیں، جنہیں تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ روایتی و دیسی طریقے:
برصغیر میں صدیوں سے سرخ مرچیں جلانے کا رواج ہے تاکہ ان کی دھانس سے نظر کا اندازہ ہو سکے۔ اسی طرح پھٹکری کا ٹکڑا وار کر آگ میں جلانا اور اس سے بننے والی اشکال میں 'حاسد' کو تلاش کرنا ایک عام مشغلہ ہے۔ کچھ لوگ نمک وار کر پانی میں بہانے کو بھی منفی توانائی ختم کرنے کا ذریعہ مانتے ہیں۔
۲۔ شرعی و روحانی علاج:
اسلامی تعلیمات میں نظرِ بد کا علاج دعاؤں (رقیہ) میں بتایا گیا ہے۔ سورہ الفلق، سورہ الناس اور آیت الکرسی بہترین حفاظتی ڈھال ہیں۔ مسنون دعائیں جیسے "أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ" پڑھنا اور نظر لگانے والے کے وضو کے پانی سے غسل کرنا مستند طریقے ہیں۔
۳۔ نفسیاتی و حفاظتی تدابیر:
بزرگوں کا کہنا ہے کہ "نعمتوں کو چھپاؤ تاکہ وہ محفوظ رہیں"۔ بلاوجہ کی نمائش سے گریز اور ہر اچھی چیز پر "ماشاء اللہ تبارک اللہ" کہنا نہ صرف سنت ہے بلکہ نظرِ بد کا بہترین توڑ بھی ہے۔

وہم اور حقیقت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ۔

​معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم دو انتہاؤں پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جو ہر حادثے، ناکامی اور بیماری کا ملبہ 'نظر' پر ڈال کر اپنی غلطیوں سے نظریں چرا لیتا ہے، اور دوسری طرف وہ جو اسے محض توہم پرستی قرار دے کر ان روحانی اثرات کا سرے سے انکار کر دیتا ہے۔
​حقیقت یہ ہے کہ نظرِ بد برحق ہے، لیکن اس کا حل کالی چپل لٹکانے، کالے دھاگے باندھنے یا وہم کی دلدل میں دھنسنے میں نہیں، بلکہ احتیاط اور اللہ کے کلام پر کامل یقین رکھنے میں ہے۔

مختلف طریقوں سے نظر اتاری جاتی ہے۔
چند ایک یہ ہیں۔

لال مرچوں کا وارنا
سات سرخ خشک مرچیں لے کر متاثرہ شخص کے سر سے سات بار وار کر آگ میں ڈالی جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر مرچیں جلنے پر دھانس (تیز بو) نہ آئے تو نظر لگی ہوئی ہے۔
نمک کا استعمال
مٹھی میں نمک لے کر سر سے وار کر بہتے پانی میں ڈالنا یا آگ میں ڈالنا۔ نمک کو منفی توانائی جذب کرنے کا ذریعہ مانا جاتا ہے۔
انڈے کا استعمال
بعض گھرانوں میں انڈا وار کر کسی ویران جگہ یا چوراہے پر رکھ دیا جاتا ہے تاکہ "بلا" ٹل جائے۔
پھٹکری کا طریقہ
پھٹکری کا ٹکڑا وار کر آگ میں جلایا جاتا ہے۔ عوامی عقیدہ ہے کہ جلنے کے بعد پھٹکری کی شکل اس شخص جیسی بن جاتی ہے جس کی نظر لگی ہو۔

​اگر ہم اپنے دلوں کو دوسروں کے لیے صاف کر لیں اور دوسروں کی خوشی میں دل سے خوش ہونا سیکھ لیں، تو یہ معاشرہ حسد کی اس آگ سے بچ سکتا ہے۔ اپنی خوشیوں کو نمائش کی بھینٹ نہ چڑھائیں اور یاد رکھیں کہ حقیقی شفا اور تحفظ صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

ایک طرف تو نظرِ بد کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں، لیکن دوسری طرف ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی ہر سستی، نااہلی اور بیماری کا ملبہ "نظر" پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ بچہ پڑھ نہیں رہا تو نظر لگ گئی، کاروبار میں محنت نہیں کی تو ٹوک لگ گئی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم احتیاط (پردہ داری) اور دعا کو اپنائیں، مگر وہم کی اس دلدل میں نہ گریں جہاں زندگی مفلوج ہو کر
رہ جائے۔

بد دراصل انسانی آنکھ سے نکلنے والی وہ منفی توانائی ہے جس کا ایندھن "حسد" ہے۔ اگر ہم اپنے دلوں کو دوسروں کے لیے صاف کر لیں، دوسروں کی خوشی پر دل سے "ماشاء اللہ" کہیں اور اپنی نعمتوں کی بے جا نمائش سے گریز کریں، تو ہم ایک پرسکون معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ کالی چپل لٹکانے یا کالے دھاگے باندھنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے ایمان اور دعاؤں کی ڈھال کو مضبوط بنائیں۔


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔