Climate change and 5 rivers پاکستان کے پانچ دریا اور موسمیاتی تبدیلی، پانی کے دھارے اور بدلتی تقدیر
---روما محمود---
یہ بات مجھے میرے ابو نے بتائی تھی ۔ دریاؤں میں جو تازہ پانی آتا ہے وہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے آتا ہے۔برف پگھل کر پھر وہ پانی دریاؤں سے ہوتا ہوا بحر عرب میں جا کر گرتا ہے۔
اس سے سمندر میں تازہ مچھلی پیدا ہوتی ہے اور سمندر پیچھے کی طرف چلا جاتا ہے۔
ورنہ وہ بھی بحر مردار بن جائے۔
وہاں سے جو بخارات اٹھتے ہیں وہ سفید بادلوں بن کر ہمالیہ کی چوٹی سے ٹکراتے ہیں اور ان میں بارش کا تازہ پانی بھر جاتا ہے۔
اس سے ایک ecosystem پیدا ہوتا ہے جس کی وجہ سے بادلوں میں پانی بھرتا ہے پھر وہ ہمالیہ کے پہاڑوں سے جا کر ٹکراتےہیں۔ اس پورے عمل کے نتیجے میں یہاں
مون سون کی بارشیں ہوتی ہیں
پھر پہاڑوں پر سردیوں میں شدید برفباری ہوتی ہے ۔
پھر گرمیوں میں برف پگھل کر دریاؤں میں تازہ پانی آتا ہے ۔
ابو تو ہیں نہیں۔
لیکن ایک امانت کئ طرح ہی بات میں نے آپ لوگوں تک پہنچا دئ ہے۔
انڈیا کو یہ بات واضح کئ جائے
دونوں ملکوں کی بقا اس میں ہے۔
#climate change وہ اسی
جو یہاں اولے پڑ رہے ہیں tennis ball size کا نتیجہ ہے۔
کیونکہ بادلوں میں اتنی سکت ہی نہیں ہے کہ وہ ہمالیہ تک پہنچ سکیں۔
بات کو سمجھیں۔
دریاؤں ہیں تازہ پانی بحال کروانے کی کوشش کی جائے۔
مقدمہ: زندگی کی لکیریں اور خطرے کے سگنل
پاکستان کی معیشت، زراعت اور ثقافت کا دارومدار بنیادی طور پر اس کے پانچ دریاؤں—سندھ، جہلم، چناب، راوی، اور ستلج—پر ہے۔ پنجاب، جسے "پانچ پانیوں کی سرزمیں" کہا جاتا ہے، اور سندھ کے زرخیز میدان انہی دریاؤں کے مرہونِ منت ہیں۔ ان دریاؤں کا نظام (Indus Basin Disease) پاکستان کے لیے ایک لائف لائن یا زندگی کی لکیر ہے۔ لیکن آج، اکیسویں صدی میں، یہ لائف لائن عالمی سطح پر ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں (Climate Change) کے ہدف پر ہے۔
موسمیاتی چیلنجز کے اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے چند حساس ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، مانسون کے نظام میں بے ترتیبی، اور درجہ حرارت میں اضافہ ہمارے ان دریاؤں کے بہاؤ اور ملک کے مستقبل کو تیزی سے بدل رہا ہے۔
پانچ دریا: پاکستان کا تاریخی اور جغرافیائی اثاثہ
پاکستان کے ان پانچ دریاؤں کی اپنی منفرد تاریخ اور اہمیت ہے، جو ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں سے نکل کر ملک بھر کو سیراب کرتے ہیں:
- دریاائے سندھ (Indus River): یہ پاکستان کا سب سے بڑا اور طویل ترین دریا ہے، جسے "دریاؤں کا بادشاہ" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تبت سے نکلتا ہے اور پورے پاکستان کو شمال سے جنوب تک عبور کرتا ہوا بحیرہ عرب میں گرتا ہے۔ یہ پاکستان کی زراعت کا سب سے بڑا ضامن ہے۔
- دریائے جہلم: یہ کشمیر کی وادی سے نکلتا ہے اور منگلا ڈیم کے ذریعے پاکستان کے ایک بڑے حصے کو بجلی اور پانی فراہم کرتا ہے۔
- دریائے چناب: ہماچل پردیش سے نکلنے والا یہ دریا پاکستان کے وسطی پنجاب کے زرخیز میدانوں کو سیراب کرتا ہے اور تریموں کے مقام پر جہلم سے ملتا ہے۔
- دریائے راوی: لاہور کا تاریخی شہر اسی دریا کے کنارے آباد ہے۔ سائز میں چھوٹا ہونے اور سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے کنٹرول میں ہونے کی وجہ سے یہ دریا اکثر خشک رہتا ہے یا اس میں آلودہ پانی بہتا ہے۔
- دریائے ستلج: یہ سلسلہ ہمالیہ سے نکل کر بہتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ راوی کی طرح یہ بھی زیادہ تر وقت خشک رہتا ہے، لیکن مانسون میں بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے پر اس میں اچانک طغیانی آ جاتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا دریاؤں پر اثر: المیہ اور چیلنجز
موسمیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خطرہ نہیں رہی، بلکہ ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے۔ پاکستان کے دریا اس تبدیلی کا سب سے پہلا اور واضح ہدف بنے ہیں، جس کے اثرات درج ذیل صورتوں میں نظر آ رہے ہیں:
1. گلیشیئرز کا پگھلنا: عارضی سیلاب اور مستقبل کی خشکی
پاکستان میں قطبین (Polar Regions) کے باہر دنیا کے سب سے زیادہ گلیشیئرز پائے جاتے ہیں۔ دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا تقریباً 70 سے 80 فیصد پانی انہی گلیشیئرز کے پگھلنے سے آتا ہے۔ عالمی درجہ حرارت (Global Warming) میں اضافے کی وجہ سے یہ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔
- فوری اثر: گلیشیئرز پگھلنے سے جھیلیں پھٹنے کے واقعات (GLOF) بڑھ رہے ہیں، جس سے شمالی علاقوں میں اچانک تباہ کن سیلاب آتے ہیں۔
- مستقبل کا خطرہ: اگر یہ گلیشیئرز اسی رفتار سے پگھلتے رہے تو اگلے چند دہائیوں میں یہ ختم ہو جائیں گے، جس کے بعد ہمارے دریا مستقل طور پر خشک ہو جائیں گے اور پاکستان شدید قحط کا شکار ہو سکتا ہے۔
2. مانسون کی بے ترتیبی اور سپر فلڈز
موسمیاتی تبدیلی نے مانسون کی بارشوں کے روایتی انداز کو بالکل بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب بارشیں اپنے وقت پر نہیں ہوتیں، اور جب ہوتی ہیں تو چند دنوں میں پورے مہینے کا کوٹہ برسا دیتی ہیں۔
- 2010ء اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب اس کی واضح مثالیں ہیں، جب دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں میں پانی کی مقدار قابو سے باہر ہو گئی، جس سے ملک کا ایک تہائی حصہ پانی میں ڈوب گیا اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔
3. دریاؤں کا سوکھنا اور ماحولیاتی تنزل (Ecological Disaster)
ایک طرف جہاں سیلاب کا خطرہ ہے، وہیں سال کے باقی مہینوں میں دریاؤں میں پانی کی شدید کمی ہو جاتی ہے۔ کوٹ مٹھن کے مقام پر جہاں پانچوں دریا مل کر "پنجند" بناتے ہیں، وہاں بھی اکثر ریت اڑتی دکھائی دیتی ہے۔ دریائے راوی اور ستلج میں پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح (Water Table) تیزی سے گر رہی ہے، جس سے پینے کے صاف پانی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔
معیشت اور زراعت پر اثرات
پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی بلاواسطہ یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کا مطلب ملکی معیشت کی تباہی ہے۔
- فصلوں کو نقصان: پانی کی کمی یا اچانک سیلاب کی وجہ سے کپاس، چاول اور گندم جیسی نقد آور فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
- صنعتی اور پینے کے پانی کا بحران: دریاؤں میں پانی کم ہونے سے نہ صرف نہری نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ ملک کے بڑے شہروں کو پانی کی فراہمی بھی معطل ہو جاتی ہے۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟ حل کی راہیں
موسمیاتی تبدیلی کے اس طوفان کو روکنا اکیلے پاکستان کے بس میں نہیں، کیونکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے، لیکن اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں:
- نئے ڈیمز اور واٹر اسٹوریج کی تعمیر: پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف 30 دن کی ہے، جبکہ دنیا میں یہ اوسط 90 دن ہے۔ بھاشا ڈیم اور دیگر چھوٹے و بڑے ڈیمز کی فوری تکمیل ضروری ہے تاکہ سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور خشک سالی کے وقت کام لایا جا سکے۔
- جدید طریقۂ کاشتکاری (Water Management): روایتی سیلابی پاشی (Flood Irrigation) کے بجائے ڈرپ اور اسپرنکلر سسٹمز کو فروغ دیا جائے تاکہ پانی کا زیاں کم سے کم ہو۔
- شجرکاری کی مہم (Afforestation): دریاؤں کے کناروں اور پہاڑی علاقوں میں بڑے پیمانے پر درخت لگانا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور زمین کے کٹاؤ کو روکنے کا واحد قدرتی حل ہے۔
- پانی کی منصفانہ تقسیم اور علاقائی تعاون: سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) پر نظرِ ثانی یا اس کے مؤثر نفاذ کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنی ہوں گی تاکہ پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت کے ساتھ پانی کے مسائل کو موسمیاتی پسِ منظر میں حل کیا جا سکے۔
ہمارے پانچ دریا صرف پانی کے دھارے نہیں، یہ پاکستان کی دھڑکن ہیں۔ اگر ہم نے موسمیاتی تبدیلی کے سگنلز کو اب بھی سنجیدگی سے نہ لیا، تو یہ دریا یا تو ہمارے شہروں کو نگلتے رہیں گے یا پھر ریت کے صحراؤں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ حکومت، سائنسدانوں اور عوام کو مل کر ایک طویل المدتی "واٹر اور کلائمیٹ پالیسی" پر عمل کرنا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترسیں گی اور تاریخ ہمیں اس غفلت پر کبھی معاف نہیں کرے گی۔


Comments