سرسوں پنجاب کی شان ،عزت پیلے رنگ کی چادر سرسوں کے کھیت اور ہماری زندگی کا حسن
سردی اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے ۔ آج کل میں موسم کھل جائے گا ۔
موسم کی اکڑ کچھ کم ہو چکی ہے۔ اب صرف ایک بارش کی دیر ہے پھٹ کا موسم شروع ہو جائے گا ۔ ہر طرف مؤسم بہاراں کا شاندار استقبال کیا جائے گا ۔ ہر ملک اپنی تہزیب اور ماضی کی طرح اس کی آمد کو خوش آمدید کہتا ہے ۔ پنجاب میں
سرسوں کے کھیت زرد رنگوں میں ڈھل جاتے ہیں اور تتلیاں پکڑنے کا اپنا ہی مزہ ہے اور شہد کی مکھیوں سے پھول بھرے ہوتے ہیں ۔ اصل بہار صرف سرسوں کے کھیت ہی لے کر آتے ہیں ۔
لوگ پیلے رنگ کے کپڑے پہن کر پھرتے ہیں ۔ اس نسبت سے بسنتی رنگ کہتے ہیں اسے۔ بسنت مناتے ہیں ۔مشہور محاورہ ہے
بسنت جاڑے کا انت،
بسنت پالا اڑنت ۔
سرسوں پنجاب کی شان ، آن ،عزت ۔ ہے
جب خزاں کے اداس پتے جھڑ جاتے ہیں اور سردی کی خنک لہریں پورب سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ مل کر دھرتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں، تو پنجاب اور برصغیر کے دیگر دیہی علاقوں کے افق پر ایک جادوئی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی کسی نقاش کے قلم یا کسی مصور کے برش کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ یہ قدرت کا وہ شاہکار ہے جسے ہم "سرسوں کے کھیت" کہتے ہیں۔ دسمبر اور جنوری کے مہینوں میں جب دھند کی سفید چادر زمین کو ڈھانپتی ہے، تو اس کے نیچے سے سرسوں کے پیلے پھول یوں نمودار ہوتے ہیں جیسے کسی نے سبز ریشم پر خالص سونا بکھیر دیا ہو۔
. ایک بصری سحر جب دھرتی پیراہنِ زرد پہنتی ہے
پنجاب کی دھرتی کا اصل حسن اس کے بدلتے موسموں اور ان موسموں کے رنگوں میں ہے۔ سرسوں کا کھیت محض ایک فصل نہیں، بلکہ سردیوں کے اداس اور سرمئی موسم میں زندگی، امید اور چمک کا اعلان ہے۔ جب آپ شہر کی کنکریٹ کی دیواروں، دھوئیں اور ٹریفک کے شور سے نکل کر کسی دیہی سڑک پر گامزن ہوتے ہیں، تو دور افق تک پھیلا ہوا زرد رنگ آپ کی آنکھوں کو وہ تسکین دیتا ہے جو دنیا کا کوئی مہنگا ترین ریزورٹ یا سیاحتی مقام نہیں دے سکتا۔
سرسوں کے پھولوں کی اپنی ایک منفرد خوشبو ہوتی ہے۔ یہ کوئی تیز یا مصنوعی عطر جیسی خوشبو نہیں ہوتی، بلکہ اس میں مٹی کی نمکین رنگت، شبنم کے قطروں کی ٹھنڈک اور خالص پن شامل ہوتا ہے۔ جب صبح کی ہلکی دھوپ ان پھولوں پر پڑتی ہے اور ان پر جمی شبنم کے قطرے موتیوں کی طرح چمکتے ہیں، تو انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ہوا کے ایک ہلکے سے جھونکے سے جب پورا کھیت ایک ساتھ لہراتا ہے، تو ایسا لگتا ہے جیسے پیلے رنگ کا ایک سمندر ہے جس میں موجیں اٹھ رہی ہیں۔
سرسوں کے کھیت اور ہماری لوک ثقافت
ہمارے دیہی معاشرے میں سرسوں کے کھیت کا رشتہ صرف کسان کی محنت سے نہیں، بلکہ ہماری صدیوں پرانی ثقافت اور تہواروں سے بھی ہے۔
۔ جشنِ بہاراں اور بسنت کا پیش خیمہ
اگرچہ بسنت کا تہوار فروری میں منایا جاتا ہے، لیکن اس کی آمد کا اعلان دسمبر اور جنوری میں سرسوں کے یہ پھول ہی کر دیتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں زرد رنگ کو خوشی، نئی امید اور زرخیزی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیاں زرد دوپٹے رنگواتی ہیں، اور لوک گیتوں میں سرسوں کے پھولوں کا ذکر اس طرح کیا جاتا ہے جیسے وہ کسی کے آنے کی خوشخبری ہوں۔
ب۔ لوک داستانیں اور پنجاب کے رومانوی قصے
ہماری کلاسک لوک داستانوں، جیسے ہیر رانجھا، سسی پنوں یا مرزا صاحباں، میں دیہی پس منظر ہمیشہ سرسوں کے کھیتوں کے گرد گھومتا ہے۔ ہیر کا رانجھے کے لیے چوری لے کر جانا، یا پنچائتوں کا ان کھیتوں کے کنارے لگی بوہڑ کی چھاؤں میں بیٹھنا—یہ سب ہماری ثقافتی یادداشت کا حصہ ہیں۔ سرسوں کے کھیت نے ہمیشہ شاعروں اور ادیبوں کو مہندرا اور محبت کے گیت لکھنے پر مجبور کیا ہے۔
غذا اور صحت کا ضامن ساگ اور سرسوں کا تیل
سرسوں کا کھیت صرف دیکھنے کے لیے خوبصورت نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری روایتی غذائیت کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ سردیوں کے آتے ہی ہر گھر، چاہے وہ گاؤں کا کچا مکان ہو یا شہر کا کوئی بنگلہ، ایک فرمائش سب کے لبوں پر ہوتی ہے: "سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی۔
سرسوں کے گندلوں (نرم تنے) کو توڑ کر، انہیں روایتی انداز میں مٹی کی ہانڈی میں گھوٹ کر بنایا جانے والا ساگ صرف ایک ڈش نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہوار ہے۔ اس میں دیسی گھی یا مکھن کا تڑکا اور ساتھ میں لسی کا گلاس، ایک ایسا شاہی کھانا ہے جس کے سامنے دنیا کے مہنگے ترین پیزا اور برگر ہیچ دکھائی دیتے ہیں۔
سرسوں کا تیل (کڑوا تیل جب یہ پھول پک کر بیج کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، تو ان سے سرسوں کا خالص تیل نکالا جاتا ہے۔ یہ تیل ہمارے بالوں کی مضبوطی، جسم کی مالش اور روایتی کھانوں کو پکانے کے لیے صدیوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ جدید سائنس بھی اب مانتی ہے کہ سرسوں کا تیل دل کی صحت اور جلد کے لیے انتہائی مفید ہے۔
دیہی معیشت میں سرسوں کا کردار
ایک کسان کے لیے سرسوں کا کھیت اس کے خوابوں کی تعبیر ہوتا ہے۔ گندم کی فصل کے ساتھ یا اس کے کناروں پر سرسوں کی کاشت کی جاتی ہے۔ یہ فصل کم پانی اور کم دیکھ بھال مانگتی ہے، لیکن اس کا فائدہ کثیر الجہتی ہوتا ہے:
سرسوں کے پتے اور تنے سردیوں میں مویشیوں کے لیے بہترین اور غذائیت سے بھرپور چارہ ثابت ہوتے ہیں، جس سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیش کراپ (نقد آور فصل) سرسوں کے بیجوں (رایئ یا تارا میرا) کو مارکیٹ میں بیچ کر کسان کو وہ نقد رقم حاصل ہوتی ہے جس سے وہ گندم کی فصل کے لیے کھاد اور دیگر اخراجات پورے کرتا ہے۔
شہد کی مکھیاں اور بائیو ڈائیورس سرسوں کے پھول شہد کی مکھیوں کے لیے جنت کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان مہینوں میں نیچرل شہد کی پیداوار عروج پر ہوتی ہے، جو دیہی معیشت کو ایک اور بڑا سہارا دیتی ہے۔
اگر ہم سرسوں کے کھیتوں کا ذکر کریں اور برصغیر کے سینما (خصوصاً بالی ووڈ اور لالی ووڈ) کی بات نہ کریں، تو یہ کالم ادھورا رہے گا۔ 90 کی دہائی کی مشہور فلموں نے سرسوں کے کھیت کو رومانس اور پنجاب کی پہچان کے طور پر پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ شاہ رخ خان اور کاجول کا وہ مشہور گانا جو سرسوں کے لہلہاتے کھیت میں فلمایا گیا، اس نے اس زرد رنگ کو محبت کی ایک ایسی عالمی علامت بنا دیا کہ آج بھی پاکستان اور بھارت آنے والے غیر ملکی سیاح پنجاب کے ان کھیتوں میں جا کر تصاویر بنوانا اپنی ٹریول لسٹ کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔
مٹی سے دوری اور نفسیاتی اثرا: شہر بمقابلہ گاؤں
آج کا انسان سیمنٹ کے جنگلوں میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ اونچی عمارتیں، لیپ ٹاپ کی اسکرینیں اور موبائل فونز نے ہمیں قدرت سے دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈپریشن، چڑچڑاپن اور ذہنی تھکن عام ہو چکی ہے۔
نفسیات کے ماہرین کہتے ہیں کہ "رنگوں کا انسانی موڈ پر گہرا اثر ہوتا ہے"۔ زرد رنگ (Yellow) دماغ کو متحرک کرتا ہے، خوشی کا احساس پیدا کرتا ہے اور مایوسی کو دور بھگاتا ہے۔ جب کوئی شہری چند گھنٹے ان کھلے کھیتوں میں گزارتا ہے، جہاں دور تک کوئی مصنوعی دیوار نہ ہو، صرف نیلا آسمان ہو اور نیچے پیلی دھرتی، تو اس کا ذہنی تناؤ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ یہ کھیت ہمیں سکھاتے ہیں کہ زندگی کا اصل حسن سادگی اور قدرت کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیاں اور ہمارے کھیتوں کو لاحق خطرات
جہاں ہم سرسوں کے کھیتوں کی خوبصورتی کا جشن مناتے ہیں، وہاں ایک تلخ حقیقت کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ پچھلے چند برسوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور شہروں کے پھیلاؤ نے ہماری زرعی زمینوں کو نگلنا شروع کر دیا ہے۔ جہاں کبھی سردیوں میں پیلے پھول مسکراتے تھے، وہاں اب کنکریٹ کے بلاکس اور اسفالٹ کی سڑکیں بن چکی ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) کی وجہ سے سردیوں کا دورانیہ بدل رہا ہے، دھند کی شدت اور بے وقت کی بارشیں ان نازک پھولوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر ہم نے اپنی زرعی زمینوں اور ماحولیات کی حفاظت نہ کی، تو آنے والی نسلیں سرسوں کے ان خوبصورت کھیتوں کو صرف تصویروں اور پرانی فلموں میں ہی دیکھ پائیں گی۔
سرسوں کا کھیت صرف ایک نباتاتی فصل نہیں ہے؛ یہ پنجاب کا دل، کسان کی غیرت، ہماری ماؤں کے ہاتھوں کے ساگ کی خوشبو اور ہماری مٹی کی روح ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خزاں کے بعد بہار کا آنا طے ہے، اور اندھیرے اور سرد موسم کے بعد زمین دوبارہ سونے کی طرح چمک سکتی ہے۔
اس سردی کے موسم میں، جب زندگی کی مصروفیات آپ کو تھکا دیں، تو ایک دن کی چھٹی لیجیے، اپنے خاندان کا ہاتھ تھامیں اور شہر کی حدود سے باہر نکل جائیں۔ وہاں جہاں افق زرد ہو رہا ہو، کسی کھیت کے کنارے کھڑے ہو کر گہرا سانس لیں، سرسوں کی خوشبو کو اپنے اندر اتاریں اور قدرت کے اس عظیم تحفے پر اس کا شکر ادا کریں۔ کیونکہ جب تک یہ کھیت پیلے پھول اگلتے رہیں گے، ہماری مٹی زندہ رہے گی اور ہماری ثقافت کا یہ خوبصورت رنگ کبھی پھیکا نہیں پڑے گا۔

Comments