Jordan Independence Dayاردن: تاریخ کا خزانہ، مہمان نوازی کا گہوارہ۔

 Congratulations to the people of #Jordan on their Independence Day may your nation continues to thrive and grow and may your rich history and culture continues to inspire future generations . I wish this day be filled with joy and celebration.

From

Rooma Mehmood.

islamabad.



ہ

اردن — مشرق وسطیٰ کا وہ امن پسند ملک جو اپنی قدیم تاریخ، شاندار آثار، اور دل کھول کر مہمان نوازی کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ چھوٹے سے علاقے والا یہ ملک اپنے اندر اتنی دولت رکھتا ہے کہ سیاح بار بار اس کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

عمان (Amman) اردن کا دارالحکومت ہے، جو پہاڑوں پر بسا ہوا ایک جدید اور قدیم شہر ہے۔ یہاں رومی تھیٹر، Citadel کی باقیات اور جدید مالز ایک ساتھ موجود ہیں۔ عمان کا ڈاؤن ٹاؤن Rainbow Street پر گھومتے ہوئے لگتا ہے جیسے وقت کی مختلف تہیں ایک ساتھ چل رہی ہوں۔

اردن کی سب سے بڑی شان پetra ہے — "Pink City" کے نام سے مشہور یہ قدیم نبطیہ (Nabataean) شہر دنیا کے عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ سرخ اور گلابی پتھروں کو کاٹ کر بنائی گئی عمارتیں، Treasury (الخزنہ) کا حیران کن منظر، اور狭狭 وادی — یہ سب دیکھ کر آنکھیں تھکتی نہیں۔ پیٹرا یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج سائٹ ہے اور 2007 میں دنیا کے نو نئے عجائبات میں شامل ہوا۔

وادی روم (Wadi Rum) کو "مریخ کا زمینی نسخہ" بھی کہا جاتا ہے۔ لاتعداد سینڈ اسٹون پہاڑ، صحرائی وادیاں اور رات کو ستاروں بھرا آسمان — یہ جگہ فلموں (جیسے The Martian) کے لیے بھی مشہور ہے۔ یہاں بیڈوئن ٹینٹوں میں رات گزارنا، اونٹ کی سواری اور صحرائی BBQ ایک الگ ہی تجربہ ہے۔

بحیرہ مردار (Dead Sea) اردن کی ایک اور خاص نشانی ہے۔ دنیا کا سب سے کم سطح والا مقام جہاں پانی کی نمکیات اتنی زیادہ ہیں کہ انسان خود بخود اوپر تیرتا ہے۔ یہاں کی مٹی اور پانی کی تھراپی دنیا بھر میں مشہور ہے۔

اردن کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ Mount Nebo وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مبینہ طور پر ارضِ مقدس دیکھا تھا۔ Jerash کے رومی کھنڈرات "مشرق کا پومپیئی" کہلاتے ہیں۔ Madaba میں Byzantine mosaics اور Baptism Site (جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعمید ہوئی) — مذہبی، تاریخی اور قدرتی سیاحت کا بے مثال امتزاج ہے۔

لوگ اور ثقافت

اردن والے انتہائی مہمان نواز ہیں۔ "Welcome to Jordan" کا جملہ یہاں صرف الفاظ نہیں بلکہ دل سے نکلتا ہے۔ Bedouin روایات اب بھی زندہ ہیں۔ منسف (بھیڑ کا گوشت، دہی اور چاول کا روایتی کھانا) کھانا، عربی قہوہ پینا اور Hookah کا لطف لینا اردن جانے والوں کے لیے لازمی ہے۔

پاکستان اور اردن

دونوں ممالک کے تعلقات بہت عمدہ ہیں۔ اردن میں ہزاروں پاکستانی کام کر رہے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کاروبار کر رہے ہیں۔ پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے اردن ویزا آن اوریول یا الیکٹرانک ویزا کی سہولت ہے۔ پاکستانی سیاحوں کے لیے بھی اردن ایک محفوظ اور نسبتاً سستی منزل ہے۔

چیلنجز

اردن قدرتی وسائل (خاص طور پر پانی) کی کمی کا شکار ہے۔ مہاجرین (شام اور عراق سے) کی بڑی تعداد نے معاشی دباؤ بڑھایا ہے۔ پھر بھی بادشاہ عبداللہ دوم کی قیادت میں اردن علاقے میں استحکام اور ترقی کی مثال بنا ہوا ہے۔ سیاحت اس کی معیشت کا اہم ستون ہے۔

اردن وہ ملک ہے جہاں آپ ایک ہی ٹرپ میں تاریخ، مذہب، صحرا، سمندر اور جدید زندگی سب دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں کوئی بڑا فخر یا شور نہیں، بس خاموشی سے خوبصورتی اور وقار ہے۔

اگر آپ تاریخی مقامات، ایڈونچر یا صرف آرام دہ سفر کے شوقین ہیں تو اردن آپ کو مایوس نہیں کرے گا۔ پیٹرا دیکھ کر، Dead Sea میں تیر کر اور وادی روم کے ستاروں تلے بیٹھ کر آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ کیوں "مشرق وسطیٰ کا جواہر" کہلاتا ہے۔

کیا آپ نے اردن جانے کا سوچا ہے؟ یا پیٹرا، Dead Sea اور وادی روم میں سے کون سی جگہ سب سے زیادہ دلچسپ لگتی ہے؟ ضرور بتائیں!

Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

ایک درخت، کئی نسلوں کی یادیں

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔