بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
---رومامحمود---
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم کائنات کا وہ سب سے خوبصورت، جامع اور بابرکت جملہ ہے جو مسلمانوں کی زندگی کے ہر عمل کی بنیاد ہے۔ یہ صرف چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات، خدائے بزرگ و برتر سے وفاداری کا عہد اور اس کی لامتناہی رحمتوں کے سمندر میں غوطہ زن ہونے کی چابی ہے۔
"بسم اللہ" کی روحانی، مادی، اخلاقی اور سائنسی جہتوں پر تفصیلی گفتگو کریں گے کہ کس طرح یہ مبارک کلمہ ایک انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے۔
. بسم اللہ کی لغوی اور معنوی گہرائی
لفظ "بسم اللہ" تین اہم اجزاء کا مرکب ہ:
ب (با): جس کے معنی "ساتھ" یا "مدد سے" کے ہیں۔
اسم: یعنی نام۔
اللہ:کائنات کے خالق و مالک کا ذاتی نام۔
جب ہم کہتے ہیں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" تو اس کا پورا ترجمہ بنتا ہے: **"شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار صفات (جیسے الجبار، القھار، المنتقم) میں سے اپنے نام کے ساتھ "الرحمن" اور "الرحیم" کا انتخاب کیا۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اس کائنات کا اصل نظام غصے یا قہر پر نہیں، بلکہ سراسر رحمت، شفقت اور محبت پر قائم ہے۔ رحمن وہ ہے جس کی رحمت عام ہے (جو مومن، کافر، چرند، پرند سب کو رزق دیتا ہے) اور رحیم وہ ہے جس کی رحمت خاص ہے (جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور آخرت میں مومنین پر خاص کرم فرمائے گا)۔
قرآن مجید کی ترتیب میں "بسم اللہ" کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے۔ سورہ توبہ کے علاوہ قرآن پاک کی ہر سورت کا آغاز اسی مبارک آیت سے ہوتا ہے۔ روایات کے مطابق، جب بھی کوئی نئی سورت نازل ہونے والی ہوتی، تو سب سے پہلے جبرائیل امین علیہ السلام "بسم اللہ" لے کر اترتے تھے، جس سے رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہو جاتا تھا کہ اب ایک نئی سورت کا آغاز ہو رہا ہے۔
اگر تاریخِ انبیاء پر نظر دوڑائی جائے تو حضرت نوح علیہ السلام نے جب طوفان کے دوران کشتی چلانے کا ارادہ کیا تو فرمایا
"اور نوح نے کہا کہ اس کشتی میں سوار ہو جاؤ، اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا ہے۔ (سورہ ھود)۔
اسی طرح جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا (بلقیس) کو خط لکھا تو اس کا آغاز بھی اسی کلمے سے تھا۔ ملکہ نے اپنے درباریوں سے کہا
"اے درباریو! میری طرف ایک محترم خط بھیجا گیا ہے، وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ یہ ہے: شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے (سورہ النمل)۔
یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ "بسم اللہ" ہر دور میں اللہ کے فرستادہ بندوں کا شعار رہی ہے۔
نفسیاتی اور روحانی فوائد: خوف سے نجات اور خود اعتمادی
آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ذہنی تناؤ، اضطراب (Anxiety) اور اکیلا پن ہے۔ انسان بظاہر ہجوم میں ہے، لیکن اندر سے تنہا ہے۔ جب ایک مومن اپنے دن کا آغاز یا کسی کام کی ابتدا "بسم اللہ" سے کرتا ہے، تو وہ نفسیاتی طور پر ایک بہت بڑے سہارے سے جڑ جاتا ہے۔
بسم اللہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اعتراف کر رہا ہے کہ "میں اپنی طاقت، عقل یا پیسے کے بل بوتے پر یہ کام نہیں کر رہا، بلکہ میں اللہ کے نام اور اس کی مدد کا محتاج ہوں"۔ یہ احساس انسان کے اندر سے تکبر اور انا کو ختم کر کے عاجزی پیدا کرتا ہے۔
جب آپ کو معلوم ہو کہ کائنات کا سب سے طاقتور وجود آپ کے ساتھ ہے، تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کو ڈرا نہیں سکتی۔ انسان مادی نتائج کے خوف سے آزاد ہو کر پرسکون انداز میں اپنا کام کرتا ہے۔
کوئی بھی چور، رشوت خور یا ظالم اپنے گناہ کے کام سے پہلے "بسم اللہ" نہیں پڑھ سکتا۔ یہ کلمہ انسان کو برائی سے روکنے کا ایک خودکار نظام (Automatic Filter) مہیا کرتا ہے۔ اگر انسان ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت ڈال لے، تو وہ قدرتی طور پر صرف وہی کام کرے گا جو جائز اور حلال ہوں گے۔
زندگی کے روزمرہ معاملات میں برکت کا نسخہ
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"ہر وہ اہم کام جو اللہ کے نام (بسم اللہ) کے بغیر شروع کیا جائے، وہ ادھورا (برکت سے محروم) رہ جاتا ہے"* (ابن حبان)۔
برکت کا مطلب صرف مال کی کثرت نہیں ہے، بلکہ تھوڑی چیز کا انسان کے لیے کافی ہو جانا اور اس سے سکون حاصل ہونا برکت کہلاتا ہے۔ اسلام نے ہمیں زندگی کے ہر موڑ پر بسم اللہ پڑھنے کی تلقین کی ہے
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنتِ رسول ہے۔ اگر انسان بھول جائے تو یاد آنے پر "بسم اللہ اولہ وآخرہ" کہنے کا حکم ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جو شخص بسم اللہ پڑھے بغیر کھانا کھاتا ہے، شیطان اس کے کھانے میں شریک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے کھانے کی برکت اٹھ جاتی ہے اور انسان پیٹ بھرنے کے باوجود مطمئن نہیں ہوتا
جب انسان گھر میں داخل ہوتے وقت اور دروازہ بند کرتے وقت بسم اللہ پڑھتا ہے، تو شیطان اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ "آج اس گھر میں تمہارے لیے نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ شام کا کھانا"۔ یوں یہ کلمہ گھر کو شیطانی اثرات اور گھریلو ناچاقیوں سے محفوظ رکھنے کا حصار بن جاتا ہے۔
لباس پہنتے وقت، سواری پر بیٹھتے وقت، گھر سے نکلتے وقت، یہاں تک کہ بستر پر لیٹتے وقت بھی بسم اللہ پڑھنا انسان کو اللہ کی حفاظت میں دے دیتا ہے۔ یہ گویا ایک ایسی روحانی ڈھال ہے جو انسان کو حادثات اور ناگہانی آفتوں سے بچاتی ہے۔
علماء اور صوفیائے کرام نے بسم اللہ کے حروف کی تعداد اور ان کی ساخت پر گہرے علمی نکات بیان کیے ہیں۔
"بسم اللہ الرحمن الرحیم" کے حروف ہیں۔ جہنم کے فرشتوں (زبانبہ) کی تعداد بھی قرآن میں 19 بتائی گئی ہے۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ جو شخص خلوصِ دل سے بسم اللہ پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر حرف کی برکت سے جہنم کے ایک فرشتے کے عذاب سے اسے امان عطا فرماتا ہے۔
یہ کلمہ امتِ محمدیہ کے لیے ایک خاص تحفہ ہے، جس کی بدولت مسلمانوں کے نامہ اعمال میں آسانیاں پیدا کی گئی ہیں۔
اگر ایک معاشرے کے تمام افراد اپنی زندگی کو "بسم اللہ" کے سانچے میں ڈھال لیں، تو اس کے حیرت انگیز معاشرتی اثرات مرتب ہوں گے:
ایک دکاندار جب دکان کا شٹر اٹھاتے ہوئے "بسم اللہ" پڑھے گا، تو اس کا ضمیر اسے کبھی اجازت نہیں دے گا کہ وہ ناپ تول میں کمی کرے یا ملاوٹ کرے۔
ایک جج یا افسر جب اپنی کرسی پر بیٹھ کر فائل کھولنے سے پہلے اللہ کا نام لے گا، تو اسے یاد آئے گا کہ ایک بڑی عدالت اس کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے، یوں وہ انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑے گا۔
چونکہ اس کلمے میں "رحمن" اور "رحیم" کی صفات موجود ہیں، اس لیے اسے بار بار دہرانے سے انسان کے اپنے مزاج میں نرمی، عفو و درگزر اور دوسروں کے لیے رحم دلی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
جدید سائنس اور بسم اللہ کا تصور
آج کی جدید سائنس، خصوصاً "واٹر میموری" (Water Memory) کے نظریات نے ثابت کیا ہے کہ انسانی الفاظ اور لہریں مادی چیزوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو (Dr. Masaru Emoto) کی تحقیق کے مطابق، پانی پر جب اچھے اور بابرکت الفاظ پڑھے جائیں تو اس کے مالیکیولز (Cells) انتہائی خوبصورت کرسٹل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ برے الفاظ سے وہ بدشکل ہو جاتے ہیں۔
جب ہم پانی یا کھانے پر "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھتے ہیں، تو اس خوراک کے اندر مائیکروسکوپک سطح پر مثبت تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، جو انسانی صحت، جسم اور روح کے لیے شفا کا باعث بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دم کیے ہوئے پانی یا بسم اللہ پڑھ کر کھائے جانے والے کھانے کے طبی فوائد مادی سائنس کے مروجہ قوانین سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔
"بسم اللہ الرحمن الرحیم" صرف ایک رسمی جملہ نہیں ہے جسے عادتاً دہرا دیا جائے، بلکہ یہ کائنات کے سب سے بڑے سچ کا اعتراف ہے۔ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان محبت کا ایک ایسا مضبوط دھاگہ ہے جو کبھی نہیں ٹوٹ سکتا۔
آج ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں سے جو سکون اور برکت رخصت ہو چکی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے کاموں کو اللہ کے نام سے شروع کرنا چھوڑ دیا ہے، یا پھر ہم اسے صرف زبان سے کہتے ہیں، دل اس کے شعور سے خالی ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر امن کا گہوارہ بنیں، ہماری روزی روٹی میں برکت ہو، ہمارے بچے فرماں بردار ہوں اور ہمیں ذہنی و قلبی سکون میسر آئے، تو ہمیں "بسم اللہ" کے فلسفے کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں اپنے دن کے آغاز سے لے کر رات سونے تک، ہر چھوٹے بڑے جائز عمل کو اللہ کے نام کے سپرد کرنا ہوگا، کیونکہ جس کام کا آغاز اللہ کے نام سے ہو، اس کا انجام کبھی خسارے والا نہیں ہو سکتا۔

Comments