Skip to main content

ایوین سمٹ 2026: عالمی یکجہتی کا نیا باب یا G7طاقت کے نئے توازن کی عکاسی؟

 


---روما محمود---



ایوین لیس بینس (فرانس) سے —

دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ معیشتوں کے رہنما فرانس کے خوبصورت شہر ایوین لیس بینس میں جمع ہوئے تو عالمی سیاست کا مرکز یہاں منتقل ہو گیا۔ 15 سے 17 جون 2026 تک جاری اس 52ویں G7 سربراہی اجلاس نے نہ صرف یوکرین اور مشرق وسطیٰ کے بحرانوں پر توجہ مرکوز کی بلکہ عالمی صحت، ترقیاتی شراکت داری اور مائیگریشن جیسے مسائل پر بھی اہم فیصلے کیے۔ فرانسیسی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس کے اعلانات G7 کی یکجہتی کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ۔ہے کہ یہ طاقت کے نئے توازن کی عکاسی بھی کرتے ہیں




G7 (Group of Seven) ایک بین الاقوامی سیاسی اور معاشی فورم ہے جو دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ معیشتوں پر مشتمل ہے۔

اراکین (Members)

ممالک: کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ (UK)، اور امریکہ (USA)۔

یورپی یونین (EU): غیر شمار شدہ رکن کی حیثیت سے شامل، جو اقتصادی معاملات میں فعال کردار ادا کرتی ہے۔fe3dc3

نوٹ: روس کو 1998 میں شامل کر کے G8 بنایا گیا تھا، لیکن 2014 میں کریمیا پر قبضے کی وجہ سے اسے معطل کر دیا گیا، اور گروپ واپس G7 بن گیا۔

تاریخ (History)

ابتدا: 1975 میں فرانس کے Rambouillet میں پہلا سربراہی اجلاس (G6) ہوا، جو تیل کے بحران (1973 oil crisis) اور معاشی چیلنجز کے جواب میں قائم کیا گیا۔ 1976 میں کینیڈا شامل ہوا تو G7 بن گیا۔ 1977 سے EU بھی شامل ہے۔

مقصد: معاشی تعاون، عالمی بحرانوں کا حل، جمہوریت، معاشی خوشحالی اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا۔ ابتدائی طور پر معاشی مسائل پر فوکس تھا، بعد میں سیکورٹی، ماحولیات، AI، اور عالمی صحت جیسے مسائل شامل ہوئے۔701ab1

G7 سربراہی اجلاس (Summits)

سالانہ تقریب: ہر سال ایک رکن ملک میزبانی کرتا ہے (صدارت rotation میں ہوتی ہے)۔

2026 کا سربراہی اجلاس (52nd G7 Summit): فرانس کی میزبانی میں 15 سے 17 جون 2026 کو Évian-les-Bains (Haute-Savoie) میں ہو رہا ہے۔ یہ 2003 کے G8 سربراہی اجلاس کے بعد Évian میں دوسرا بڑا ایونٹ ہے۔

اہم موضوعات: یوکرین جنگ، ایران کے ساتھ US deal کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال، AI governance، معاشی عدم توازن، critical minerals، climate، development aid، اور global security۔

شرکاء: G7 ممالک + EU کے علاوہ invited ممالک جیسے India (Modi)، Brazil، Egypt، Kenya، South Korea، Qatar، Syria، Ukraine وغیرہ۔

موجودہ صورتحال (جون 2026): Trump-Iran deal، Ukraine-Russia تنازع، اور دیگر geopolitical مسائل پر بحث۔ Trump اور Zelenskyy کی ملاقات "very good" قرار دی گئی۔

پچھلا سربراہی اجلاس (2025): کینیڈا میں Kananaskis میں ہوا۔

کام کا طریقہ (How it Works)

غیر رسمی فورم ہے، کوئی مستقل سیکریٹریٹ نہیں۔

سربراہی اجلاس کے علاوہ ministers کی میٹنگز (finance, foreign, trade وغیرہ) ہوتی رہتی ہیں۔

Communiqués جاری کرتے ہیں جن میں مشترکہ پالیسیاں اور commitments ہوتے ہیں (جیسے sanctions، aid، trade rules)۔

اثر: عالمی معیشت، trade، climate change، اور security پر بڑا اثر رکھتا ہے، لیکن enforcement محدود ہے۔

اہمیت اور تنقید

مثبت: ترقی یافتہ ممالک کے درمیان ہم آہنگی، بحرانوں (جیسے COVID، Ukraine) میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

تنقید: emerging economies (جیسے China، India) کو exclude کرتا ہے، اور commitments پر عملدرآمد کمزور ہوتا ہے۔ G20 کو زیادہ inclusive سمجھا جاتا ہے۔e0cc3d

G7 کا فوکس اب AI، critical minerals supply chains، energy security، اور global imbalances پر زیادہ ہے


اجلاس کے دوران G7 لیڈرز نے ایک بڑا مشترکہ۔۔🔹️ communiqué جاری کرنے کی بجائے الگ الگ موضوعاتی declarations جاری کیے، جو ان کے فوکس کو واضح کرتے ہیں۔ سب سے اہم G7 Leaders' Statement on Geopolitical Issues (17 جون) میں یوکرین اور ایران ڈیل پر نمایاں توجہ دی گئی۔

یوکرین پر غیر متزلزل حمایت

G7 نے یوکرین کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ رہنماؤں نے ہوائی دفاع، لمبی رینج ہتھیاروں، انٹرسیپٹرز کی فوری فراہمی، یوکرین کی اپنی فوجی پروڈکشن کے لیے لائسنس دینے اور آئندہ سردیوں کے لیے انرجی سپورٹ کا وعدہ کیا۔ روس پر آئل اور گیس سیکٹر میں مزید پابندیاں لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ صدر زیلنسکی کی شرکت نے اس حمایت کو مزید تقویت بخشی۔

مشرق وسطیٰ میں بریک تھرو

امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا G7 نے خیر مقدم کیا۔ صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہونے والے اس ڈیل کو "تاریخی موقع" قرار دیا گیا، جو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے اور علاقائی خطرات کم کرنے کا باعث بنے گا۔ Strait of Hormuz میں آزاد تجارت اور لبنان میں Hezbollah کے disarmament کے لیے فوری سیز فائر کی حمایت کی گئی۔ G7 نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔


Mutually Beneficial International Partnerships (16 جون): ترقیاتی فنانسنگ، قرضوں کے مسائل، مقامی وسائل کی мобائزیشن اور انفراسٹرکچر میں نجی سرمایہ کاری پر زور۔

Fight Against Cancer: بین الاقوامی تعاون، تحقیق، ڈیٹا شیئرنگ اور علاج تک رسائی بڑھانے کا عزم (فرانس کی ترجیح)۔

Bundibugyo Ebola Outbreak: ڈی آر سی اور یوگنڈا میں Ebola پر ہم آہنگ عالمی ردعمل۔

Tackling Migrant Smuggling اور Fight Against Drug Trafficking: غیر قانونی مائیگریشن اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات۔


اس سمٹ میں صدر ٹرمپ کا کردار مرکزی رہا۔ ایران ڈیل کے بعد یوکرین پر توجہ نے امریکی پالیسی کی لچک کو ظاہر کیا، جبکہ یورپی رہنما زیادہ مضبوط حمایت چاہتے تھے۔ G7 نے Indo-Pacific میں چین اور شمالی کوریا کے خلاف تشویش بھی ظاہر کی اور critical minerals، AI اور معاشی عدم توازن جیسے طویل مدتی مسائل پر بات کی۔

تاہم تنقید بھی موجود ہے۔ ابھرتی ہوئی معیشتوں (جیسے چین، انڈیا) کو مکمل طور پر شامل نہ کرنے سے G7 کو "پرانا کلب" کہا جا رہا ہے۔ پھر بھی، یہ اجلاس عالمی بحرانوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی اہمیت کو دوبارہ ثابت کرتا ہے۔


G7 ایوین 2026 نے ثابت کیا کہ جمہوری اقدار اور مشترکہ مفادات اب بھی عالمی سیاست کی بنیاد ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ اعلانات عملدرآمد میں کتنا وزن رکھتے ہیں۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی یہ سمٹ اہم ہے، کیونکہ ترقیاتی شراکت داری اور عالمی معاشی استحکام کا فائدہ سب کو پہنچ سکتا ہے۔

(ماخذ: آفیشل G7 declarations اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس)


Comments

Popular posts from this blog

کالاباغ ڈیم پر اعتراض کا جواب۔​کالا باغ ڈیم چشمِ دید گواہی اور قومی ضرورت کا پکارتا سچ ​

جن لوگوں کو کالا باغ ڈیم بنانے پر اعتراض ہے وہ لوگ جا کر کالا باغ دیکھ کر آئیں ۔ کالا باغ میں جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے وہاں دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں ہیں پہاڑ ہیں اور دریائے سندھ ایک ندی کی صورت میں وہاں سے گزرتا ہے اور گہرائی حد درجہ زیادہ ہے۔   اس کے اوپر انگریزوں کے زمانے کا بنایا ہوا ایک پل ہے۔  2005 میں جب ہم لوگ کالا باغ ڈیم گئے تو ہم نے یہ دیکھا کہ وہاں پر کالا باغ  کے علاقے  میں دریا سندھ ایک ندی کی صورت میں بہہ رہا تھا اور دونوں طرف سنگلاخ چٹانیں تھیں۔   کالا باغ بازار میں ابھی تک سائیکل رکشے چل رہے تھے اور وہاںسے میں نے ایک دوپٹہ بھی خریدا تھا جو کہ سات رنگ میں تھا ۔ اسلام اباد سے جب ہم میانوالی کی طرف گئے ۔فتح جنگ کے راستے سے  دو سڑکیں جاتی تھیں ایک کوہاٹ کو  ۔ اور ایک میانوالی کو اس دفعہ ہم نے روٹ پکڑا تھا۔  وہ میانوالی  ابو سے ضد  کر کے گے تھے ۔ جب رستے پر چلتے گئے تو ہمیں راستے میں میانوالی کے قریب نمل جھیل نظر آئی یہ ہمارے لئے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ ہم اس وقت نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے تو وہاں پر نمل جھیل دیکھ کر ہم...

ادھا چمچ ہلدئ کے فوائد۔

 ہلدی (Turmeric) ایک مشہور مصالحہ ہے جو صدیوں سے کھانوں اور جڑی بوٹیوں کے علاج میں استعمال ہو رہی ہے۔ اس میں کرکومن (Curcumin) نامی جز پایا جاتا ہے جو اس کے زیادہ تر فوائد کا سبب ہے۔ ہلدی کے اہم فوائد: 1. سوزش کم کرتی ہے جوڑوں کے درد، گٹھیا اور سوجن میں مفید ہے۔ 2. مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے۔ 3. اینٹی آکسیڈینٹ خصوصیات بڑھاپے کی رفتار کم کرتی ہے اور خلیات کو نقصان سے بچاتی ہے۔ 4. ہاضمے میں مددگار بدہضمی، گیس اور پیٹ کی تکالیف کم کرنے میں فائدہ مند ہے۔ 5. دل کی صحت کولیسٹرول کم کرنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔ 6. ذہنی صحت دماغی کمزوری (الزائمر وغیرہ) سے بچاؤ میں معاون مانی جاتی ہے۔ 7. زخم اور انفیکشن جراثیم کش خصوصیات کی وجہ سے زخموں پر لگانے سے شفا میں مدد ملتی ہے۔ 8. جلد کے لیے فائدہ مند دانوں، جھائیوں اور رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتی ہے۔ 🔸 البتہ، ہلدی کا زیادہ استعمال معدے پر بوجھ ڈال سکتا ہے، اس لیے مناسب مقدار میں استعمال کرنا بہتر ہے۔ ،تحریر  ،روما محمود  ۔اسلام آباد 

​روٹی: پیٹ کا ایندھن یا ایمان کی بنیاد؟

  ---روما محمود--- انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کے عروج و زوال، جنگوں کے پیچھے چھپے اسباب اور ہجرتوں کی داستانوں میں اگر کوئی ایک قدر مشترک ہے، تو وہ "روٹی" ہے۔ کہنے کو تو یہ گندم کے آٹے کا ایک گول پیڑا ہے جسے آگ پر سینکا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ وہ زنجیر ہے جس نے پوری انسانیت کو تگ و دو کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ ایک مزدور کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتی ہے اور وہ دن بھر تپتی دھوپ میں اپنا پسینہ صرف اس لیے بہاتا ہے کہ شام کو گھر جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں چند گرم روٹیاں ہوں۔ یہ صرف پیٹ بھرنے کا سامان نہیں، بلکہ ایک باپ کی اپنے بچوں سے محبت کا ثبوت ہے۔ ​تندور سے اٹھتی تازہ روٹی کی خوشبو دنیا کی مہنگی ترین پرفیوم سے زیادہ دلکش ہوتی ہے، خاص کر اس شخص کے لیے جس نے سارا دن فاقہ کیا ہو۔ لیکن افسوس! یہی روٹی جب دسترخوان پر وافر ہو جائے تو اس کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور جب نایاب ہو جائے تو انسان کو غیرت اور ضمیر تک بیچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی آسمانوں کو چھو رہی ہے، وہیں خطِ غربت سے نیچے رہنے والوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ آٹے کے ...