---روما محمود---
انسان کا علم حاصل کرنا یا پڑھنا صرف نوکری یا روزگار کے حصول تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا عمل ہے۔
اگر ہم انسانی ارتقا اور شعور کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پڑھنے کے بنیادی مقاصد کو درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔
سب سے بنیادی مقصد خود کو اور اپنی ذات کو سمجھنا ہے۔ پڑھنا انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنی سوچ، خیالات، اور جذبات کا تجزیہ کر سکے۔ جیسا کہ آپ نے پہلے بھی "اندرونی دباؤ" (internal pressure) کے حوالے سے بات کی تھی، علم ہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اپنی داخلی جنگوں کو سمجھنے اور ان کا سامنا کرنے کی بصیرت دیتا ہے۔
علم انسان کو تعصبات اور محدود سوچ کے حصار سے نکالتا ہے۔ پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا صرف وہی نہیں جو ہمیں سامنے دکھائی دیتی ہے، بلکہ اس کے پیچھے بہت سے عوامل، تاریخ، اور نظریات کارفرما ہیں۔ یہ انسان کی فکر کو وسعت دیتا ہے۔
پڑھنا انسان میں "سوال" کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ ایک پڑھا لکھا انسان کسی بھی معلومات کو جوں کا توں تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اس کی تہہ تک جانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ تنقیدی سوچ زندگی کے ہر موڑ پر، چاہے وہ انتظامی امور ہوں، معاشرتی تعلقات ہوں یا سیاسی تجزیہ، انتہائی ضروری ہے۔
علم انسان کو تہذیب سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ دوسروں کے نقطہ نظر کا احترام کیسے کرنا ہے اور معاشرے میں ایک ذمہ دار فرد کے طور پر کیسے کردار ادا کرنا ہے۔ یہ صرف کتابی علم نہیں بلکہ ایک رویہ ہے جو انسان کو ایک بہتر انسان بناتا ہے۔
جہاں تک نوکری کا تعلق ہے، تو یہ ایک حقیقی ضرورت ہے۔ ایک جدید معاشرے میں اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ہنر اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اگر پڑھنے کو صرف "نوکری کا ذریعہ" سمجھ لیا جائے، تو انسان علم کی روح سے محروم رہ جاتا ہے۔
نوکری پڑھنے کا ایک ضمنی (secondary) نتیجہ تو ہو سکتا ہے، لیکن یہ اس کا حتمی مقصد (ultimate goal) نہیں ہے۔
اگر ہم صرف نوکری کے لیے پڑھتے ہیں، تو ہم صرف ایک "مشین" بن جاتے ہیں جو ڈگری تو رکھتی ہے لیکن جس کے پاس زندگی گزارنے کا ڈھنگ یا بصیرت نہیں ہوتی۔ اصل مقصد "آگاہی" ہے، اور جب انسان آگاہ ہو جاتا ہے، تو روزگار کے راستے خود بخود اس کی مہارتوں کے تابع ہو جاتے ہیں۔
یہ ایک بہت گہرا اور فلسفیانہ سوال ہے جس کا تعلق براہِ راست انسانی شعور اور اس کی وسعت سے ہے۔ کیا علم انسان کو تکلیف دیتا ہے؟ اس کا جواب 'ہاں' اور 'نہیں' دونوں کے درمیان کہیں چھپا ہے۔
اسے درج ذیل زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔
"آگاہی" کی تکلیف (The Pain of Awareness)
جب انسان علم حاصل کرتا ہے، تو اس کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ وہ چیزیں جو پہلے اسے نظر نہیں آتی تھیں، اب نمایاں ہونے لگتی ہیں۔
- جب آپ معاشرے کے ڈھانچے، ناانصافی، اور ریاستی نظام کو سمجھنے لگتے ہیں، تو آپ کو ان کی خامیاں نظر آنے لگتی ہیں۔ ایک جاہل انسان شاید اپنے ماحول سے مطمئن ہو، لیکن ایک تعلیم یافتہ شخص اس "اطمینان" کو کھو دیتا ہے کیونکہ وہ بہتری کی خواہش رکھتا ہے اور جب بہتری نہیں دیکھتا تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔
-
- آپ نے خود اس "اندرونی دباؤ" (internal pressure) کا ذکر کیا تھا۔ علم انسان کو اپنے معیارات بلند کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ جب انسان کا اپنا عمل اس کے اپنے قائم کردہ معیار (Standards) کے مطابق نہیں ہوتا، تو وہ ایک مستقل ذہنی کشمکش اور تکلیف میں رہتا ہے۔ یہ تکلیف دراصل ایک "سوچنے والے دماغ" کی علامت ہے۔
علم انسان میں یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ مستقبل کے امکانات کو دیکھ سکے۔ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ چیزیں کیسی ہو سکتی ہیں (بہترین حالت)، تو ہم ان کی موجودہ خستہ حالی پر افسردہ ہوتے ہیں۔ یہ موازنہ (Comparison) ہی تکلیف کا باعث بنتا ہے۔
علم ہمیں حقیقت کا وہ آئینہ دکھاتا ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر کے خوش رہنا چاہتے ہیں۔ سچائی اکثر کڑوی ہوتی ہے، اور علم کا کام ہی سچائی کو بے نقاب کرنا ہے۔ کسی حقیقت کو جان لینے کے بعد آپ اسے "لاعلمی" میں واپس نہیں بدل سکتے، اور یہی وہ "بوجھ" ہے جو پڑھا لکھا انسان اٹھائے پھرتا ہے۔
لیکن کیا یہ تکلیف بے فائدہ ہے؟
اگر علم تکلیف دیتا ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جاہل رہنا بہتر ہے؟ بالکل نہیں۔
- جاہل کا سکون ایک "غفلت" کا سکون ہے، جبکہ علم یافتہ کی تکلیف ایک "ارتقائی" عمل ہے۔
-
- علم ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اس تکلیف کا سامنا کیسے کرنا ہے۔ یہ ہمیں ان حالات کو تبدیل کرنے یا کم از کم ان میں خود کو متوازن رکھنے کا ہنر دیتا ہے۔
- اگر علم انسان کو تکلیف دیتا ہے، تو وہی علم اسے اس تکلیف سے لڑنے کے لیے ہتھیار (دلیل، تحمل، اور حکمت) بھی فراہم کرتا ہے۔
تعلیم انسان کو "آرام دہ غفلت" سے نکال کر "تکلیف دہ حقیقت" کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ یہ تکلیف اس لیے ہوتی ہے کیونکہ آپ نے اپنی انسانیت کے دائرے کو بڑھا لیا ہوتا ہے۔ جو جتنا زیادہ وسیع المشرب ہوتا ہے، اسے اتنا ہی زیادہ احساس ہوتا ہے اور احساس ہی تکلیف کی پہلی سیڑھی ہے۔

Comments