---روما محمود---
انسانی معاشرت میں جہاں دعاؤں کو ایک روحانی ڈھال تسلیم کیا جاتا ہے، وہاں 'بددعا' کو ایک ایسی پوشیدہ تلوار سمجھا جاتا ہے جو برسوں تک انسان کے تعاقب میں رہتی ہے۔
اکثر و بیشتر یہ سوال ذہنوں میں دستک دیتا ہے کہ کیا واقعی کسی کے دل سے نکلے ہوئے تکلیف دہ الفاظ کسی کی زندگی کا رخ بدلنے یا اسے برباد کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟
کائنات کا ایک اٹل قانون 'عمل اور ردِ عمل' ہے۔ جب کوئی شخص کسی پر ظلم کرتا ہے یا کسی کا حق غصب کرتا ہے، تو مظلوم کے پاس مزاحمت کا کوئی راستہ نہ ہو تو وہ اپنی فریاد قدرت کی عدالت میں پیش کر دیتا ہے۔ جسے ہم 'بددعا' کہتے ہیں، وہ دراصل ایک احتجاج ہے جو کائناتی انصاف کے نظام کو حرکت میں لاتا ہے۔
نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو 'بددعا کا پیچھا کرنا' دراصل ضمیر کی خلش بھی ہو سکتی ہے۔ جب ایک انسان کسی کے ساتھ زیادتی کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر ایک خوف کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ خوف اسے ہر ناکامی اور حادثے کو اس شخص کی آہ سے جوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے، جسے اس نے دکھ پہنچایا ہوتا ہے۔
کیا یہ محض وہم ہے؟
بددعا کو محض ایک توہم پرست خیال قرار دینا مشکل ہے، کیونکہ دنیا کی ہر تہذیب اور مذہب میں 'مظلوم کی پکار' سے ڈرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ تاہم، اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر غصے میں کہی گئی بات اثر دکھاتی ہے۔
دانشوروں کا ماننا ہے کہ ناحق بددعا پلٹ کر دینے والے کے پاس ہی چلی جاتی ہے۔ اثر صرف اس آہ میں ہوتا ہے جو سچائی اور ٹوٹے ہوئے دل سے نکلی ہو۔
مشرقی روایات میں یہ خیال عام ہے کہ بڑوں کی بددعائیں یا کسی کا لیا گیا 'بیرا' (بدلہ) نسلوں کا تعاقب کرتا ہے۔ اسے شاید ہم 'وراثتی بوجھ' کہہ سکتے ہیں جہاں خاندان کے بڑوں کے غلط فیصلے یا رویے آنے والی نسلوں کے لیے سماجی یا اخلاقی مسائل پیدا کر دیتے ہیں۔
بددعا کا خوف معاشرے میں اخلاقی توازن برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ بھی رہا ہے۔ یہ خوف کہ "کسی کی بددعا نہ لگ جائے"، انسان کو دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے روکتا ہے۔ یہ دراصل انسانیت، ہمدردی اور عدل کو قائم رکھنے کا ایک غیر مرئی نظام ہے۔
کیا بددعائیں پیچھا کرتی ہیں؟ شاید وہ الفاظ نہیں بلکہ وہ 'توانائی' اور 'حق تلفی' پیچھا کرتی ہے جو ان الفاظ کا باعث بنتی ہے۔ زندگی میں سکون کا راستہ کسی کی آہ لینے میں نہیں، بلکہ دعائیں سمیٹنے میں ہے۔ اگر کبھی کسی کا دل دکھا بھی ہو، تو اس کا بہترین علاج 'تلافی' اور 'معافی' ہے، تاکہ وہ سایہ جو تعاقب کر رہا ہے، ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔
بددعا کے حوالے سے ایک گہرا پہلو یہ بھی ہے کہ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک نفسیاتی گرہ ہے جو ظالم اور مظلوم کے درمیان بندھ جاتی ہے۔
جب ہم کسی کی حق تلفی کرتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر اپنی کامیابیوں کے راستے میں خود ہی رکاوٹیں کھڑی کر لیتے ہیں۔ اسے 'کرما' کہیں یا 'مکافاتِ عمل'، حقیقت یہی ہے کہ انسانی ضمیر کو دھوکہ دینا ناممکن ہے۔
بددعا سے نجات کا راستہ: کیا تلافی ممکن ہے؟
اگر یہ احساس ہو جائے کہ ماضی کی کسی لغزش یا کسی کی دل آزاری کا سایہ زندگی پر حاوی ہے، تو اس کا حل محض خوفزدہ ہونا نہیں بلکہ عملی تلافی ہے۔
اگر وہ شخص حیات ہے، تو انا کو پسِ پشت ڈال کر اس سے معافی مانگنا اس بوجھ کو اتارنے کا واحد راستہ ہے۔
اگر وہ شخص میسر نہ ہو یا معافی مانگنا ممکن نہ رہے، تو اس کے نام پر خیرات کرنا یا دوسروں کے ساتھ ویسا ہی بھلا کرنا جیسا اس شخص کا حق تھا، روحانی بوجھ کو کم کر دیتا ہے۔
بعض اوقات بددعا کا 'پیچھا کرنا' دراصل ہماری اپنی مسلسل غلطیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی کوتاہیوں کو بددعا کا نام دے کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا اور عوامی فورمز پر دوسروں کے خلاف زہریلے الفاظ استعمال کرنا معمولی بات سمجھا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔
بددعا صرف کسی بوڑھے یا مظلوم کی آہ نہیں ہوتی، بلکہ کسی بھی انسان کی وہ حق گوئی ہے جو دکھ کی شدت میں قدرت کے سپرد کر دی جائے۔
"کسی کا دل نہ دکھا، کہ اس کے دل سے نکلی ہوئی ایک آہ تیرے بنے بنائے محلوں کو خاک کر سکتی ہے۔
بددعا کے تعاقب سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپنی زندگی کو خیر' کی بنیاد پر استوار کیا جائے۔
جب انسان دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے، تو کائنات خود بخود اس کے لیے دعاؤں کے راستے کھول دیتی ہے، دعاؤں کا حصار اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی پرانی بددعا کے اثر کو زائل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
قلم کی حرمت بھی اسی میں ہے کہ وہ لوگوں کو خوف سے نکال کر اصلاح اور تلافی کی طرف مائل کرے۔
کیا معافی مانگ لینے سے بددعا کا اثر واقعی ختم ہو جاتا ہے یا انسان کو اس کا خمیازہ ہر صورت بھگتنا پڑتا ہے؟
انسانی زندگی کے پیچیدہ ترین سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی جگہ سچا اور بے گناہ ہے، تو پھر کیوں ایسا ہوتا ہے کہ اسے مسلسل ناکامیوں، بیماریوں یا آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
عام طور پر معاشرے میں اسے 'بددعا کا اثر' قرار دے کر اس شخص کی زندگی کو مزید بوجھل بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ عدلِ الہیٰ اور کائناتی قوانین اتنے کمزور نہیں کہ وہ کسی بے گناہ کو کسی دوسرے کی ناحق آہ کا شکار بننے دیں۔
روحانی دانشوروں اور مذہبی مفکرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ 'ناحق بددعا' کبھی اپنا ہدف حاصل نہیں کرتی۔ یہ بالکل اس boomerang (بومرینگ) کی طرح ہے جو فضا میں چکر کاٹ کر واپس پھینکنے والے کی طرف پلٹ آتی ہے۔
اگر آپ بے گناہ ہیں اور کسی نے غصے، حسد یا غلط فہمی کی بنیاد پر آپ کو بددعا دی ہے، تو کائناتی نظام اسے 'رد' (Reflect) کر دیتا ہے۔
تو پھر تعاقب کس چیز کا ہے؟
اگر بددعا اثر نہیں کر رہی، تو پھر بے گناہ انسان کی زندگی میں مشکلات کا سلسلہ ختم کیوں نہیں ہوتا؟
اس کے پیچھے چند گہرے سماجی اور نفسیاتی عوامل ہو سکتے ہیں۔
ہر مشکل 'بددعا' نہیں ہوتی۔ بعض اوقات زندگی کا کٹھن دور انسان کی تربیت اور اسے کسی بڑے مقام کے لیے تیار کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ سونے کو کندن بننے کے لیے آگ سے گزرنا پڑتا ہے، اسے بددعا نہیں بلکہ 'ارتقا' کہنا چاہیے۔
جب ایک بے گناہ انسان یہ سن لیتا ہے کہ اسے کسی نے بددعا دی ہے، تو وہ لاشعوری طور پر 'خوف کی گرفت' میں آ جاتا ہے۔ اب وہ اپنی ہر چھوٹی ناکامی کو اس بددعا سے جوڑنے لگتا ہے۔ یہ وہم اس کے اعتماد کو ختم کر دیتا ہے، اور وہ اپنی ہی منفی سوچ کے تعاقب کا شکار ہو جاتا ہے۔
معاشرہ اکثر کسی کی مسلسل بدقسمتی کو دیکھ کر خود ہی یہ فیصلہ سنا دیتا ہے کہ "ضرور اس نے کسی کا دل دکھایا ہوگا"۔ یہ رویہ بے گناہ انسان کو نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتا ہے، جس سے اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور مشکلات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔
بددعا کے تعاقب کا تصور بعض اوقات 'وراثتی گناہوں' یا 'خاندانی بوجھ' سے بھی جوڑا جاتا ہے، لیکن عدل کا تقاضا یہی ہے کہ بوجھ اسی کا ہے جس نے عمل کیا۔
اگر آپ کا ضمیر مطمئن ہے اور آپ کا ہاتھ کسی کے خون یا مال سے رنگین نہیں، تو کائنات کی کوئی طاقت آپ کو مستقل طور پر نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اگر آپ بے گناہ ہیں اور پھر بھی محسوس کرتے ہیں کہ حالات آپ کے حق میں نہیں، تو یاد رکھیں کہ "مظلوم کی دعا اور ظالم کی بددعا کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا"، لیکن یہ اصول صرف حق کے لیے ہے۔
ایک بے گناہ کے لیے بددعا نہیں، بلکہ خدا کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے جو اسے گرنے تو دیتا ہے مگر ٹوٹنے نہیں دیتا۔
اپنے ضمیر کی عدالت میں سرخرو رہیں، کیونکہ ضمیر کا سکون ہی وہ واحد حصار ہے جو ہر قسم کی منفی توانائی اور ناحق آہ کو بے اثر کر دیتا ہے۔ تعاقب بددعا کا نہیں، بلکہ ہماری اپنی کمزور ہمتی کا ہوتا ہے۔
جس دن ہم نے اس خوف کو جھٹک دیا، اسی دن سے کامیابی کے بند دروازے کھلنا شروع ہو جائیں گے۔

Comments